یہ خفیہ تنظمیں ایسے لوگوں کو نشانہ بناتی ہیں جو چالاکی سے روزی کمانے کے شوقین ہوتے ہیں

0
379

فری میسن تنظیم پابندی کے باوجود نہایت غیر محسوس انداز میں پاکستان میں سرائت کرتی جا رہی ہے ۔ عامیر لیاقت ، عاصمہ جہانگیر ، وقار ذکاء ، میر شکیل الرحمن اور شہزاد رائے وغیرہ جیسے لوگ انکے ایجنٹ بن کر پاکستان میں ترقی پسندی اور روشن خیالی کے نام پر نہایت لغو، فحش اور قابل نفرت قسم کے کلچر کو پروموٹ کررہے ہیں اور نہایت بے معنی اور احمقانہ قسم کے کھیل تماشوں میں لوگوں کو الجھا رہے ہیں ۔

یہ خفیہ تنظمیں ایسے لوگوں کو نشانہ بناتی ہیں جو چالاکی سے روزی کمانے کے شوقین ہوتے ہیں ۔ عمومً یہ لا ابالی ، بے فکرے ، بے دھڑک اور اتنشار پسند قسم کے لوگ ہوتے ہیں جن کو وہ بڑی آسانی سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر لیتے ہیں ۔ ان لوگوں کی ذہینت اس قسم کی ہوتی ہے کہ ” اگر کہیں کچھ فساد ہو رہا ہے تو چلو اسکو اور ہوا دیتے ہیں کچھ ہلا گلا ہو ۔”

یہ لوگ اکثر محض اپنے تجسس سے مجبور ہوکر یا یہ سوچ کر ان تنظیموں میں شامل ہوتے ہیں کہ اس طرح وہ کوئی فائدہ حاصل کر لینگے ۔

ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جن پر جمہوریت ، آزادی اور لبرازم جیسے گمراہ کن، بے معنی اور غیر واضح تصورات کا کچھ زیادہ ہی زور ہوتا ہے اور انکے ذہنوں میں شیخ چلی جیسے منصوبے پنپ رہے ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے وہ بے بنیاد ، احمقانہ اور ناقابل عمل قسم کے منصوبے انکے سامنے پیش کرتے ہیں اور اکثر بدلے میں صرف تعریف کے بھوکے ہوتے ہیں ۔ زبانی تعریف کے معاملے میں یہ تنظمیں کبھی کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کرتیں
یہ خود فریبی میں مبتلا لوگ ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اور یہ سوچ انہوں نے کسی سے مستعار نہیں لی ہے جبکہ درحقیقت یہ خیالات انکے ذہنوں میں پیدا کیے جاتے ہیں اور پھر انکو آگے بھی بڑھایا جاتا ہے ۔

انہیں یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئیگی کہ اللہ نے انسان کے اندر حق و باطل میں فرق کرنے کا ایک پیمانہ مقرر کر رکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حق باطل سے الگ پہچانا جاتا ہے ۔ اور جب دونوں آپس میں ٹکراتے ہیں تو باطل پاش پاش ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ اسکے پیروکار بھی ۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here