یحییٰ خان بات چیت کرنے خود ڈھاکہ پہنچے۔ اس دوران میں 14مارچ کو بھٹو یہ نرالا بیان دے چکے تھے کہ “اس ملک میں دو وزیراعظم ہوں گے

0
1157

بھٹو اور سقوط ڈھاکہ ۔۔۔۔۔

عوامی حمایت کے نشے میں چور ذولفقار علی بھٹو کے سامنے یحٰیی خان کی کیا اوقات تھی اور کس طرح اس نے چالاکی سے پاکستان توڑا اس تحریر میں اسکا مختصراً احاطہ کیا گیا ہے۔

۔ 1994/95ء کی بات ہے، ایوان کارکنان پاکستان (لاہور) میں 16 دسمبر کی تقریب تھی، میجر جنرل (ر) راؤ فرمان علی جو مشرقی پاکستان کے آخری گورنر اے ایم مالک کے مشیر اور پھر بھارت میں قید رہے تھے، سقوط مشرقی پاکستان کے اسباب و واقعات پر روشنی ڈال رہے تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ہم تو یہاں سے ایک ہزار میل دور تھے اور ادھر سے ہم پر عجب عجب فیصلے تھوپے جا رہے تھے۔

یہ بے نظیر زرداری کی دوسری حکومت تھی، سامعین رائو صاحب سے مطالبہ کر رہے تھے کہ آپ کھل کر بتائیں کہ فیصلے کون کر رہا تھا اور وہ بتا نہیں پا رہے تھے۔ اتنے میں ایک صاحب اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ’’میں بتاتا ہوں کہ فیصلے کون کر رہا تھا۔ میرا نام کرنل محمود ہے اور کرنل سلیم اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھارتی طیارہ گنگا (30 جنوری 1971ء) کو لاہور ایئر پورٹ پر اتار لیا گیا تو جنرل یحییٰ کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر بتایا گیا کہ ایک بھارتی طیارہ ہائی جیک ہونے کے بعد لاہور کے ہوائی اڈے پر آن اترا ہے۔ اس کا کیا کیاجائے؟

جنرل یحییٰ نے بےبسی جواب دیا: ’’جائو، بھٹو سے جا کے پوچھ لو‘‘۔ اس پر بھٹو کے حامیوں نے ہال میں ’’شیم شیم‘‘ کے نعرے بلند کیے۔

آرمی چیف اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ایک ایسے شخص سے فیصلہ طلب کرنے کو کہہ رہا ہے جس کے پاس بظاہر کوئی ملکی عہدہ نہیں تھا اور وہ محض نومنتخب قومی اسمبلی میں ہاری ہوئی پارٹی کا لیڈر تھا اور ابھی اس نے قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف بھی نہیں اٹھایا تھا۔ سامعین کو ان کے سوال کا جواب مل گیا کہ قومی تاریخ کے ان نازک ترین برسوں میں حکومتی باگ ڈور اصلاً کس کے ہاتھ میں تھی اور کون صدر یحییٰ کو اپنے شیطانی مقاصد کے لئےاستعمال کر رہا تھ۔

اس سے اگلے روز کے بڑے اخبارات میں ایوان کارکنان پاکستان کے جلسے کی رپورٹنگ میں کرنل مذکور کے انکشاف کا ذکر تک نہیں تھا، اس لئے کہ میڈیا کے محبوب لیڈر کی جھوٹی شان میں فرق آجاتا۔

’’گنگا‘‘ دو کشمیری نوجوانوں ہاشم قریشی اور اشرف قریشی نے ہائی جیک کیا تھا۔ اگلی شب ذوالفقار علی بھٹو صاحب طیارے کے اندران سے ملے اور پھر اسی شب ایک سازش کے تحت طیارے کو آگ لگا دی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ گنگا کی آتش زنی میں بھٹو کا اشارہ اور ایک غیر ملکی ایجنسی کا تعاون شامل تھا۔ بھٹو کے اس احمقانہ اقدام کے بعد بھارت کو جواز مل گیا اور اس نے مشرقی پاکستان جانے والے ہمارے طیاروں کو اپنی فضا سے گزرنے پر پابندی لگا دی۔ اس کے بعد ہمارے طیارے کولمبو (سری لنکا) کے راستے مشرقی پاکستان جاتے رہے۔ اس طرح بھٹو کے اس اقدام کے نتیجے میں ہمارا مشرقی صوبہ ہم سے ڈھائی تین ہزار میل دور ہو گیا۔

وسط فروری میں اعلان کیا گیا کہ قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 3 مارچ 1971ء کو ڈھاکہ میں ہو گا، بھٹو کو اقتدار ہاتھ سے جاتا نظر آیا تو لاڑکانہ پلان کے مطابق اس نے اچانک شیخ مجیب اور اس کے چھ نکات کی زور دار مخالفت شروع کر دی۔ اس دوران میں اسلام آباد میں طے کر لیا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا جائے۔ مجیب کو پتہ چلا تو اس نے گورنر ایڈمرل (ر) احسن اور ڈپٹی مارشل لاء، ایڈمنسٹریٹر صاحبزادہ یعقوب خان سے بات کی اور انہیں بتایا کہ “اجلاس ملتوی نہ کریں، اگر ملتوی کرنا ہی ہے تو مجھے نئی تاریخ دے دیں تاکہ میں بنگالیوں کو مطمئن کر سکوں جو پہلے ہی بھرے بیٹھے ہیں کہ فوج اور بھٹو نے منتخب بنگالی قیادت کے خلاف گٹھ جوڑ کر لیا ہے” ۔۔۔

اس پر ایڈمرل احسن اور جنرل صاحبزادہ یعقوب خان اسلام آباد آئے اور شیخ مجیب کا پیغام دیا کہ اگر قومی اسمبلی کے اجلاس کی نئی تاریخ نہ دی گئی تو مشرقی پاکستان میں شدید ایجی ٹیشن ہو گا جسے فوج بھی کنٹرول نہ کر سکے گی، اس کے جواب میں یحیٰ خان نے بے بسی سے کہا کہ ٰ” جا کر بھٹو کو منائو“۔۔ چنانچہ وہ دونوں سیدھے کلفٹن (کراچی) پہنچے اور کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہونے دیا جائے ورنہ وہاں خونریز ایجی ٹیشن ہو گا۔ اس پر بھٹو کا جواب تھا ۔۔۔ “چند ہزار بونگلوں کے مرنے سے کچھ نہیں ہو گا “۔۔۔ گویا بنگالی بھٹو کے نزدیک قابل نفرت ’’بونگلے‘‘ تھے جن کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ یہ ساری تفصیل صاحبزادہ یعقوب خاں نے بعد میں ندائے ملت کے ایک انٹرویو میں سنائی۔

انہی دنوں بھٹو نے 28 فروری 1971ء کو مینار پاکستان کے سائے تلے شعلہ بار تقریر کی اور قومی اسمبلی کے اجلاس ڈھاکہ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا کہ ” ہم ڈھاکہ نہیں جائیں گے بلکہ جو ڈھاکہ جائے گا، اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے“۔ جیالے صحافی عباس اطہر ان دنوں روزنامہ ’’آزاد‘‘ میں کام کرتے تھے، انہوں نے بھٹو کی ملک کو دو لخت کرنے کی بنیاد رکھنے والی اس آتشیں تقریر کو ’’ادھر تم، ادھر ہم‘‘ کی بلیغ سرخی میں سمو دیا جو بھٹو کے ملک توڑنے کے کردار سے چپک کر رہ گئی، دراصل بھٹو نے اسی روز پاکستان کو دو ٹکڑے کر دیا تھا۔

اگلے دن اسلام آباد سے اعلان ہوا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے، بھٹو کے سوا مغربی پاکستان سے بیشتر لیڈر ڈھاکہ پہنچ چکے تھے، ان میں پی پی پی کے رکن اسمبلی صاحبزادہ احمد رضا قصوری بھی شامل تھے جو بھٹو کی اس نئی روش کے سخت ناقد تھے اور اسی ’’جرم‘‘ میں چند سال بعد بھٹو صاحب احمد رضا کی ٹانگیں تو نہ توڑ سکے مگر ان کے والد نواب احمد رضا قصوری کو بھٹو کی خصوصی فورس ایف ایس ایف نے شادمان (لاہور) میں ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کر دیا اور اسی مقدمے میں بھٹو صاحب دیگر ملزموں کے ساتھ اعلیٰ عدالتوں کے حکم پر پھانسی پا گئے، خود احمد رضا قصوری اور ان کی والدہ فیڈرل سکیورٹی فورس کی فائرنگ میں بچ گئے تھے۔

قصہ کوتاہ، قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہوتے ہی پورے مشرقی پاکستان میں آگ لگ گئی، لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر مظاہرے کرنے لگے۔ دریں اثناء گورنر احسن اور صاحبزادہ یعقوب خان نے بھٹو کے اس فیصلے پر استعفا دے دیا۔
ادھر سے بھٹو کے پسندیدہ جرنیل ٹکا خان کو گورنر اور ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا کر ڈھاکہ بھیجا گیا (جنہیں بعد میں بھٹو نے آرمی چیف اور پھر وزیر دفاع بنایا)، ٹکا خان کے حکم پر ایجی ٹیشن کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی گئی لیکن معاملات کنٹرول سے باہر ہونے لگے ٓجس کے بعد یحییٰ خان بات چیت کرنے خود ڈھاکہ پہنچے۔

اس دوران میں 14مارچ کو بھٹو یہ نرالا بیان دے چکے تھے کہ “اس ملک میں دو وزیراعظم ہوں گے وہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پی پی پی کو اقتدار سونپنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس احمقانہ مطالبے کے بعد یحیی خان کے ڈھاکہ میں مذاکرات ناکام ہوگئے۔ باغیوں نے پاکستان کے حامیوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ جس کے بعد دوبارہ فوج کو حالات کنٹرول کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ اگلے روزبھٹو صاحب کراچی روانہ ہوئے۔ ایسٹ بنگال رجمنٹ کے فوجی بھی چھائونیوں سے فرار ہو گئے، عوامی لیگ کے ایم این اے اور ایم پی اے فرار ہو کر سرحد پار بھارت چلے گئے، فوج نے شیخ مجیب الرحمن اور ڈاکٹرکمال کو گرفتار کر کے مغربی پاکستان پہنچا دیا۔ باغی بنگالیوں نے پنجابیوں، بہاریوں اور دیگر پاکستانی نام لیواؤں کا اس قدر قتل عام کیا کہ پورا بنگال خون سے رنگین ہوگیا۔ خانہ جنگی پورے مشرقی پاکستان میں پھیل گئی اور حالات مکمل طور پر کنٹرول سے باہر ہوگئے۔ ان ہزاروں لاکھوں لوگوں کا خون کس کی گردن پر ہے ؟ یحیی خان جو مزاکرات کرنے گیا تھا یا بھٹو جس نے اقتدار کی ہوس میں مزاکرات ناکام کروا دئیے ؟

ادھر میجر ضیاء الرحمن نے چٹا گانگ میں اپنے اعلیٰ افسر کو شہید کر کے ریڈیو سے بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کر دیا۔ بہاریوں اور مغربی پاکستان کی فیملیز پر ناقابل بیان غیر انسانی مظالم ڈھائے گئے۔ مسلسل حالت جنگ میں مصروف اور کمک سے محروم پاک فوج کو پورے صوبے پر کنٹرول حاصل کرنے کے میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ لگا۔

اندرا گاندھی نے مکتنی باہنی کو اس وقت کے لیے تین چار سال پہلے سے تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔ بنگالی نوجوانوں کو مغربی بنگال کے کیمپوں میں گوریلا تربیت دی جا رہی تھی۔ نیز کم از کم ایک لاکھ بھارتی فوجی سول کپڑوں میں ان کے ہمراہ کئے اور یوں مکتی باہنی تشکیل دے کر انہیں گوریلا جنگ کے لئے مشرقی پاکستان میں داخل کر دیا گیا تھا۔ مکتی باہنی کا کمانڈر پاک فوج کا باغی کرنل عثمانی تھا۔ اس فورس نے مقامی بنگالیوں کے تعاون سے پاک فوج کو بڑا زچ کیا۔

پاک فوج نے اس دوران مقابلے میں البدر اور الشمس تنظیمیں تشکیل دیں۔ بنگالی ٹکا خان کے خون کے پیاسے تھے۔ ستمبر 1971ء میں انہیں واپس بلا کر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کو وہاں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا کربھیجا گیا جبکہ اے ایم مالک کو گورنر مشرقی پاکستان کا منصب دیا گیا اور اسکی قیادت میں ایک سول کابینہ بنائی گئی۔ مگر یہ سول کابینہ ایک مذاق ثابت ہوئی۔ دوسری طرف اندرا گاندھی نے پاک فوج کے مقابلے میں مکتی باہنی کی پسپائی کو دیکھتے ہوئے ڈھائی لاکھ مزید فوج کی مدد سے ایک بڑے حملے کی بھرپور تیاری کر لی۔

بھٹو کی ضد کے نتیجے میں پہلے اجلاس ملتوی ہوا پھر ڈھاکہ مزاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد ہونے والے دنگے فساد کو روکنے کے لیے آرمی ایکشن کر رہی تھی اور مجیب کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یوں ذوالفقار علی بھٹو کے لئے میدان پوری طرح خالی ہوگیا۔ آرمی ایکشن شروع ہونے کے بعد انہوں نے کراچی آ کر کہا تھا،’’ خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا‘‘۔حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اب پاکستان کو نہیں بچایا جا سکتا۔

ان بدترین حالات میں بھٹو صاحب نے یحی خان سے ایک اور مطالبہ کردیا کہ “مغربی پاکستان میں اقتدار فوراً پی پی پی کے حوالے کر دیا جائے” تاکہ شیخ مجیب اور عوامی لیگ کی آخری امید بھی دم توڑ جائے۔ مگر مشرقی پاکستان میں فوج بری طرح سے الجھی ہوئی تھی۔ امریکہ نے یحیی خان کو مشورہ دیا کہ انڈیا میں پناہ گزین عوامی لیگ کی قیادت سے بات کی جائے۔ لیکن عوامی لیگ کے ان راہنماؤں کو اندرا گاندھی نے مجیب نگر (کلکتہ) میں ایک طرح سے یرغمال بنا رکھا تھا۔ تو یہاں بھٹو نے یحیی خان کو دھمکی دی کہ اگر عوامی لیگ کے راہنماؤوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ مغربی پاکستان میں اپنے جیالوں کو سڑکوں پر لے آئینگے جس کے بعد یہاں بھی حالات کنٹرول سے باہر ہوجائینگے۔ یحییٰ خان کو بھٹو کی ’’اجازت‘‘ نہ ملی۔

اگست 1971ء میں بھارت کا سوویت روس سے فوجی معاہدہ ہو چکا تھا جس کے بعد بھارتی حملے کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ جمہوریت کے دو چیمپئنز کے درمیان پھنسا یحیی خان بات چیت کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہا تھا۔ ہاں فوجی ایکشن کے نتیجے میں بنگال میں کسی حد تک بغاوت قابو میں آنےلگی۔

جس کو دیکھتے ہوئے بھارتی جرنیل وزیراعظم اندرا گاندھی کو مشورہ دے رہے تھے کہ مشرقی پاکستان پر موسم برسات کے بعد حملہ کر دیا جائے، چنانچہ اندرا گاندھی اکتوبر میں عالمی سطح پر فضا ہموار کرنے کے لئے دورے پر نکلی۔ واشنگٹن میں صدر نکسن نے اندرا سے پوچھا کہ کیا بھارت مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے تو وہ صاف مکر گئیں۔ اپنے اس دورے میں اس نے دنیا بھر میں مشرقی بنگال پر پاک فوج کے مبینہ مظالم کا خوب ڈھنڈورا پیٹا۔

دریں اثناء مغربی پاکستان میں جنرل یحییٰ نے مسٹر بھٹو کی ہوس اقتدار پوری کرتے ہوئے انہیں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ بنا دیا لیکن بیلنس کرنے کے لیے مشرقی پاکستان کے بزرگ رہنما اور رکن قومی اسمبلی نور الامین کو بھی برائے نام وزیراعظم کا منصب دے دیا۔

وزیر خارجہ بن کر بھٹو صاحب ایک وفد لے کر چین گئے۔ ان دنوں چین کے وزیراعظم چو این لائی اور چیئرمین بانی انقلابی رہنما مائوزے تنگ تھے۔ چینی قیادت نے بھی بھٹو کو مشرقی پاکستان کی منتخب قیادت سے سمجھوتہ کرنے کا مشورہ دیا۔ بھٹو کو اس امید پر بھیجا گیا تھا کہ روس بھارت فوجی معاہدے کی موجودگی میں پاک چین فوجی معاہدہ کروانے کی کوشش کرے گا مگر مسٹر بھٹو بیجنگ سے اسی طرح واپس آگئے اور جب ایئر پورٹ پر ان سے ممکنہ معاہدے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے قوم کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے کہا: ’’پاک چین دوستی کسی فوجی معاہدے کی محتاج نہیں‘‘۔ بھٹو نے یہ معاہدہ کیوں نہیں کیا تھا اس سوال کا جواب تاحال تشنہ ہے کیا محض اس لیے کہ اس طرح پاکستان کے بچنے کا امکان پیدا ہو جاتا؟

اس دوران میں 20 نومبر کو بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان پر تین اطراف سے بھرپور حملہ کر دیا۔ چوتھی جانب سے بھارتی بحریہ نے ناکہ بندی کر لی تھی۔ وزیرخارجہ بھٹو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بروقت اجلاس بلا کر بھارتی جارحیت کا پردہ چاک کرنے کی بھی زحمت نہ کی۔ خرابی بسیار کے بعد 3 دسمبر 1971ء کو اسلام آباد سے بھارت کے خلاف اعلان جنگ کیا گیا۔ بھارت مجیب نگر میں قائم ’’بنگلہ دیش کی عبوری حکومت‘‘ کو پہلے ہی تسلیم کر چکا تھا۔

آخر کار صدر یحیی خان کی کوشش سے سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا اور وہاں عوامی جمہوریہ چین نے پہلا ویٹو پاکستان کے خلاف قرار داد مسترد کرنے کے لئے استعمال کیا چین اسی سال اقوام متحدہ کا رکن اور ویٹو پاور بنا تھا۔ اس سے پہلے یہ پوزیشن نیشنلسٹ چین یعنی تائیوان کو حاصل تھی۔

بطور صدر پاکستان جنرل یحیی خان نے جناب ذولفقار علی بھٹو صاحب کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا۔ سلامتی کونسل میں روس کے ایماء پر پولینڈ کی قرارداد جنگ بندی کے لئے پیش کی گئی۔ اس وقت پاکستان کو جنگ بندی کی اشد ضرورت تھی لیکن مسٹر بھٹو پہلے دو روز تک فلو کے بہانے ہوٹل میں ہی پڑے رہے اور پھر تیسرے دن سلامتی کونسل میں ایک جذباتی تقریر کرتے ہوئے پولینڈ کی اس جنگ بندی کی قرارداد کو پھاڑ کر واک آؤٹ کر گئے۔ پاکستان کا میڈیا مجموعی طور پر اول روز سے مسٹر بھٹو کے حق میں اور پاک فوج کے خلاف تھا۔ اس نے بھٹو کے واک آئوٹ اور قرار داد پھاڑنے کو بھی دلیرانہ اقدام ٹھہراتے ہوئے بھٹو کی عظمت کے جھوٹے قصیدے گانے شروع کر دئیے اور آج تک گا رہے ہیں۔ وہ مشرقی پاکستان کے تابوت میں آخری کیل تھی جو بھٹو نے ٹھونکی۔

مشرقی پاکستان میں ہماری سیاسی اور فوجی پوزیشن بہت نازک ہو چکی تھی، جس سے وزیر خارجہ پوری طرح آگاہ تھے۔ بھارتی جارحیت کو روکنے اور قوم کو بھیانک سقوط سے بچانے کے لئے فوری جنگ بندی درکار تھی مگر بھٹو نے اپنے مخصوص مقاصد کے لئے بات نہ بننے دی۔ بعد میں بھٹو نےیہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی کہ انہوں نے پولش قرار داد نہیں بلکہ اپنے نوٹس پھاڑے تھے۔ اگر پولش قرارداد تسلیم کر لی جاتی تو اس کے مطابق یہی ہوتا کہ پاک فوج مشرقی پاکستان سے نکال لی جاتی اور وہاں قیام امن کے لئے عالمی فوج آ جاتی۔ نیز اسلام آباد کو مشرقی پاکستان کی منتخب قیادت سے سیاسی سمجھوتہ کرنا پڑتا۔ درپیش حالات میں اگر مشرقی پاکستان کی بنگلہ دیش کی صورت میں علیحدگی بھی تسلیم کرنی پڑتی تو کیا برا تھا۔ ہماری 56 ہزار کے لگ بھگ فوج اور تقریباً 36 ہزار سویلین افراد بھارتی قید میں تو نہ جاتے اور سرینڈر کا داغ نہ لگتا، لیکن بھٹو کو اس سے کیا غرض تھی۔ جنگ بندی تسلیم نہ کرنے سے ان کے دو مقاصد پورے ہو رہے تھے

۔ (1) مشرقی پاکستان کی منتخب قیادت سے کسی بھی سیاسی سمجھوتے کو روکنا (اسی لئے تو بھٹو نے قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہونے دیا تھا مزاکرات ناکام کروائے تھے)۔
۔ (2) فوجی شکست کا اہتمام تاکہ بقیہ پاکستان میں بھٹو کے اقتدار میں شکست خوردہ جرنیل سر اٹھانے کے قابل نہ رہے۔
فوج کی ہزیمت بھٹو کی دیرینہ آرزو تھی۔ بھٹو کی طرح سوشلسٹ نظریے کے حامل پاکستانی دانشور اور مصنف طارق علی (سردار سکندر حیات وزیراعظم متحدہ پنجاب کے نواسے) جو لندن میں مقیم ہیں، انہوں نے ایک بار بھٹو سے پوچھا تھا کہ تم نے جنرل ایوب کو 1965ء کی جنگ میں کیوں دھکیلا تھا تو انہوں نے جواب دیا تھا۔ ’’اس بوڑھے سے جان چھڑانے کا میرے پاس اور کیا راستہ تھا‘‘۔

بھٹو کے سوشلت پیروکاروں اور سرخوں کی پاک فوج کے خلاف نفرت آج بھی برقرار ہے جسکا اظہار وہ مسلسل کرتے رہتے ہیں۔
گویا بھٹو نے ایوب کو گمراہ کر کے آپریشن جبرالٹر کے نام سے تین چار ہزار نیم تربیت یافتہ گوریلے مقبوضہ کشمیر میں بھجوا دیئے تھے اور پھر گرینڈ سلام کے نام سے پاک فوج نے چھمب اور جوڑیاں پر قبضہ کر کے اکھنور کی طرف یلغار کی تھی جس کے ردعمل میں بھارت نے 6 ستمبر کو پاکستان پر حملہ کر دیا تھا، مگر قوم سے اصل احوال چھپائے گئے۔ البتہ میڈیا نے بھٹو کے جھوٹے نعروں ’’ہم ایک ہزار سال تک کشمیر کے لئے لڑیں گے‘‘ اور بھارتی کتو! کشمیر سے نکل جائو‘‘ کو خوب اچھال کر نئی نسل کے ذہنوں میں بھٹو کا بت سجا دیا۔ مسلسل جھوٹے پروپیگنڈے سے اس بت کو اب شہادتوں کی لام ڈور بنا دیا گیا ہے اور آج تک “زندہ” رکھا گیا ہے۔

قصہ کوتاہ ،جنرل نیازی نے 16 دسمبر 1971ء کی سہ پہر کو ریس کورس گرائونڈ ڈھاکہ میں سقوط مشرقی پاکستان کی دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد اپنا پستول فاتح سکھ بھارتی لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے حوالے کر رہا تھا۔ یہ سانحہ سقوط بغداد (1258ئ) اور سقوط غرناطہ (1492ئ) سے کم نہ تھا۔ اس سے پہلے یحیی خان کی ہدایت پر گورنر مشرقی پاکستان کے مشیر میجر جنرل راؤ فرمان علی کی طرف سے اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل پال مارک ہنری کے نام جنگ بندی تسلیم کرنے کا پیغام بھیجا گیا تھا مگر پھر بھٹو کے دباؤ پر اس پیغام سے لاتعلقی ظاہر کی گئی اور بھٹو نے نیو یارک جا کر جنگ بندی کی قرار داد پھاڑ کرمسترد کر دی۔ اس پر گورنر اے ایم مالک مستعفی ہو کر ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل (ڈھاکہ) میں ریڈ کراس کی حفاظت میں چلے گئے۔

گورنر اے ایم مالک بنگال کے ایک شریف اور محب پاکستان مزدور لیڈر تھے اور بھٹو کے پیدا کردہ بحران سے پاکستان کو نکالنے کی امید میں گورنر بن گئے تھے مگر وہ بے خبر تھے کہ بھٹو کی مذموم خواہشات حالات کے تند و تیز دھارے میں ڈھل چکی ہیں۔ سقوط ڈھاکہ کا سانحہ قوم کے اعصاب پر بجلی بن کر گر چکا تھا۔ ادھر اندرا گاندھی آزاد کشمیر اور مغربی پاکستان پر زور دار حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی مگر امریکی صدر رچرڈنکسن نے اسے روس کی وساطت سے اس اقدام سے باز رکھا، تاہم بھارتی فوج نے مغربی محاذ پر جنگ بندی سے پہلے کارگل کی چوٹیوں پر قبضہ کر لیا۔

یہاں یحیی خان بھٹو کو اقتدار سونپنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ بھٹو کو پیغام بھیجا گیا کہ وہ فوراً اسلام آباد پہنچیں مگر وہ روم پہنچ کر رک گئے۔ بھٹو کے دل میں چور تھا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ یحیی خان کی چال نہ ہو اور پاک فوج انہیں گرفتار نہ کر لے۔ پھر امریکی یقین دہانی پر وہ اسلام آباد آئے اور یحییٰ خان سے ملکی صدارت اور سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے حاصل کر کے آمر مطلق بن گئے۔ ان کا سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بننا تاریخ کا بے مثال حادثہ تھا۔

انہوں نے لاڑکانہ پلان کے تحت مشرقی پاکستان کی منتخب قیادت کو میدان سے ہٹا کر نیا پاکستان بنانے کے لئے وطن عزیز کو دو لخت کروا دیا مگر بھٹو کے دیوانے قلمکار انوار احسن صدیقی ایکسپریس (30 دسمبر 2011ئ) میں لکھتے ہیں: ’’اشرافیہ کی مذموم سازش کے تحت پاکستان کو دو لخت کر دیا گیا‘‘۔ ہاں یہ ’’پی پی پی کی اشرافیہ‘‘ یعنی زیڈ اے بھٹو اور پی پی پی کے نومنتخب 79 ارکان قومی اسمبلی کی سازش تھی جس میں پھنس کر یحیی خان نے پاکستانی تاریخ کے بدترین جرنیل کا داغ ماتھے پر سجا لیا۔ دوسری طرف نذیر ناجی، عباس اطہر اور اس قبیل کے دیگر صحافی سارا ملبہ فوج پر ڈال دیتے ہیں کیونکہ بھٹو کا نام لیں تو ان کی اپنی جھوٹی صحافت کا پردہ فاش ہوتا ہے۔

بھٹو نے اقتدار سنبھالتے ہیں یحیی خان کو نظربند کر کے اس وقت کے فوج مخالف افتخار چودھری نما چیف جسٹس حمود الرحمن کو سقوط ڈھاکہ میں پاک فوج کی غلطیوں پر مشتمل رپورٹ تیار کرنے کو کہا۔ یہی وہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ ہے۔ یہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ حمود الرحمن کو بھٹو نے یہ ٹاسک نہیں دیا تھا کہ ” بنگال کیوں الگ ہوا ؟” بلکہ اس کمیشن کا ٹاسک یہ تھا کہ ” پاک فوج نے کیا کیا غلطیاں کیں” ۔۔ چنانچہ انہوں نے جی بھر کر اس رپورٹ میں صرف پاک فوج کو ہی نشانہ بنایا۔

بھٹو نے آخری چال کے طور پر اپنے زیر اثر میڈیا کے ذریعے عوام تک یہ پیغام پہنچا دیا کہ حمود لرحمن کمیشن رپورٹ میں ثابت ہوچکا کہ تمام غلطی پاک فوج کی ہی ہے لیکن دوسری طرف پاک فوج پر بظاہر ” احسان ” کرتے ہوئے رپورٹ کو پبلش نہ کرنے کا اعلان کیا کہ ” میں فوج کا مورال ڈاؤن نہیں کرنا چاہتا” ۔۔۔ اور یوں اپنی ہی تیار کروائی گئی اس حمود الرحمن کمیشن روپوٹ سے پاک فوج کو بلیک میل کرتا رہا۔ آج بھی کیا جاتا ہے ۔۔۔۔

جو لوگ کہتے ہیں بھٹو جینیس تھا میں ان سے متفق ہوں۔ بلاشبہ وہ جینئس تھا جیسے شیطان جینس ہے

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here