یہ جنگ لڑنے سے بہتر نہیں کہ ان فتنوں کی جڑ شروع میں ہی کاٹ دی جائے ؟؟؟

0
182
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

پاکستان میں تعلیم کو جہالت کی طرح پھیلایا جا رہا ہے۔ یہ تعلیم اب ریاست کے خلاف باقاعدہ جنگ کر رہی ہے۔

غیر محسوس طریقے سے تعلیم کو ریاست کے کنٹرول سے نکال کر بتدریج نجی ہاتھوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ یعنی پرائویٹ سکولز اور مدارس۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کےذریعے صوبوں کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ اپنا نصاب خود طے کریں۔

اسکا نقصان کیا ہوا؟

نقصان یہ ہوا کہ سکولز بچوں کو لبرل انتہاء پسندی اور مدارس مذہبی انتہا پسندی کی طرف لے جانے لگے۔

سکولوں نے وقاص گورایا، ملالہ یوسف زئی اور مشال جیسے ملعونوں کو جنم دیا تو مدراس نے فضل اللہ، قاری ولی الرحمن اور بیت اللہ محسود پیدا کیے۔

نظریاتی اعتبار سے دو مختلف انتہاؤوں پر ہونے کے باؤجود دونوں میں ایک قدر مشترک ہے۔ دونوں ریاست کے لیے مہلک ہیں۔ دونوں ریاست کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ بلکہ باقاعدہ ریاست کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔

صوبوں کو نصاب بنانے کا اختیار دینا بھی کم مہلک نہ تھا۔

آپ نوٹ کیجیے صوبوں میں حکومتیں بنانے والی جماعتیں زیادہ تر قوم پرست ہوتی ہیں اور صوبائیت کو ہی استعمال کر کے ووٹ لیتی ہیں۔
یہ مرکز گریز جماعتیں نصاب بھی اپنے نظریات کو مد نظر رکھ کر ہی ترتیب دیتی ہیں۔ وہ نصاب پڑھنے والے بچے بالآخر ریاست سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ریاست ان کا حق ادا نہیں کر رہی۔

مثلاً ۔۔۔۔۔

بی ایل اے کو بلوچستان کےکالجز میں قوم پرستی کے نام پر منظم کیا گیا۔
ٹی ٹی پی کی اکثر بھرتی مدارس سے ہوئی۔
پاکستان کے خلاف نظریاتی جنگ لڑنے وال لبرل بیکن ھاؤس جیسے تعلیمی اداروں کی پیدوار ہیں۔
اے این پی جیسی پاکستان دشمن جماعت کا کل سہارا کے پی کے کی چند بڑی یونیورسٹیاں اور “پی ایس ایف” ہے جو ان کو ہر سال نئے کارکن دیتی ہے۔
فضل الرحمن کی سیاسی طاقت اس کے زیر اثر مدارس ہی ہیں۔
جماعت اسلامی کا کل انحصار اسکی سٹوڈنٹ یونین پر ہے۔
الطاف حسین اور ایم کیو ایم سٹوڈنٹ یونین ہی تھی جو اب ایک خوفناک عفریت کا روپ دھار چکی ہے۔
( ضیاء پر ایم کیو ایم کی پیدوار کا الزم قطعاً جھوٹ ہے اس حوالے سے آج تک مجھے کوئی مواد یا سند نہیں ملی)
یاد آیا مجیب الرحمن بھی سٹوڈنٹ لیڈر ہی تو تھا ۔۔۔ 🙂

یہ سب کے سب آپس میں شدید اختلافات رکھتے ہیں بلکہ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں جو بجائے خود کسی بھی ریاست کے لیے مہلک ہوتا ہے۔

لیکن ان سب میں ایک مشترکہ صفت پائی جاتی ہے۔ وہ ہے قومی سلامتی کے اداروں سے نفرت۔ اس معاملے میں یہ سب ایک پیج پر ہیں۔

پنجابی پشتون کی تازہ لڑائی کا آغاز بھی تعلیمی اداروں سے ہی کروایا جا رہا ہے۔

میرے خیال میں تعلیمی اداروں پر ریاست کا سخت ترین کنٹرول ہونا چاہئے ورنہ یہ ادارے عفریتوں کو جنم دیتے رہیں گے۔ ان عفریتوں سے بعد میں ریاست کو جنگ کرنی پڑے گی۔ چاہے وہ ٹی ٹی پی جیسی مذہبی ہوں یا بی ایل اے اور ایم کیو ایم جیسی لبرل۔

یہ جنگ لڑنے سے بہتر نہیں کہ ان فتنوں کی جڑ شروع میں ہی کاٹ دی جائے؟

آپ کی کیا رائے ہے؟

تحریر شاہد خان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here