#سہمے_ھوئے_بھارتی_مسلمان

ہندوتوا سے جان نہیں چھڑا سکتے
جب تک کہ جان کی بازی نہ لگائیں

مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت میں ہندوتوا نے بدترین پنجے گاڑھ لیے ھیں۔ وہاں کے مسلمان شدید مضطرب ھیں۔ اب صورتحال یہ ھے کہ کشمیر و بھارت کے مسلمانوں کو کوئی ایسا رہنما میسر نہیں جو ان کو ہندوتوا کی سفّاک شرانگیزیوں سے بچا سکے

ساری زندگی بھارت ماتا بھارت ماتا کرنے والے مسلمان آج سخت بےیقینی اور خوف کے شکار ھیں۔ کشمیر میں کئی دہائیوں سے وزارت اعلیٰ پر براجمان فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی بھارت سرکار نے نہیں بخشا اور انہیں کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے وقت جیل میں ڈال دیا

خود کو بھی بھارتی سرکار کے زیر عتاب پاکر مجبوراً دونوں شخصیات یہ کہنے پر مجبور ھو گئیں کہ جناحؒ کا دو قومی نظریہ بالکل درست تھا۔ آج ھم خود کو ناکام تصور کر رہے ھیں۔ بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ آج ھمیں ستر سال بعد غلط لگ رہا ھے۔ ان کے علاوہ حریت رہنما سیّد علی گیلانی اور جے کے ایل ایف کے یاسین ملک بھی جیل میں بند ھیں

ادھر بھارت میں اگر نظر دوڑائی جائے تو بھارتی مسلمانوں کے حالات کشمیر سے زیادہ ابتر ھو چکے ھیں۔ بھارت کے اندر عام مسلمان تو مودی اور بی جے پی کی شدت پسندیوں کے شکار ھیں ہی، بڑے اداکار، سیاستدان اور مذہبی شخصیات بھی اس شیطانیت کے شکار ھو رہے ھیں

بالی ووڈ کی شخصیات اور بڑے اداکار تک سب مودی کے شر سے سہمے ھوئے بیٹھے ھیں۔ سینئیر اداکار نصیرالدین شاہ نے بالآخر اس شدید اذیت میں خاموشی توڑی اور کہا ھے کہ آج ستر بہتر سال بعد مجھے احساس ھوا ھے اور میں خوفزدہ ھوں کہ بھارت کے اندر میں بحیثیت مسلمان نہیں رہ سکتا

ان پریشان کن حالات میں جہاں کچھ بھارتی مسلمانوں نے ہندووں کے مظالم اور بھارتی سرکار کی گندی نیت بھانپ لی اور اپنی بقا و سلامتی کیلیے سخت بےچین و پریشان ھیں، وھیں پر مسلمانوں کیلیے رہنمائی کا کردار ادا کر سکنے والے واحد مذہبی لوگ ہی ھیں جو مودی حکومت کے تلوے چاٹ بن چکے ھیں

دو بڑے مکتبہ فکر بریلی سے بریلوں فقہ اور دیوبند سے دیوبندی فقہ کے علماء و مشائخ آج جب مار کھا رہے ھیں تب بھی بجائے مسلمان عوام کو لیڈ کرنے اور اپنے آپسی اتحاد کے ساتھ اپنی سلامتی کیلیے مطالبات کر کے بھارتی حکومت کو دباؤ میں لانے کے الٹا بھارت سرکار کے نمائندے بن کر بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ھیں

کل پرسوں سے ایک بھارتی مولوی کی ویڈیو وائرل ھو رہی ھے جو تقریر میں بول رہا ھے کہ بارڈر پر ھمیں بھیج دو پھر دیکھو اگر پاکستان کی طرف سے جبرائیل بھی آ گئے تو ھم انکو روک لیں گے۔ انہیں کوئی بتائے کہ ہجڑے بن کر ہندووں کو خوش کرنے کیلیے پاکستان اور اسلام کی گستاخیاں مت کرو بلکہ کفار سے برائے راست اپنی آزادی حاصل کرنے کی جرأت پیدا کرو

بریلوی مکتبہ فکر کے اویسی کو دیکھو تو وہ بظاہر مسلمانوں کے لیے محتاط انداز سے آواز بلند کر تو رہا ھے لیکن ساتھ ہی بلاوجہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے بھارت سرکار کو خوش کرنے کی کوشش بھی کرتا ھے۔ دیوبندی مکتبہ فکر کے مولانا مدنی کو دیکھو تو وہ تو کھلم کھلا بی جے پی کا کارندہ بن کر مودی کی حمایت کر رہا ھے

مسلمانوں کی بقا و سلامتی سے انہیں کوئی سروکار نہیں ھے۔ ایسے حالات میں اگر ھم یہ سمجھیں کہ بھارتی مسلمان جاگ گئے ھیں تو یہ ھماری خام خیالی ھے۔ جاگنے کا مطلب ھوتا ھے اپنے حقوق و جائز مطالبات کیلیے جان تک کی بازی لگا دینے کا عزم لے کر اٹھ کھڑے ھونا. اور پھر اپنے مقاصد کے حصول میں حائل ہر مشکل کو برداشت کرنا حتی کہ جان تک کی بازی لگا دینا۔

لیکن افسوسناک اور شرمناک امر یہ ھے کہ بھارتی مسلمانوں نے صرف مار کھانا اور ڈرنا سیکھا ھے۔ ڈرپوک اتنے کہ سرِ عام ماریں کھاتے، عزتیں لٹاتے اور جانیں گنواتے ھیں۔ لیکن اپنے حق کیلیے جان کی بازی لگاتے انہیں ڈر لگتا ھے۔ بھارتی مسلمان یاد رکھیں کہ جتنی دیر کریں گے اتنی بڑی قربانی دینی پڑے گی۔ اور ہاں صرف پاکستان کو برا بھلا کہہ کر بھارتی ہندووں کے مظالم سے جان نہیں چھوٹے گی. بلکہ کچھ بڑا کرنا ھو گا

تہذیب الحسن

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here