یہ بات تو طے ہے کہ گوادر کا متبادل آبی گذرگاہوں میں موجود نہیں۔ نہ ایران نہ انڈیا نہ اس خطہ میں شامل کوئی اور..

0
380
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بات تو طے ہے کہ گوادر کا متبادل آبی گذرگاہوں میں موجود نہیں۔ نہ ایران نہ انڈیا نہ اس خطہ میں شامل کوئی اور..
یہاں اس کا سرسری سا موازنہ پیش کرتے ہیں۔
چاہ بہار کی زیادہ سے زیادہ سالانہ کارگو گنجائش 10 سے 12 ملین ٹن ہے۔ 
انڈیا میں کل 212 قابل ذکر بندرگاہیں ہیں۔ جنکی کی مجموعی سالانہ کارگو گنجائش 500 ملین ٹن ہے۔
جبکہ انکے مقابلے میں گوادر اکیلا 400 ملین ٹن کارگو سالانہ کی گنجائش رکھتا ہے۔
انڈیا کو بھول جائیں۔ امریکہ کی سب سے بڑی بندرگاہ کی سالانہ مجموعی کارگو گنجائش 80 ملین ٹن ہے۔ جو گوادر کا 20 فیصد ہے۔
درحقیقت دنیا کی کوئی بندرگاہ گوادر کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔
عنقریب پاکستان کا یہ ساحلی شہر ہانگ کانگ اور دبئی کا جڑواں کہلائے گا۔
اس پاکستان کو اللہ نے اتنا بڑا موقع دیا ہے کہ آپ کی سوچ ہے۔ اس کو کسی بھی طرح ضائع نہیں ہونے دینا۔ اب یہ ہمارے بڑوں پر ہے کہ وہ اس کو کیسے کیش کرتے ہیں!!
اور ہاں ہندوستان کو یہ منصوبہ ناقص لگتا ہے یعنی پاکستان کیلئے حقیقتاً اس میں فلاح ہے . جو مقام اور اہمیت عالمی برادری میں پانے کیلئے مودی اپنی حکومت کے پہلے دن سے ساری دنیا کی خوش آمدیں کرتے ہوئے چھلانگے لگا رہا وہ مقام محض گوادر پورٹ کی کامیابی پاکستان کو دلا دیگی اور کافی حد تک ہم عالمی تنہائی کا سینہ چاک بھی کرچکے ہیں ۔ باقی یہ منصوبہ پاکستان کی فلاح کا منصوبہ ہے لہذا اس میں سے مینگنیں نکالنے والے لوگ یعنی ہماری آستین کے سانپ کون ہیں یہ تو آپ سب بخوبی جانتے ہی ہونگے 😉
اسلام زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
ملک جہانگیراقبال


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here