یہ غُنڈی رن نظر آنے والی عورت غریدہ فاروقی ہے

0
513

یہ غُنڈی رن نظر آنے والی عورت غریدہ فاروقی ہے
ملتان کے ایک غریب اور متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی, آپ آج بھی اس کے آبائی گھر کا رخ کریں تو انتہائی تنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے ایک چھوٹا سا گھر آتا ہے, ان گلیوں سے گزرتے ہوئے آپ کو لاہور کے شاہی محلے کی گلیوں کا گمان ہو گا, آج بھی اس کے آوارہ بھائی کانوں میں بالیاں ڈالے،لمبے بال اور منہ میں پان دبائے “باجی کی کمائی” پر پلتے ہوئے ملیں گے, غریدہ فاروقی کچھ عرصہ مقامی سکول میں بچوں کوپڑھاتی بھی رہی مگر بعدازاں معروف سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کی طرح ملتان سے آنکھوں میں حسین خواب سجائے “ہر قیمت پر” پردۂ سکرین پر شہرت کی بلندیوں کو چھونے کا عزم لئے لاہور کا سفر کیا, صورت اور فِگر اچھا ہو, اور عورت دل کی بھی “سخی” ہو تو “لاہور ” اسے ہاتھوں ہاتھ لیتا ہے, بلکہ بار بار لیتا ہے, بلکہ ہزار بار لیتا ہے, اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا, غریدہ کو “لاہور” راس آ گیا, یہاں اس نے نیوز کاسٹر سے اپنے کیرئر کا آغاز کیا

گزشتہ ایک دہائی سے نیوز کاسٹر رہنے کے بعد 2014 کے دھرنے میں رپوٹنگ کے دوران عحیب و غریب اور چھچھوری حرکات کی وجہ سے میڈیا کی توجہ حاصل کی, اور پھر پروگرام لینے میں کامیاب ہو گئی, کراچی میں جس چینل پے پروگرام کا آغاز کیا وہ پروگرام تو مشہور نہ ہوسکا مگر پورے چینل میں غریدہ کے رویے نے شہرت حاصل کر لی, یہ شہرت کوئی نیک نامی والی نہیں تھی بلکہ بہت بری تھی, جس کی بنیادی وجہ موصوفہ کا غیر اخلاقی رویہ تھا, پنجابی میں اسے “تھوڑے میں بوہتا وَڑ جانا” کہتے ہیں, غیر اخلاقی اس لیے کہہ رہا ہوں کہ انسانیت تو دوسروں کے ساتھ پیار اوراحترام سیکھاتی ہے مگر اینکر صاحبہ کے پاس اس طرح کی تہذیب نام کی کوئی شے نہ تھی

یا شائد اس کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی ہو جہاں صرف اپنے کام سے مطلب ہو انسان کی کوئی قدر نہ ہوتی ہو, گھریلو ماحول اور تربیت کا بھی انسان کی شخصیت پر بڑا اثر ہوتا ہے جسیے تیسے کر کے بندہ اچھے ماحول میں آ بھی جائے مگر کہیں نہ کہیں انسان اپنی اصلیت دکھا ہی دیتا ہے, اینکر صاحبہ نے ایسی اصلیت دکھائی کہ پورا کا پورا چینل سٹاف ان کے نفسیاتی رویے سے تنگ تھا

اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب اس نے چینل چھوڑا توتمام سٹاف نے میٹھایاں تقسیم کیں, اور خدا کا شکر ادا کیا, 2015 میں “خصوصی سفارش” پر اس نے ایکسپریس نیوز جوائن کیا اور لاہور سے “جی فار غریدہ” کے نام سے پروگرام شروع کیا, لاہور میں رہنے کے لیئے اس کے پاس نہ گھر تھا اور نہ ہی وسائل, عارضی طور پر ادارے کی جانب سے رہائش کے لیے ادارے کا گیسٹ ہاؤس دیا گیا, جو صرف کراچی یا اسلام آباد سے آنے والے مہمانوں کے لیئے مختص تھا, مگر محترمہ تو 2 کمروں کا سامان لے آئیں جیسے دلہن سسرال بیاہ کر آئی ہو, نئی نویلی دلہن کی طرح ان کے نخرے تو ساتویں آسمان پر تھے, اور وہ تھی بھی دلہن, مگر دولہا ہر دوسرے دن نیا ہوتا تھا 

کیوں نہ ہوتے ، اتنے بڑے چینل میں پرائم ٹائم کا شو اور پھر سونے پہ سہاگہ کہ تخواہ بھی اتنی کہ زندگی میں اس کے بزرگوں نے بھی اتنی رقم یکمشت نہ دیکھی ہو, ذہنی مریضہ تو وہ پہلے سے ہی تھی مگر اچانک اتنی شہرت ،دولت،اور پروٹوکول دیکھ کے دماغ بالکل ہی کام کرنا چھوڑ گیا, اور موصوفہ تکبر کے اس اوج پر پہنچ گئی کہ خدا کے قہر کے علاوہ میڈیا کے پاس کم از کم اس کا علاج نہیں تھا, اسی وجہ سے گزشتہ ڈھائی سالوں میں اس نے 26 پروڈیوسرز کو ذلیل خوار کر کے نکالا ۔

اگر ہر ایک کے ساتھ ہونے والے اس کے ناروا سلوک کا ذکر کیا جائے تو مجھے ڈر ہے کہ کوئی انسانی تذلیل کا سن کے غریدہ فاروقی کے خلاف انتہائی اقدام نہ اٹھا لے, انتظامیہ نےحیلے بہانوں سے چینل کا گیسٹ ہاؤس خالی کروایا تو گیسٹ ہاؤس کےملازمین نے خدا کا شکر ادا کیا اور موصوفہ بحریہ ٹاون میں پہلے 5 مرلے اور بعد ازاں ایک کنال کے گھر میں منتقل ہو گئیں, آپ سوچ رہے ہوں گے کہ موصوفہ شادی شدہ تھیں یا نہیں۔۔۔ بلکل نہیں۔۔۔!!!۔ 

ابھی باضابطہ شادی نہیں ہوئی تھی تاہم اکژ رات گئے دلہن کی طرح ساڑھی پہنے بناؤ سنگار کرکےخود کو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر گھنٹوں خود سے باتیں کرتی, اور اکیلے سج سنور کے گھر میں گھومتی رہتی, غریدہ فاروقی جس گھر میں منتقل ہوئی اس کی بھی ایک سٹوری ہے, لیکن بھر کسی دن ذکر کریں گے کہ موصوفہ کا مہربان کون کون ہے, اور اتنی نوازشات کیوں ہو رہی ہیں
#ابھی_تو_پارٹی_شروع_ہوئی_ہے 😂

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here