یہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز یعنی لمز کی ایک اور ویڈیو

0
79

یہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز یعنی لمز کی ایک اور ویڈیو منظر عام پرآی ہے جس میں یہ یونیورسٹی سے زیادہ کوئی مغربی دنیا کا ڈسکو معلوم ہوتا ہے.

یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے لنڈے کے لبرلز وہ کام کرنے پر تلے بیٹھے ہیں جو مغربی دنیا میں بھی نہیں ہوتے. یعنی گورے سے بڑھ کر گورے بننا چاہتے ہیں. یا یوں کہیں کہ شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار.

مغربی دنیا میں ڈسکو بھی ہوتے ہیں اور شراب خانے بھی مگر وہاں کی شاید ہی کوئی یونیورسٹی ہو جہاں پڑھائی کے بجاے طلبہ طالبات ناچنے گانے میں مصروف نظر اتے ہوں.

چند بیکن ہاؤس اسکول کے کراے کے ٹٹوکہتے ہیں کہ لمز اور دوسری اس قسم کے اداروں کا بیکن ہاؤس سے کیا تعلق. یہ نسل جو لمز میں ناچتی نظر آرہی ہے دراصل بیکن ہاؤس اسکول اور اسی قسم کے سکولوں سے ہی پڑھ کر، یا یوں کہیں کہ برباد ہوکر، نکلی ہے اور جس بربادی کی بنیاد بیکن ہاؤس جیسے سکولز ڈالتے ہے اس کی تکمیل لمز جسے ادارے کرتے ہیں.

اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ دو طرح کہ شدت پسندوں کے شر سے برباد ہو رہا ہے. ایک وہ طبقہ جو مذہب کے نام پرقتل غارت کرتا ہے جیسا ہم نے مشعل خان والے میں دیکھا. اور دوسرا طبقہ وہ لنڈے کے لبرلز کا ہے جو مشعل خان والے واقعہ اور اس میں ملوث لوگوں کی مذمّت کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ فرماتے ہیں کہ یونیورسٹیز میں اس قتل غارت سے بہتر تو ناچ گانا ہے.

یہ لنڈے کے لبرلز کسی بھی دہشت گرد سے زیادہ خطرناک ہیں اور اس ففتھ جنریشن وار کا حصّہ ہیں جو دشمن میلوں دور بیٹھ کر پاکستان کے خلاف لڑ رہا ہے. یہ زہر اتنا خطرناک ہے کہ اس کی لپیٹ میں پورا معاشرہ آرہا ہے اور نچلا طبقہ نام نہاد ‘اونچے’ طبقے کی تقلید کرتے ہوے یہ ہی کلچر اپناتا ہے.

نتیجہ ہمارے سامنے ہے جیسا کچھ عرصے پہلے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور کی ایک طلبہ کی یونیورسٹی کی اندر خود کشی کی صورت میں ہم نے دیکھا.

بیکن ہاؤس اور لمز جیسے اداروں میں ہمارے معاشرے کی اقدار اور کلچر کو برباد کرنے کا جو زہریلا کھل کھیلا جا رہا ہے اس کو فوری بند ہونا چاہیے. مگر اس حکومت سے کوئی توقع نہیں. تو پھرکیا ریاست یہ کام کریگی؟

(عبدل متین) 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here