ہنڈا اٹلس کمپنی، کراچی، کے تجربے میں جان گنوانے والے۔

0
191

ہنڈا اٹلس کمپنی، کراچی، کے تجربے میں جان گنوانے والے۔۔۔
یہ جو تصویر میں آپکو خوش شکل سا نوجوان نظر آرہا ہے اسکا نام محمد عامر ہے۔جو گود میں اپنے بچے کو لیے بیٹھا ہے۔ یہ لڑکا میٹلرجی کے شعبے سے وابستہ تھا اور کراچی میں’’ہنڈا اٹلس‘‘ میں ملازم تھا۔ اس لڑکے کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ لیڈ پکھلانے والی فرنس میں ایلومینیم پگھلانا ہے۔ یہ ایک خطرناک عمل تھا لیکن ہائر مینیجمنٹ نے دبائو ڈال کر یہ خطرناک تجربہ کرنے کا رسک لیا۔ فرنس پھٹ گیا اور یہ لڑکا اپنے چھے اور ساتھیوں سمیت جھلس گیا۔ حادثہ ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد تک محمد عامر زندہ رہا اور اس پوزیشن میں تھا کہ بیان دے سکتا، لیکن کمپنی مینیجمنٹ نے جان بوجھ کر ہسپتال پہنچانے میں دیر کی تاکہ جو جان باقی ہے وہ بھی ختم ہوجائے اور بیان نہ لیا جا سکے۔

چھے لوگ اس خطرناک تجربے کی بھینٹ چڑھے تو ’’ہنڈا اٹلس‘‘ نے اب فوت ہونے والے ورثا کو ڈرایا دھمکایا اور چند لاکھ پیسوں کا لالچ دے کر کہا کہ کہ تمہارا بندہ تو گیا اس دنیا سے۔ لیکن اگر قانونی کاروائی کے چکر میں پڑو گے تو جو چند لاکھ ملنے ہیں وہ بھی نہیں ملیں گے۔کپمنی نے ان ورثا سے سٹاپم پیپر پر لکھوا لیا کہ ہم عدالتی کاروائی نہیں چاہتے اور یہ ایک حادثہ تھا۔ باقی کے ورثا تو بیچارے خاموش ہوگئے لیکن محمد عامر کے بڑے بھائی ’’شریف اللہ‘‘ نے پاکستان کے پولیس اور عدالتی نظام سے مایوس ہوکر اس مقدمے کو سوشل میڈیا پر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ آج کے دور میں جب ایک طرف ’’ہنڈا اٹلس‘‘ جیسا سرمایہ دار ہے اور

دوسری طرف ایک مڈل کلاس بڑا بھائی تو سوشل میڈیا ہی آخری امید باقی بچتی ہے۔ شریف اللہ صاحب کا مطالبہ ہے کہ
ایک انکوائری ہونی چاہئے کہ لیڈ والی فرنس میں ایلومینیم پگھلانے کا فیصلہ کس نے کیا ؟ جس کا فیصلہ تھا اسے کٹہرے میں لایا جائے

محمد عامر نے جھلس جانے کے بعد بڑے بھائی کو کال کرکے کہا کہ میرے آفس میں ایک ڈائری پڑی ہے جس میں آج کے تجربے کے بارے میں کچھ حقائق ہیں۔ اسکو پڑھاجائے لیکن وہ ڈائری کیوں غائب کردی گئی۔

حادثہ ہوتے ہی جگہ کو لاک کرکے فرنس کے آس پاس کی جگہ کی صفائی کردی گئی۔ کرائم سین سے شواہد کو کسکی اجازت پر صاف کیا گیا۔

کمپنی کو پتا تھا کہ آگ لگنی ہے اس لیے پہلے سے آگ بجھانے کا سامان پاس لاکر رکھا گیا ،لیکن جب پتا تھا کہ آگ لگنے کا اندیشہ ہے تو چھے لوگوں کو اس آگ میں کیوں جھونکا گیا۔

میں نے آج تک آپ لوگوں سے اپنی کسی ذاتی تحریر کو شئر کرنے کی درخواست نہیں کہ لیکن یہ تحریر میں نے شریف اللہ اور محمد عامر کے لیے لکھی ہے۔ میں اس پوسٹ کے ساتھ ضروری لنکس نتھی کر رہا ہوں۔ آپ لوگ ان کی وال پر جائیے اور مزدروں کا ساتھ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر انکی آواز کو اٹھائیے۔ اگر عوام کا دبائو ہوگا تو پولیس اور عدلیہ خود بخود ایکشن لینے پر مجبور ہوگی۔
آپ کم از کم محمد عامر کی فیملی کی آواز تو دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔
کاپی کر کے شئیر کریں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here