ہمارے یہاں کے حاکم آج کل امریکہ کے ایئرپورٹس پہ ننگے ہو کر تلاشیاں دیتے پھرتے ہیں۔

0
474

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
امریکہ کی طرف ساٹھ سفارت کاروں کو ملک بدر کیے جانے اور ایک قونصلیٹ بند کرنے کے جواب میں روس نے پورے ساٹھ امریکی سفارت کار نکال دیے اور سینٹ پیٹر برگ میں موجود امریکی قونصلیٹ بھی بند کر دیا۔ یہ غیرت مند حاکموں کے غیرت مندانہ فیصلے ہیں۔ روس کا یہ دلیرانہ فیصلہ دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ غیرت بھی ہجرت کرتی ہے شاید۔ جب سے مسلم حکمرانوں نے بے غیرتی کے مظاہرہ شروع کیا غیر مسلم حکمران غیرت دکھانے لگے۔ ہمارے یہاں کے حاکم آج کل امریکہ کے ایئرپورٹس پہ ننگے ہو کر تلاشیاں دیتے پھرتے ہیں۔

پر ہمارے حاکم غیرت دکھا بھی کیسے سکتے ہیں بھلا؟

جو گردن تک کرپشن میں دھنسے ہوں، قرض مانگ کے کھانا جن کی عادت ہو، ملک کی محبت سے جن کے سینے خالی ہوں، قومی وقار کس چڑیا کا نام ہے جنہیں یہ پتہ ہی نہ ہو۔ جو پورا ملک پرائیویٹ کمپنیوں کے زریعے ٹھیکے پہ چلاتے ہوں۔ جن کا سارا وقت ملک کےلیے سوچنے کے بجائے مخالف سیاسی پارٹی کو نقصان پہچانے کی باتیں سوچتے گزرتا ہو۔ جن کے ممبرانِ اسمبلی اسمبلی میں سو جاتے ہوں، جھوٹ بولتے، شرابیں پیتے، مجرے دیکھتے اور زنا کرتے ہوں بھلا ان سے امریکہ یا کوئی بھی بڑا ملک کتے جیسا سلوک کیوں نہ کرے؟ آج وہ پاکستانیوں کی ننگا کر کے تلاشی لیتے ہیں کل وہ ساتھ میں دو چار جوتے لگانا بھی شروع کر دیں تو بھی کیا کر لیں گے یہ حاکم؟ اس لیے کہ کچھ کرنے کےلیے غیرت مند حکمران چاہیے ہوتے ہیں روسی صدر جیسے۔ اور غیرت مند ہونے کےلیے ان تمام بیماریوں سے پاک ہونا چاہیے جو میں اوپر گنوا چکا ہوں۔
باقی ہمارے حکمران ہی بے غیرت نہیں ہم خود بھی اولین درجے کے بے غیرت واقع ہوئے ہیں۔ ہر بندا خوش ہو رہا ہے کہ امریکہ نے ہمارے وزیرِ اعظم کی تلاشی لی۔ یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام تھا اور یہاں ہمارے جماندرو خوشی سے ناچ رہے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کے بجائے پاکستان کی ایک بکری کی تلاشی بھی اگر امریکہ لے تو یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے وہ تو پھر اس ملک کا وزیرِ اعظم ہے۔ شاہد خاقان عباسی جو بھی ہیں جس پارٹی سے بھی ہیں عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پارٹی یا پالیسی کی حد تک ان سے درجنوں اختلافات ہوں تو بھی کوئی تک نہیں بنتی کہ عالمی سطح پر ہم خود ہی اپنے لوگوں کی تذلیل پہ راضی ہوں۔ تمہارا کوئی جانی دشمن ہو اسے بھی اگر کوئی بھارتی فوجی گولی مارنے لگے تو تم گوارا نہیں کرو گے کیوں کہ دشمنی ذاتی معاملہ ہے اور بھارت سے تعلقات ملکی معاملہ ہے۔ ذات پر کبھی ملک کو ترجیح نہیں دی جاتی بلکہ ملک ہمیشہ مقدم رکھا جاتا ہے۔ آج امریکہ نے ہمارے وزیرِ اعظم کی بے عزتی کی تو خوش ہو رہے ہو کل کو بھارت کر دے گا تو بھی خوش ہو گے؟ اور یہ بے عزتی صرف وزیرِ اعظم کی نہیں ہوئی پوری قوم کی ہوئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here