یہ کابل خیل وزیر ہیں

0
178

پکتیا میں مارے جانے والے لوگ ملک شاہی (لوکل زبان میں ملک شی) ہیں۔
یہ کابل خیل وزیر ہیں۔
مارے جانے والوں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد شامل ہیں اور کل آٹھ افراد کو قتل کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کے چارے بچے ہیں جن کے سامنے اس کو گولیاں ماری گئیں۔

یہ ایک چھوٹا سا قبیلہ ہے اور پاکستانی علاقے شیواہ جو کوہاٹ اور شمالی وزیرستان کے بیچ پڑتا ہے وہاں آباد ہوتے ہیں۔ ان کی کچھ تعداد بارڈر کے پار بھی آباد ہے۔ یہ لوگ کراچی میں چھوٹی موٹی نوکریاں، کاروبار اور دکانیں وغیرہ کرتے ہیں۔

ان کی طرح اور بھی بہت سی اقوام پاک افغان سرحد کے آرپار آباد ہیں مثال کے طور پر محسود شمن خیل لوگر میں آباد ہیں اور ادھر جنوبی میں بھی۔ اسی طرح شکئ اور وانا کے لوگ بھی آر پار آباد ہیں۔

ان بےچاروں کو شناختی کارڈ کی مصیبت دونوں طرف پڑتی ہے۔ تاہم حالیہ واقعے میں مارے جانے والے پاکستانی ہی تھے جو اپنے معمول کے مطابق سرحد پار گئے تھے۔

افغان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پاکستانی پشتونوں کے لیے اتنی جارح ہے کہ کچھ دن پہلے انہوں نے پاکستانی طلباء کے لیے داخلوں کا اعلان کیا تھا جس کی محسن داؤڑ نے بہت حمایت کی تھی۔ کچھ لڑکے ان داخلوں کے جھانسے میں فاٹا سے افغانستان گئے اور ان کو زرمت کے علاقے سے افغان اینٹلی جنس نے غائب کر دیا۔

ان پر بھی افغان حکومت اور پی ٹی ایم دونوں خاموشن ہیں۔

حالیہ واقعے کو پی ٹی ایم اور افغان حکومت دونوں کور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغان حکومت یہ دعوی کرنے لگی ہے کہ ان کے ساتھ ہم نے 18 طالبان بھی مارے ہیں جن کو انہوں نے پناہ دی تھی۔ یہ لوگ کولیٹرل ڈیمیج میں یعنی غلطی سے مارے گئے ہیں۔

اس پر تمام لبرلز اور پی ٹی ایم کے تمام بڑے خاموش ہیں۔ منظور پشتین نے اپنی کل کی پوسٹ میں اس پر صرف ایک سطری مذمت لکھی تھی جس کی آج وہ جگہ جگہ صفایاں دے رہا ہے۔

پی ٹی ایم کے منصف مزاج لوگ اس دوغلی پالیسی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

پکتیا میں قتل ہونے والے مقتولوں کے نام اور کام

۔ 1 اشرافودین
۔ 2 ازاد میر
یہ دونوں اپس میں بھائ تھے۔ ایک دکاندار تھا اور دوسرا کراچی میں ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔

۔ 3 سرورجان
۔ 4 رافت اللہ
یہ بھی دونوں بھی آپس میں بھائی تھے۔
ایک پرچون کی دکان پر ہیلپر تھا اور دوسرہ آٹا پسانے والے کے ساتھ کام کر رہا تھا,۔

۔5 رایپ خان
۔6 شن کائی
یہ دونوں پہاڑ میں لکڑی کاٹنے کا کام کرتے تھے۔

۔7 شیرخان
یہ ایک گاڑی کا ڈرئیوار تھا
۔8 غافر
مقامیوں کے مطابق یہ ایک انتہائی عاجز اور سادہ سا انسان تھا۔ تبلیع والوں کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات تھے۔

پوری پی ٹی ایم اس وقت ان آٹھوں کو دہشت گرد اور افغانی ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اس کے لیے نئی نئی کہانیاں گڑی جا رہی ہیں۔
میں چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی مائی کا لال ان میں سے کسی ایک کو دہشت گرد ثابت کر دے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here