یہ سعودی عرب کا شہزادہ اور وہاں کی اینٹلیجنس کا سربراہ “بندر بن سلطان” ہے۔

0
319

یہ شخص میری نظر میں اس وقت دنیا کا سب سے خطرناک شخص ہے ۔ یہ جو کچھ کرتا ہے اور جو کر سکتا ہے اس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں ۔ بہت سے تو اسکے نام سے بھی واقف نہیں ہیں ۔۔۔۔!!!

یہ سعودی عرب کا شہزادہ اور وہاں کی اینٹلیجنس کا سربراہ “بندر بن سلطان” ہے۔

آئیے آپکو بتاتے ہیں کہ یہ کیوں خطرناک ترین ہے ۔

اس کو بش فیملی کے قریب ترین شخصیت مانا جاتا ہے اور اسکے بش سینیر اور جونیر دونوں سے اتنے گہرے تعلقات ہیں کہ اسکا نام امریکہ میں ” بش بندر ” رکھا گیا ہے ۔ یہ ڈک چینی کا بھی گہرا دوست ہے ۔ اسی نے ڈک چینی کے عراق کے خلاف حملے کو سپورٹ کیا تھا ۔ اس کے بچے آج بھی ڈک چینی کے بچوں کے ساتھ ایک ہی سکول میں پڑھتے ہیں ۔

۔ 1988 میں پین ایم 103 طیارے پر بمباری میں اسی نے امریکی مخالف معمر قضافی کو زبردستی انوالو قرار دیا تھا اور قضافی کو مسخرا کہا کرتا تھا ۔

۔ 2007 میں سیور ہرش نے ” نیویاکر میں رپورٹ لکھی تھی کہ شہرزادہ ڈک چینی اور بش سے مسلسل خفیہ ملاقاتیں جاری رکھے ہوئے ہے ۔

شام پر حملے سے روس نے امریکہ کو روکا تو اس نے روس کے کئی طوفانی دورے کیے تاکہ روس کو شام کے معاملے میں آمادہ کیا جا سکے لیکن اس میں یہ ناکام رہا تھا ۔۔

صرف ان چند حقائق سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ شخص کس قدر پرو امریکن ہے ۔۔۔

لیکن اب آپ کو ایک حیرت انگیز بات بتاتے ہیں ۔۔۔!!!

کیا آپ یقین کرینگے کہ یہی شخص دراصل القاعدہ کا سربراہ ہے اور دنیا بھر میں انکے آپریشنز کو کنٹرول کرتا ہے !!!

آپ کو کچھ اور حقائق بتاتے ہیں ۔

سب سے پہلے یہ القاعدہ کے معاملے میں ملا عمر صاحب اس وقت ملنے گیا جس اس نے القاعدہ کی تمام سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی ۔ یاد رہے کہ ملا عمر صاحب دنیا کی واحد شخصیت نے جس نے القاعدہ کو مکمل طور پر ڈی ایکٹیویٹ کر دیا تھا ۔

اس معاملے میں اس کی اور ملا عمر صاحب کی تلخ کلامی ہوئی تو اس نے انگلی اٹھا کر ملا عمر صاحب کردھمکی دی جس پر انکو اتنا غصہ آیا تھا کہ کمرے سے باہر نکل گئے اور سر پر گھڑے سے پانی انڈھیلا کیونکہ یہ اس وقت انکے مہمان تھے ۔

صدام کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو یہی سپورٹ کر رہا تھا اور وہی باغی آجکل عراق میں ایک خونریز فرقہ ورانہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ جنکو پوری دنیا میں القاعدہ کی کاروئیاں کہا جاتا ہے ۔ یاد رہے کہ عراق میں زیادہ تر جنگ امریکن فورسز کے خلاف نہیں بلکہ فرقہ ورانہ ہے ۔

اس نے امریکہ کی شام کو لبنان سے کاٹنے کی پالیسی کی سب سے بڑھ کر حمایت کی تاکہ حزب اللہ کے لیے شام کے راستے آنے والی ایرانی امداد کو روکا جا سکے جو اسرائیل کے لیے مشکلات کھڑی کر رہا ہے اور اس کے لیے اس نے عراق اور دنیا بھر سے بڑی تعداد میں جنگجو بھیجے ۔ اس کی کچھ ویڈیوز بھی دستیاب ہیں جن میں اس کے بندے باقاعدہ خودکش خریدنے کے لیے بولی لگاتے ہیں اور کئی کئی ملین ریال میں ایک ایک خود کش خریدا جاتا ہے تاکہ انکو شام بھیجا جا سکے ۔

شام میں کیمائی ہتھیار استعمال ہوئے تو روس نے ایسے شواہد پیش کیے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ وہ ہتھیار باغیوں نے ہی استعمال کیے تھے اور ان کو یہ ہتھیار فراہم کرنے والا یہی شہزادہ موصوف تھا ۔ مقصد یہ تھا کہ دنیا بھر کی ہمدردی حاصل کر کے امریکی حملے کے لیے راہ ہموار کی جا سکے ۔

جب یہ موصوف پیوٹن کو منانے روس گئے تھے تو وہاں اس نے روسی صدر کو محفوظ اولمپکس کی ضمانت دی تھی اور کہا تھا کہ “چیچنز جنگجو گروپوں کو بھی ہم ہی کنٹرول کرتے ہٰیں ” ۔۔۔ بدلے میں آپ شام والے معاملے سے پیچھے ہٹ جائیں۔!

امریکہ کے سب سے بڑے مخالف معمر قضافی کو شہید کروانے کے لیے جو باغی لڑ رہے تھے دنیا جانتی ہے کہ ان کا لیڈر ایک القاعدہ کمانڈر تھا اور یہ بات بھی بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ اس کمانڈر کو مسلسل ہدایات دینے والا یہی شہزادہ تھا ۔

اور آخر میں یہ جو کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی میں کچھ عرب دوست ممالک بھی ملوث ہیں تو ان سے مراد اسی شہزادے موصوف کی پاکستان میں جاری کرم فرمائیوں سے ہے ۔ یاد رہے کہ ٹی ٹی پی دراصل القاعدہ ہی ہے جس کو یہ کنٹرول کرتا ہے ۔ ٹی ٹی پی پر اس کے اثر کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ جب شام کے لیے جنگجوؤں کی ضرورت پڑی تو اسی کے اشارے پر پاکستان سے جنگجو شام لڑنے گئے تھے تاکہ امریکہ کو وہاں فتح دلائی جا سکے ۔۔

شہزادہ بندر بن سلطان کو سمجھنے کے بعد القاعدہ کی کاروائیوں کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں اور آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انکی کاروائیوں میں میں ہر بار امریکہ کیوں اپنا مفاد حاصل کر لیتا ہے اور ہر بار مسلمان ہی کیوں نقصان اٹھاتے ہیں۔ ۔۔۔۔

آج پھر اقبال یاد آرہے ہیں جس نے اس قسم کے عربوں کے لیے کہا تھا کہ ۔۔۔

“ھاشمی بیچ رہا ہے آبروئے دین مصطفی !!”

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here