یہ شائد ہندوستانی تاریخ کا واحد حکمران تھا جس نے مسلمانوں کی آمد سے قبل پورے ہندوستان پر حکومت کی۔

0
628

چانکیہ پالیسی اور پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

ڈھائی ہزار سال قبل ہندوستان میں ایک مشہور بادشاہ گزرا جسکو تاریخ چندر گپت موریا کے نام سے جانتی ہے۔ انڈیا کا مشہور فاتح اشوکا اسی کا پوتا تھا۔

یہ شائد ہندوستانی تاریخ کا واحد حکمران تھا جس نے مسلمانوں کی آمد سے قبل پورے ہندوستان پر حکومت کی۔

موریا کی اس کامیابی کی وجہ صرف اسکی بہادری نہیں تھی بلکہ اسکا ایک بے مثل وزیر بھی تھا جو ذہانت و مکاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔

اس وزیر کو تاریخ چانکیہ کے نام سے جانتی ہے۔

چانکیہ اپنے وقت کا ایک عظیم مدبر، سیاست دان، فلسفی اور نہایت سازشی ذہن رکھنے والا شخص تھا جو موریا کو ریاستیں زیر کرنے اور ملک چلانے کے گر سکھایا کرتا تھا۔

چانکیہ نے ایک نہایت اعلی کتاب بھی لکھی جس کو ارتھ شاستر کہتے ہیں۔ اس کتاب میں معاشیات ، سیاسیات اور سماجیات وغیرہ کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔
لیکن اس کتاب کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جہاں وہ دیگر ممالک کے ساتھ معاملات چلانے کے اصول بیان کرتا ہے۔

آپ نے اکثر ہندو کی “چانکیہ پالیسی” اصطلاح سنی ہوگی۔ آج ذرا مختصراً اسکو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ چانکیہ پالیسی ہے کیا اور اس کو پاکستان کے خلاف کیسے استعمال کیا جا رہا ہے۔

چانکیہ کی اس بدنام زمانہ پالیسی کے پانچ اہم نقاط ہیں۔

1 ۔۔۔۔ ہمسائے کو ہڑپ کرنا ہو تو پہلے اس سے دوستی کرو تاکہ اسکے گھر میں گھسنے کا موقع ملے۔

امن کی آشا، پاک انڈیا تجارت، پاک انڈیا دوستی، پاک انڈیا مزاکرات کا کھیل، جیو و جنگ گروپ اور نوازشریف، اسفندیارولی، اچکزئی اور فضل الرحمن جیسے سیاستدانوں کی شکل میں انڈیا پاکستان کے اندر گھس چکا ہے۔

2 ۔۔۔۔۔ دشمن کے گھر میں گھسنے بعد وہاں لوگوں کو خریدو۔ بکنے والے دنیا کی ہر قوم میں مل جاتے ہیں۔

نواز شریف پر انڈیا اپنی سرمایہ کاری کا باقاعدہ اعلان کر چکا ہے۔
اسفندیارولی اور محمود اچکزئی آج بھی کانگریسی ہیں اور اپنا قبلہ انڈیا کو ہی مانتے ہیں۔ اسفندیار ولی انڈیا جاتا ہے تو اسکو وہاں فور سٹار جرنیل ریسیور کرتے ہیں۔
فضل الرحمن کی زبان سے کبھی انڈیا کے خلاف ایک لفظ تک نہیں نکلتا۔ آپ نوٹ کیجیے یہ منافق شخص ہر دوسرے تیسرے کو یہودی ایجنٹ تو کہہ دیتا ہے لیکن کبھی غلطی سے بھی کسی کو انڈین ایجنٹ نہیں کہا کیوں؟

ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ایم کیو ایم اور اب جماعت لااحرار کا ثابت ہے کہ انڈین فنڈنگز پر چلتی ہیں۔ انڈیا میں ہی انکی کمانڈ اینڈ کنٹرول ہے۔

جنگ گروپ اور جیو میں انڈین سرمایہ کاری سپریم کورٹ میں ثابت ہوئی جس کو افتخار چودھری نامی مردود نے درست قرار دے دیا تھا۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے قوم پرستوں کی اکثریت انڈیا کے پے رول پر ہے۔ چند ایک تو باقاعدہ انڈیا جا کر وہاں کی شہریت بھی حاصل کر چکے ہیں۔

3 ۔۔۔۔ خریدے گئے لوگوں کے ذریعے وہاں بغاوتیں، شورشیں اور جھگڑے پیدا کرو۔

ٹی ٹی پی، جماعت الحرار یا داعش، بی ایل اے اور ایم کیو ایم اس وقت باقاعدہ پاکستان کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔ نہ صرف پاک فوج پر حملہ آؤر ہیں بلکہ پاکستان کی سٹریٹیجک دفاعی تنصیبات پر بھی حملے کر رہی ہیں۔

شعیہ سنی اور دیوبندی بریلوی جنگ بھی کروانے کی کوشش کرتی ہیں۔

ایم کیو ایم کراچی میں مہاجر پشتون جنگ کرواتی رہی ہے۔ ان کے لیڈر الطاف حسین نے کھل کر پاکستان کے خلاف انڈیا سے مدد طلب کی۔

نواز شریف پاکستان کو معاشی طور پر تقریباً ختم کر چکا ہے۔
پاکستان کی صنعتی اور زرعی پیداور برباد کر دی گئی ہیں۔
تجاری خسارے اور بیرونی قرضے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اگلے چند ماہ میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی پیشن گوئی کی جا رہی ہے۔
توانائی کے تمام بڑے منصوبے ناکام بنائے جا چکے ہیں۔
معیشت کے لیے قرضوں اور بجلی کے لیے تیل کا مصنوعی سہارا رہ گیا ہے۔
پاکستان کی واحد امید سی پیک کے حوالے سے کچھ ایسے مشکوک معاہدے کیے گئے ہیں جنکو چھپایا جا رہا ہے۔
سفاری محاذ پر سفیر ہی نہیں رکھا جس نے کشمیر، کلبھوشن اور ڈیموں سمیت کئی معاملات پر پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان دیا۔
کل بھوشن پر خاموش ہے لیکن حافظ سعید پر پوری دنیا میں چیخ رہا ہے۔
نواز شریف نے ان چار سالوں میں پاکستان کو جتنا نقصان دیا وہ دہشت گردوں نے پندرہ سال میں جنگ کر کے بھی نہیں دیا۔

اسفند یار ولی کا کنٹرول کے پی کے کے تقریباً تمام بڑے تعلیمی اداروں پر ہے۔ جہاں پڑھنے والے بچوں کی اکثریت کو نظریہ پاکستان کا باغی، قوم پرست بنا کر پاکستانی وحدت کے خلاف ابھارا جاتا ہے۔

اسفند یار ولی اور اسکی جماعت نے پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھنے والا کالا باغ ڈیم نہیں بنانے دیا۔ صرف اس ایک ڈیم کے نہ بننے سے پاکستان کو پہنچنے والا کل نقصان پاکستان کے کل قرضے سے زیادہ ہے۔

فضل الرحمن کا کنٹرول مدارس پر ہے۔ جہاں ایسے ایسے نادر روزگار علماء تیار کیے جا رہے ہیں جو آج بھی قیام پاکستان کو غلطی قرار دیتے ہیں اور ان کے جلسوں میں ” پاکستان زندہ باد ” کا نعرہ تک نہیں لگایا جاتا۔
یہ دہشت گردوں شہید اور پاک فوج کو مردار قرار دیتے رہے۔

پاکستان دشمنی میں ایک دوسرے کے قریب آنے والے انڈیا اور اسرائیل کا اس وقت انڈیا میں ایک خاص اکٹھ ہوا ہے جس میں شرکت کرنے محمود اچکزئی خصوصی طور پر انڈیا پہنچا۔ پاکستان کے خلاف کیا کیا طے کیا گیا یہ شائد آنے والے دنوں میں واضح ہوجائے۔

اس شخص نے اب تک کم از کم ایک لاکھ افغانیوں کو پاکستانی شناختی کارڈ بنوا کر دئیے۔ کے پی کے کو پاکستان کو حصہ نہیں سمجھتا اور ” پاکستان زندہ باد ” کا نعرہ لگانے والے پشتونوں کو بے غیرت قرار دیتا ہے۔

جیو اور جنگ گروپ مسلسل ہمارے نظریات، شعائر اسلام، قومی شناخت اور قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہے۔ اس سے آپ خوب واقف ہونگے۔

4 ۔۔۔۔۔ ہمسائے کو کھانے کے لیے ہمسائے کے ہمسائے سے دوستی کرو۔

انڈیا پاکستان کو کھانے کے لیے افغانستان، ایران اور روس وغیرہ سے دوستی کر رہا ہے۔

پاکستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی کے لیے انڈیا افغانستان کی زمین استعمال کر رہا ہے۔ افغانستان کی زمین سے ہونے والی یہ پراکسی جنگ پاکستان کے خلاف انڈیا کی باقاعدہ جنگوں سے زیادہ نقصان ہمیں پہنچا چکی ہے۔

ایران کے ساتھ ملکر انڈیا نے نہ صرف چابہار بندرگاہ بنائی تاکہ سی پیک کا متبادل چین کو فراہم کیا جا سکے بلکہ افغانستان کو پاکستان کی ضرورت سے آزاد کرنے کے لیے ایک نیا روٹ بھی دیا۔ کل بھوشن بھی ایران ہی سے آپریٹ کرتا رہا۔

روس نے 71ء کی جنگ میں پاکستان کے خلاف انڈیا کے ساتھ معاہدہ کیا اور بنگلہ دیش میں اسکو اینٹلی جنس مدد بھی فراہم کی۔ جسکی وجہ سے چین ہماری مدد نہ کر سکا اور پاکستان دو لخت ہوگیا۔

5 ۔۔۔۔۔۔ بغاوتوں، اندرونی خانہ جنگیوں اور اختلافات کی وجہ سے جب وہ ملک کافی حد تک کمزور ہو جائے تب اس پر پوری طاقت سے حملہ کردو۔

یہ پاکستان کے خلاف جنگ کا آخری فیز ہوگا جس کے انڈیا کئی دنوں سے اشارے بھی دے رہا ہے۔

انڈیا کی مشہور زمانہ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین اسی دن کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جس کے تحت انڈیا کی فوج کا بڑا حصہ جنکی تعداد 9 لاکھ سے زائد ہے سندھ کے قریب اپنی ڈپلوئمنٹس کررہی ہیں اور سڑکوں اور اسلحہ خانوں ، پلوں اور بنکروں وغیرہ کی تعمیر تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی ضرورت سے بہت زیادہ بڑی نیوی فوج بھی بنا رہا ہے تاکہ جب انڈیا کی باقاعدہ افواج سندھ سے داخل ہوں تو انکی نیوی فوری طور پر گوادر کو فتح کرکے اپنی فوج سے مل سکے اور یوں پاکستان سے سندھ کو کاٹ کر پاکستان کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے۔

مختلف رپورٹوں کے مطابق افغانستان میں داعش کے نام سے دہشت گردوں کی ایک بہت بڑی کھیپ تیار کی جا چکی ہے تاکہ جیسے ہی پاک فوج فاٹا خالی کر کے انڈین فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے سندھ کی طرف بڑھے تو وہ دہشت گرد دوبارہ فاٹا میں داخل ہوکر اس پر قابض ہوجائیں۔

فاٹا سے پاک فوج کے انخلاء کے لیے انڈیا اپنے اتحادی امریکہ کی مدد سے ” مشال اور ڈیوا” نامی ریڈیو چینلز کے ذریعے پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز پراپگینڈا بھی کر رہا ہے تاکہ وہاں قوم پرستی یا عصبیت کو فروغ دیا جا سکے۔

—————————————

یاد رکھیں بنگلہ دیش کو بھی بلکل انہی اصولوں پر توڑا گیا تھا۔

میری ذاتی رائے میں چانکیہ کو ففتھ جنریشن وار کا بانی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

نہایت تکلیف سے کہنا پڑتا ہے کہ انڈیا اپنی پالیسی میں بہت حد تک کامیاب ہے اور چانکیہ اپنے مرنے کے ڈھائی ہزار سال بعد بھی ہمیں تکلیف دے رہا ہے۔

چانکیہ کو ناکام کرنے کا طریقہ صرف وہ کلمہ ہے جو ہمیں چودہ سو سال پہلے عطا کیا گیا تھا۔

ہم لسانیت و قومیت کو بھول جائیں، متحد ہوجائیں اور اپنی مسلم شناخت پر ڈٹ جائیں۔

تو چانکیہ ہمیں دوبارہ نہیں توڑ پائیگا!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here