یقینا وہ کامیاب ہو گیا جس نے خود کو اللہ کے سپرد کر دیا، اور اسے بقدر کفایت رزق دیا گیا اور جو کچھ اللہ نے اسے دیا اس پر اس کو قناعت بھی عطا کیا۔

0
1052

قناعت پسندی:
 قناعت پسندی بہت عظیم نعمت ہے اور اس کی بڑی برکتیں اور بے شمار فائدے ہیں:
 اس سے دل پر سکون، نفس مطمئن اور طبیعت خوش گوار رہتی ہے۔
 یہ انسان کو ذہنی پریشانیوں، نفسیاتی بیماریوں، باطنی امراض اور خواہشات کی غلامی سے بچائے رکھتی ہے۔
 اس سے دل کی صفائی، اخلاق کی بلندی، رزق کی پاکیزگی اور معاشرے کی اچھائی برقرار رہتی ہے۔
 یہ زندگی کو قلق، اضطراب، بے چینی، بد نظمی، بے ترتیبی اور عدم انضباط سے محفوظ رکھتی ہے۔
 اس سے آپس کے تعلقات، محبتیں اور رشتے ناطے مربوط اور مستحکم رہتے ہیں۔
 یہ دینی غیرت، ایمانی حرارت، عزت نفس، خود داری اور خود مختاری کو سلب نہیں ہونے دیتی۔
 اس سے دینی ودنیاوی حقوق وواجبات ادا کرنے، ذمےداریاں نبھانے اور تقاضے پورے کرنے میں آسانی ہوتی ہے-
 یہ وقت، توانائی، تندرستی، عقل، ذہانت اور صلاحیت کو غیر ضروری امور میں خرچ نہیں ہونے دیتی۔
 حقیقت یہ ہے کہ قناعت پسندی ہی سچی کامیابی اور اصل دولتمندی ہے، جیساکہ امیر قناعت، رسول رحمت اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
{ليس الغنى عن كثرة العرض ولكن الغنى غنى النفس}
“امیری مال ومتاع کی بہتات میں نہیں ہے، اصل امیری دل کی امیری ہے۔”(صحیح بخاری:6446 صحیح مسلم:1051)
اور
{قد أفلح من أسلم ورزق كفافا وقنعه الله بما آتاه}
“یقینا وہ کامیاب ہو گیا جس نے خود کو اللہ کے سپرد کر دیا، اور اسے بقدر کفایت رزق دیا گیا اور جو کچھ اللہ نے اسے دیا اس پر اس کو قناعت بھی عطا کیا۔”(صحیح مسلم:1054)

تحریر پاکستانی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here