یہ پابندی آئی ایس آئی کے مطالبے پر لگائی گئی تھی۔

0
416

امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں امریکی ریڈیو چینل مشعال کی نشریات پر عائد کی جانے والی پابندی ہٹائی جائے۔

یہ پابندی آئی ایس آئی کے مطالبے پر لگائی گئی تھی۔ آئی ایس آئی نے مختلف پروگراموں کی تفصیلات مہیا کیں جن سے واضح ہوا کہ یہ امریکی ریڈیو چینلز پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں اور ملک میں لسانی بنیادوں پر جھگڑا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

امریکہ کو اپنی آواز قرار دینے والے یاد رکھیں کہ

یہاں جنگ برپا کرنے والا امریکہ تھا

جنگ کی آگ کو فاٹا اور پھر پاکستان بھر میں پھیلانے والا امریکہ تھا

اس آگ کو اپنے لہو سے بجھانے والی البتہ پاک فوج ہے

پشتونوں پر بے دریغ ڈرون حملے کرنے والا بھی امریکہ

فاٹا اور کے پی کے میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والا بھی امریکہ

اور تو اور جس “ایف سی آر” کی بنا پر بی بی سی فاٹا میں احساس محرومی پیدا کرنی کی کوشش کر رہی ہے وہ قانون بنانے والے بھی یہی تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 🙂

پشتونوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ امریکہ کی اس جنگ کا نشانہ پشتون ہیں۔

پشتونوں کو آگ و خون میں نہلانے والا امریکہ آج کمال ڈھٹائی سے پشتونوں کا ہمدرد بن کر انہیں یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ تمھاری بقا کی جنگ لڑنے والی فوج ہی تمھاری دشمن ہےاور ہم تمھارے دوست۔

کچھ لوگوں نے اس بات پر یقین کر لیا ہے تاہم وہ یہ نہیں سوچنا چاہتے کہ

امریکہ اچانک پشتونوں کا خیر خواہ کیوں اور کیسے بن گیا؟

اور یہ کہ پاکستان کو شکست دینے کے بعد پشتونوں کو کن کے حوالے کیا جائیگا؟

افغانستان یا کسی اور کے؟

میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستان میں بی بی سی، وائس آٖ امریکہ، مشعال اور ڈیوا سمیت پاکستان کے خلاف پراپگینڈا کرنے والے تمام چینلز پر پابندی عائد کی جائے۔

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔۔۔ کچھ دوستوں کے مطابق حکومت نے نشریات بند نہیں کی ہے اور کوئی علاقوں میں چل رہی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو شرم آنی چاہئے حکومت کو اور فوری طور پر نشریات بند کر دینی چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here