۔ 1948 کی پہلی کشمیر جنگ میں پاک فوج نے بھارتی جارح فوج کے جبڑوں سے کشمیر کا کچھ علاقہ آزاد کروایا

0
185
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آرمی ان دی لائن آف فائر
۔ 1948 کی پہلی کشمیر جنگ میں پاک فوج نے بھارتی جارح فوج کے جبڑوں سے کشمیر کا کچھ علاقہ آزاد کروایا۔1965 میں پاک آرمی نے آپریشن جبرالٹر کے نام سے کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا، ہماری فوجوںنے چھمب جوڑیاں کی طرف فاتحانہ پیش قدمی کی تو بھارت نے بین الاقوامی سرحدوں کوپامال کرتے ہوئے لاہور اور سیالکوٹ بارڈر پر چوروں کی طرح حملہ کر دیا، بھارتی میڈیا نے خبریں نشر کر دیں کہ اس نے قصور پر قبضہ کر لیا ہے، لاہور میں اس کی فوج داخل ہو گئی ہے اور سیالکوٹ گوجرانوالہ کے درمیان سے جی ٹی روڈ کو کاٹ دیا گیا ہے۔پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ بھارت سراسر جھوٹ بول رہا تھا۔یہ بھارت کی بڑی شکست نہیں تو چھوٹی شکست ضرور تھی کہ وہ پاکستان پر قبضے کے نا پاک عزائم کی تکمیل نہ کر سکا۔اسی جنگ سے پہلے سر کریک میں بھارتی فوج کو پاک فوج نے ایسا پچھاڑا کہ شاستری کو دھمکی دینا پڑی کہ اب وہ اپنی پسند کا محاذ کھولیں گے۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
کھیم کرن، لاہور اور سیالکوٹ میں اپنی پسند کے محاذوں پر بھارتی فوج کا غرور چکنا چور کر دیا گیا۔1971میں بھارت نے مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت کروائی، پیسے اور پراپیگنڈے کے زور پر پاکستانی دانشوروں کو پاک فوج کے خلاف بھڑکایا ، انہی دانش وروں کو بنگلہ دیش اب تمغے عنائت کر رہا ہے اور بھارت میں ان کی آﺅ بھگت کی جاتی ہے۔مشرقی پاکستان الگ کرو ادیا گیا اور پاک فوج کو تاریخ کا پہلا سرنڈر کرنا پڑا۔مگر آئندہ کے لئے اس خجالت سے بچنے کے لئے پاک فوج نے ایٹمی صلاحیت کو اس قدر پروان چڑھا لیا کہ اب بھارت کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں ہو سکتی۔1986،,2002 2008 میں بھارت نے پاکستان پر چڑھائی کا بار بار ارادہ کیا ۔ کاش ! بھارت دلیری کا مظاہرہ کرتا اور اس بات کا فیصلہ ہو جاتا کہ بر صغیر میں جارح کا حشر اور انجام کیا ہوتا ہے۔ہم تو نہ ہوتے لیکن دنیا بھارت کی تباہی کا نظارہ ضرور کرتی۔اور ہر قوم آنے والی نسلوں کو بھی خبر دار کر دیتی کہ کسی کو کمزور اور حقیر نہ سمجھا جائے۔1984 کے موسم بہار میں بھارت نے دنیا کے بلند تریں مقام پر جارحانہ پیش قدمی کی اور سیاچین پر قبضہ جما لیا، اس کا خیال تھا کہ وہ اس علاقے کو بیس کیمپ بنا کر پاکستان اور چین کوملانے والی شاہراہ ریشم کو کاٹ کر رکھ دے گا۔پاکستان کے شیر دل جوان ا ور افسر 1984 سے کٹ مر رہے ہیں لیکن انہوں نے دنیا کی بلند تریں شاہراہ دوستی کو کاٹنے کا سہاناخواب، بھارت کے لئے ڈراﺅنے خواب میں بدل دیا۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
2002 کے بعد سے دنیا وار آن ٹیرر کی زد میں ہے۔ہمارے پڑوس کابل میں نیٹو اور امریکہ کی متحدہ افواج شکست کے بدنما داغ کے ساتھ علاقے سے رخصت ہونے والی ہیں ،لیکن پاک فوج دہشت گردی کے سامنے سینہ سپر دکھائی دیتی ہے۔
کیا دنیا بھر کی ایجنسیوں کو پاکستان میں کھل کھیلنے کی ا جازت دے دی جائے کہ وہ ہمارے ہی شہریوں کی برین واشنگ کر کے ہماری ہی سیکورٹی کے لئے خطرہ بن جائیں۔مشرقی پاکستان میں کیا مکتی باہنی کو کھلی چھٹی دے دی جاتی، کیا بلوچ لبریشن آرمی کو پاکستان کی سلامتی پر چڑھائی کی کھلی چھٹی ملنی چاہئے۔کیا امریکہ اپنے اور دنیا بھر کے شہریوں کے فون ، ای میل پیغامات کو ہیک نہیں کرتا، کیا یہ ڈاکہ نہیں ہے ، کیا یہ ہماری نجی زندگی کے لئے خطرہ نہیں ہے۔کیا یہ ااقوام عالم کے اقتدارا علی پرڈاکہ نہیں ہے؟؟؟ہم نے کبھی اسے تو چیلنج نہیں کیا۔ اپنی فوج کو اتنا ہی برا کہو جتنی یہ بری ہے اور اسے اتنا ہی اچھا سمجھو، جتنے خود ہم اچھے ہیں۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here