ہے کوئی عالم جو اللہ سے ڈر جائے؟؟؟

0
288

ہے کوئی عالم جو اللہ سے ڈر جائے ؟؟؟

علماء کے فضائل گنوائے جا سکتے ہیں لیکن علماء نے امت میں جو تہلکہ مچا رکھا ہے اس پر بات نہیں کی جا سکتی۔ کرو تو گستاخی

خود کو تقریباً پیغمبرانہ فضلیت پر فائز کرنے کے لیے یہ علماء جس قرآن کے حوالے دیتے ہیں اسی قرآن میں انہی علماء کے بارے میں اور بھی بہت کچھ ہے جس کو یہ چھپا لیتے ہیں۔

آئیے ان میں سے کچھ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

———————————–

” بے شک جن لوگوں نے اپنے دین میں فرقے بنائے اور گروہوں میں بٹ گئے آپ (ﷺ) کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے پھر وہ ان کو بتا دے کہ وہ کیا کرتے رہے ۔” ( الانعام :159)

بتائیے دین میں فرقے بنانے والے کون ہیں؟

عوام یا علماء؟

یقیناً علماء ہیں۔ عوام تو محض پیروکار ہوتے ہیں۔
قرآن کے مطابق ان علماء کا رسولﷺ سےکوئی تعلق واسطہ نہیں۔ جب کہ یہ خود کو زبردستی نبی کا وارث قرار دیتے ہیں اور اللہ نے ان سے خود نمٹنے کا وعدہ کیا ہے۔

————–

“بے شک جو لوگ ان کھلی کھلی باتوں اور ہدایت کو جسے ہم نے نازل کر دیا ہے اس کے بعد بھی چھپاتے ہیں کہ ہم نے ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کر دیا، یہی لوگ ہیں کہ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں” ( البقرہ 159)

بتائیے اللہ کا نازل کردہ کلام چھپانے کے اہل کون ہیں؟

عوام یا علماء؟

بے شک نازل کردہ چھپانے کے اہل علماء ہی ہیں نہ کہ عوام۔ تقریباً تمام فرقہ پرست علماء کی ایک مشترکہ صفت ہے کہ وہ قرآن و حدیث کا وہ حصہ چھپا لیتے ہیں جس سے ان کے موقف پر ضرب پڑتی ہو۔
اگر چھپانا ممکن نہ ہو تو ایسی گمران کن تاویل کر لیتے ہیں جو اس کلام کا مفہوم اور مقصد ہی بدل کر رکھ دیتی ہے۔ واللہ یہ بھی اصل کلام چھپانا ہی ہے۔

ان علماء پر نہ صرف اللہ لعنت کرتا ہے بلکہ تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔

—————-

” یہ فرقہ فرقہ نہیں ہوئے لیکن اس کے بعد کہ ان کے پاس ( ان کے رب کی طرف سے)علم آچکا تھا، آپس میں بغض و عناد کے سبب ، اور اگر (اے نبی ﷺ) آپ کے رب کی(فیصلے کی) بات مقررہ وقت تک کے لئے پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ۔” ( الشوریٰ :14)

اس سے زیادہ صاف آیت کیا ہوگی؟ کون ہے جس نے “علم حاصل کر لینے” کے بعد فرقے بنا لیے؟

عوام یا علماء؟

کون ہیں جو “علم آجانے” کے بعد آپس میں شدید بغض و عناد رکھ لیتے ہیں اور اس بغض کو عوام تک بھی منتقل کرتے ہیں؟

علماء

اللہ نے سخت غضب کے عالم میں فرمایا ہے کہ اگر فیصلے کا وقت مقرر نہ ہوچکا ہوتا تو ان علماء پر زمین میں ہی عذاب آچکا ہوتا۔

—————–

کتنے علماء ہیں جو ان آیات کی زد میں نہیں آتے؟

زبرستی نبیوں کے وارث بننے والے کیا واقعی قرآن پڑھتے بھی ہیں؟

کیا نبی کا وارث ہونے کی شرط محض علم حاصل کر لینا ہی ہے؟

کیا علماء کو ہی زمین کی بدترین خلقت قرار نہیں دیا گیا ہے؟

کیا جہنم میں سب سے پہلے علماء کو نہیں ڈالا جائیگا؟

واللہ وہ تمام علماء جو ان آیات کی زد میں آتے ہیں انکا دین سے کوئی تعلق نہیں، ان پر اللہ اور ہر لعنت کرنے والی کی لعنت ہے اور اگر قیامت کا وعدہ نہ ہوتا تو اللہ دنیا میں ہی ان کو ذلیل و رسواء کر دیتا۔ اور بدقسمتی سے اس قسم کے علماء کی اکثریت ہے۔

ہمارے والدین ہمیں بچپن میں سکھاتے ہیں کہ ” تم مسلمان ہو”

لیکن یہ ملا ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ” صرف تم ہی مسلمان ہو اور باقی سب  

آہ ۔۔۔۔۔۔ لیکن ہم علماء کی فرقہ پرستی کا رونا روتے رہے اور یہ بدبخت قوم پرستی میں بھی کود پڑے۔ اسکی بھی تاویلیں کرنے لگے اور عصبیت جیسی لعنت کا جواز دینے لگے۔
لبرلز کے جھنڈے تلے کھڑے ہونے کو شرعی مصلحت قرار دینے لگے۔

ان قوم پرست ملاؤوں کے نام قرآن کا پیغام

” اس (اللہ تعالیٰ ) نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے ، اس سے پہلے اورا س ( قرآن) میں بھی ۔” (الحج :78)

سندھی، پنجابی، بلوچی اور پشتون قوم پرستی کا جواز پیش کرنے والے اور خود کو دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث قرار دینے پر بضد علماء کے نام۔

————————

” اور نہ ہو جانا ان لوگوں کی طرح جنہوں نے روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی اختلاف کیا اور فرقہ فرقہ ہو گئے ، اور ان کےلئے بڑا عذاب تیارہے۔” (آل ِ عمران :105)

یہ آیات ہی وہ روشن دلیل ہیں۔ سو اب کرو اختلاف اور جھگڑا اور پھر یہ دعوی بھی کرو کہ تم حق پر ہو۔ واللہ تم ہی باطل ہو۔

————————

” اللہ کی طرف رجوع کرتے رہو اور اسی سے ڈرو اور صلوٰۃ قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہو جانا۔ ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین میں فرقے بنالئے اور گروہوں میں بٹ گئے ، ہر گروہ اسی چیز میں مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔” ( الروم :31-32)

بےشک ہر فرقہ صرف اسی میں مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔
دوسرا بے شک کتنی ہی مضبوط سند کے ساتھ کچھ پیش کر دے وہ قبول نہیں کرتے

———————-

” اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور نہ تمہیں موت نہ آئے مگر یہ کہ تم مسلم ہو ۔اور تم سب اللہ کی رسی (کتاب اللہ ) کو مضبوطی سے تھا م لو اور فرقہ فرقہ نہ ہوجاؤ ۔” آل ِ عمران : 102-103

خدا کی قسم قرآن کی یہ آیات ففتھ جنریشن وار کا توڑ ہیں۔

اب ان آیات سے پھر جاؤ یا ان کی اپنی مرضی کی تاویل کر کے اللہ کا حکم بگاڑ لو۔ پھر اپنا حشر دیکھ لینا۔ تم میں سے کوئی اللہ کو ہرا نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

اہل یہود کو بھی علماء نے ہی برباد کیا تھا۔

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔ تھوڑے سے علماء ایسے ضرور ہیں جن سے آج بھی خیر پھوٹ رہی ہے اور جو حقیقی معنوں میں نبیوں کے وارث کہلانے کے حقدار ہیں۔ لیکن صرف تھوڑے سے ۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here