ہم حکومت وقت سے مندرجہ ذیل اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

0
381

ابابیل تحریک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم حکومت وقت سے مندرجہ ذیل اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

الف ۔۔۔۔۔۔۔۔ تربیت

۔ 1۔ تمام ملک میں ایک ہی نصاب رائج کیا جائے جسکا کنٹرول ایک ہی مرکزی بورڈ کے پاس ہو۔ مدارس کے بچوں کو بھی اسی بورڈ کی سفارش کردہ کچھ مضامین پاس کرنا لازم قرار دئیے جائیں۔

۔ 2۔ نصاب میں قرآن پاک اس ترتیب سے شامل کیا جائے کہ میٹرک تک ہر بچہ قرآن ترجمے کے ساتھ ختم کر چکا ہو، حضورﷺ کی سیرت اور بنیادی اخلاقیات سے واقف ہو، بنیادی حلال و حرام سے واقف ہو اور درست طریقے پر نماز پڑھنا جانتا ہو۔

۔ 3۔ پہلی کلاس سے یونیورسٹی تک مخلوط تعلیم مکمل طور پر ختم کر دی جائے۔

۔ 4۔ پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے ہر قسم کے انڈین مواد کو پاک کیا جائے۔

۔ 5۔ چاروں بڑے مسالک ( دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ) کے ایک ایک عالم پر مشتمل ایک بورڈ بنایا جائے جو میڈیا پر فحش اور معیوب مواد کے خلاف شکایات سن کر موقعے پر ہی اس کو بین کرنے اور زیادہ قابل اعتراض مواد کی صورت میں بین کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت کو سزا سنانے کے لیے ریفر کرسکے۔

۔ 6۔ سات سال کی عمر تک بچوں کو صرف بہت بنیادی اسلامی تعلیمات، کلمے اور اخلاقیات سکھائی جائیں جیسے سلام کرنا، قطار میں چلنا، سچ بولنا اور کچرہ اٹھا کر ڈسٹ بن میں ڈالنا وغیرہ۔

۔ 7۔ سارے نصاب کو اردو میں تبدیل کر دیا جائے اور اردو کو ہی ملک کی دفتری زبان بنایا جائے۔

۔ 8۔ ہر قسم کے کال اور انٹرنیٹ پیکچز ختم کر دئیے جائیں اور فی منٹ کالز اور میسجز کے ریٹس دگنے کر دئیے جائیں۔ صرف ان کو سستا انٹرنیٹ مہیا کیا جائے جن کے پاس کمرشل استعمال کا لائسنس ہو۔

ب ۔۔۔۔۔ انصاف

۔ 1۔ عدالتوں میں اپیل کا خاتمہ کیا جائے ۔

۔ 2۔ سٹے ارڈر کی زیادہ سے زیادہ مدت تین ماہ ہو اور ایک کیس میں ایک سے زائد سٹے نہ دیا جائے۔

۔ 3۔ وکلاء کو کیس اور اسکی فیس حکومت کی طرف سے ملے اور فیس فیصلہ ہونے کے بعد۔

۔ 4۔ مندرجہ ذیل جرائم پر یہ سزائیں دی جائیں۔

چوری ثابت ہونے پر ہاتھ کاٹا جائے لیکن سرکاری خزانے سے 10 کروڑ روپے یا زائد کرپشن ثابت ہونے پر سزائے موت دی جائے۔
زنا کا اعتراف ہو یا چار گواہوں کی گواہی سے ثابت ہو تو شادی شدہ کو موت اور غیر شادی شدہ کو کوڑوں کی سزا دی جائے۔ کوڑوں کی تعداد اور موت کا طریقہ جج کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے۔
قتل ناحق کرنے والے کو سزائے موت دی جائے۔
فساد فی لارض کرنے والے کے مخالف سمت میں ہاتھ پاؤں کاٹ کر سرعام لٹکایا جائے۔ اور فساد فی لارض میں دہشت گردی، ڈاکہ زنی، تحریر و تقریر کے ذریعے اسلام اور ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے کو بھی شامل کیا جائے۔

۔ 5۔ ججز کے صوابدیدی اختیارات میں لامحدود اضافہ کیا جائے۔ انہیں اگر لگے کہ قانون ” انصاف ” کی راہ میں رکاؤٹ بن رہا ہے تو اس قانون کو بائی پاس کر سکیں۔

۔ 6۔ مجرموں کے خلاف پولیس اور فوج سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گواہی قبول کی جائے۔

۔ 7۔ سوائے لین دین کے معاملات کے باقی جرائم میں صرف شخصی ضمانت قبول کی جائے اور مجرم کے پیش نہ ہونے پر ضامن کو سزا دی جائے۔ لین دین کے معاملے اتنی ہی رقم بطور ضمانت قبول کی جائے جتنی کا معاملہ ہو۔

ج۔ قومی سلامتی

۔ 1۔ صوبائی حکومتوں کا خاتمہ کیا جائے اور پورے ملک کو ایک مرکزی حکومت کنٹرول کرے جس میں تمام ملک کے نمائندے شامل ہوں۔

۔ 2۔ افغانیوں کی اپنے ملک باعزت اور تیز رفتار واپسی۔

۔ 3۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے میں سول حکومت بھی پاک فوج کے ساتھ تعاؤن کرے۔

۔ 4۔ پاکستان اپنے جنگی اڈے پاکستانی سے باہر بھی قائم کرے۔

۔ 5۔ دہری شہریت رکھنے والوں کو رکن پارلیمنٹ اور سینٹ کے ساتھ ساتھ کسی بھی قومی ادارے میں انتظامی پوزیشنز کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔

۔ 6۔ پاک فوج کے شہداء کے لیے آن لائن ایک ایسا فنڈ قائم کیا جائے جسکی نگرانی پاک فوج خود کرے اور جس میں شہداء کے خاندانوں کے لیے بینک اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ موبائل بیلنس سے بھی فنڈز منتقل کیے جا سکیں اور ان کو آن لائن دیکھا جا سکے۔

۔ 7۔ اعلی مشاہروں پر علماء کی ایک ایسی ٹیم تیار کی جائے جس میں تمام مسالک کے علماء شامل ہوں جو ملک بھر میں لسانیت اور فرقہ واریت کے خلاف عملی طور پر کام کریں اور اپنے کام کی رپورٹ ہفتہ وار پبللکلی جاری کریں۔

۔ 8۔ صحابہ کی شان میں گستاخی کو قابل سزا جرم قرار دیا جائے اور کوڑوں یا قید کی شکل میں اسکی سزا مقرر کی جائے۔

۔ 9۔ ملک بھر سے کم از کم بیس لاکھ جوانوں پر مشتمل ایک ایسی رضاکار فورس قائم کی جائے جو بوقت ضرورت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر سکے اور ایمرجنسی اور جنگ کی صورت میں خدمات سرانجام دے سکے۔ ان کو ایک سنگل فائر والی بندوق رکھنے کا لائسنس اور بنیادی تربیت دی جائے اور انکی کمانڈ پاک فوج کرے۔

۔ 10۔ غداری اور دہشت گردی کے خلاف فوجی عدالتوں کو از خود ایکشن لینے کی اجازت دی جائے جن کے فیصلوں کے خلاف کہیں اپیل کرنے کا حق نہ ہو۔

د ۔۔۔۔۔۔۔ معیشت

۔ 1۔ بینک سود دینا اور لینا بند کریں۔ رقوم محض امانتاً رکھیں اور اسکی معمولی فیس وصول کریں۔

۔ 2۔ سٹاک ایکسچیج میں شیرز کا لین دین صرف اسکی اصل قیمت پر ہو۔ اس سے زائد قیمت پر لین دین کو ممنوع قرار دیا جائے۔

۔ 3۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کو جلد سے جلد مکمل کیا جائے اور اس کو چین تک بچھایا جائے۔

۔ 4۔ سی پیک کے لیے چین کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کے کچھ بنیادی نقاط منظر عام پر لائیں جائیں مثلاً
چینی سرمایہ کاری میں قرض کتنا ہے اور سرمایہ کاری کتنی ہے؟
قرض پر سالانہ سود کتنا ہوگا؟
پاکستان کو راہداری کے عوض کتنی رقم ملے گی؟
راہداری کے ساتھ قائم ہونے والی صنعتوں میں سرمایہ کاری کس کی ہوگی؟ لیبر کس کا ہوگا؟ اور منافع کس کو کتنا ملے گا؟

۔ 5۔ سوائے پلوں اور نکاسی آب کے منصوبوں کے ہر قسم کے ترقیاتی کام روک کر جنگی بنیادوں پر تمام ممکنہ ڈیمز بنائیں جائیں بشمول کالا باغ ڈیم کے اور جہاں بھی ممکن ہو بجلی بناناے کے ٹربائن فٹ کیے جائیں۔

۔ 6۔ تیل، جنگی سازو وسامان، بھاری مشینوں اور اناج کے علاوہ ہر قسم کی درآمدات پر پابندی لگا دی جائے۔

ر ۔۔۔۔۔۔ صحت

۔ 1۔ ہر قسم کے ھائی بریڈ بیچ پر پابندی عائد کی جائے۔

۔ 2۔ پولٹری کی مصنوعی فیڈ اور فارمی چوزوں پر پابندی عائد کی جائے۔

۔ 3۔ ملاؤٹ کرنے یا ذخیرہ اندروزی کرنے والے شخص کا جرم ثابت ہونے پر قید کی سزا کے علاوہ اس کے چند بنیادی شہری حقوق چھین لیے جائیں۔ مثلاً
پاسپورٹ بنانے کا حق،
بینک اکاؤنٹ کھولنے کا حق،
ووٹ اور گواہی دینے کا حق،
سرکاری علاج کا حق،

۔ 4۔ ڈاکٹرز نسخے میں صرف فارمولہ لکھنے کےپابند ہونگے۔ دوائی کا نام لکھنے والے کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے یا جس ڈاکٹر کا ثابت ہوجائے وہ کسی کمپنی یا لیبارٹری سے کسی بھی شکل میں معاوضہ یا حصہ لیتا ہے۔

۔ 5۔ تمام شہروں کے آدھے پارکس صرف خواتین کے لیے مخصوص کیےجائیں جہاں 7 سال سے اوپر کے لڑکے کا داخلہ ممنوع ہو اور پارک کے چاروں جانب مناسب آڑ یا پردہ ہو۔

———————-

مندرجہ بالا اقدمات سے ہمارے بیشتر مسائل ہو سکتے ہیں۔ اگر ساتھ دینا چاہیں تو اس تحریک کا حصہ بنیے۔ مزید انفو کے لیے پیج لائیک کیجیے جسکا لنک کمنٹ میں دیا گیا ہے۔

نوٹ ۔۔ اگر کوئی تجویز پیش کرنا چاہیں تو ضرور پیش کیجیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here