ہمارے حکمران دشمن کی چالوں کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کیونکہ پانچ سال کا عرصہ کم جو ہوتا ہے

0
459

پانچ سال ۔۔۔۔۔۔
بائیس مئی 1545ء جب بارود کے ڈھیر میں پڑا وہ زخموں سے چور تھا اور درد کی شدت سے کراہ رہا تھا ۔ آسمان کی طرف منہ اٹھائے ہزار شکوے دل میں لئے بار بار اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن شائد قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ چشم فلک ایک عظیم منظرکا نظارہ کر رہی تھی درد سے کراہنے والا زخموں سے پوری زندگی کھیلا لیکن آج معاملہ الگ تھا آج اس مرد مجاہد کا سامنا اس حقیقیت سے ہونے والا تھا جس کو کوئی بھی نہیں ٹال سکتا تھا۔ اس کے ارد گرد کھڑے سپاہی اسے کہہ رہے تھے” آپ نے ریاست کے نظم ونسق اور رعایا کی فلاح و بہبود کے لئےہر قسم کے انقلابی اقدامات کئے ، کوئی کمی نہیں چھوڑی ،آپ نے ہر بحران کا جوانمردی سے مقابلہ کیا لیکن یہ کیا ان زخموں کی وجہ سے آپ اپنا دل چھوٹا کر رہے ہیں ؟”
اس نے کہا ،تم ٹھیک کہتے ہومگرمیں ایک بہت بڑی حسرت دل میں لئے اس دنیا سے جا رہا ہوں میری بڑی خواہش تھی کہ مکہ معظمہ جانے والوں کے لئے سمندری راستوں میں مختلف مقامات پر پچاس پچاس جہازوں کے بیڑوں کے سرائے بناوں اور یہ بیڑے اس قدر مضبوط ہو کہ طوفان اور باد و باراں کا اثر نہ ہوتاکہ حجاج کرام بے خطر سفر کر سکیں۔ قریب کھڑے سپاہی پہلی بار کچھ کر نہیں پا رہے تھے اس لئے زاروقطار رو رہے تھے ۔ دنیا کا کوئی طبیب اگر اسے بچا سکتا تو فلک جھپکتے اسے حاضر کیا جاتا لیکن شائد اس کی زخموں کا مداوا ممکن نہ تھا ۔ وہ جینا چاہتا تھا کیونکہ اس کی زندگی میں ایک عظیم مقصد اب بھی نامکمل پڑا ہوا تھا ۔ زندگی اسے بلا رہی تھی ،وہ دوڑ کر زندگی کی بانہوں میں سر چھپانا چاہتا تھا لیکن سب کچھ شائد اب ناممکن تھا ۔ اس کی آنکھیں کھل نہیں پا رہی تھی اور بند آنکھوں سے ایک خوب صورت تصور تھا جس میں میدان جنگ کی دھول بھی تھی اور بھاگتے گھوڑوں کی ہنہناہٹ بھی ، تلواروں کے ٹکرانے کی آواز بھی تھی اور سپاہیوں کی کراہنے کی فریاد بھی ، جیت کی خوشیاں بھی تھی اور جنگ میں مر کر بچھڑنے والوں کاغم بھی تھا۔ وہ بار بار کوشش کر رہا تھا کہ کسی طرح زندگی اور موت کی اس کشمکش میں زندگی کی جیت ہو لیکن آخری فیصلے وہی صادر فرماتا ہے جو خالق لا یزال ہے ۔ وہ جینا چاہتا تھا کیونکہ زندگی میں بہت سارے کام ابھی نمٹانے تھے لیکن تھک ہار کر جب یقین آیا کہ موت اب مقدر ہے تو اپنے آخری الفاظ سے ان مٹ نقوش چھوڑے وہ الفاظ جو دل میں نشتر کی طرح اتر جاتے ہیں ۔ جب یقیں ہو چلا کہ اب رخت سفر باندھنے کا وقت آیا ہے تو اپنے آخری الفاظ سے دلوں پر قیامت ڈھادی “عید بھی آئی تو شام کے وقت”
جی ہاں یہ الفاظ ہیں اس عظیم سپوت کے جو تاریخ کے ماتھے پر جھومر بن
کر ابھرا ۔ جس کے بارے میں تاریخ بھی گواہی دیتی ہے کہ اس جیسا کوئی نہیں آیا ۔ یہ عظیم اور بہادر سپوت فرید خان تھا جس کو تاریخ شیر شاہ خان سوری کے نام سے جانتی ہے ۔
شیر شاہ سوری نے ہندوستان پر پانچ سال حکومت کی اور یہ پانچ سال تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں لکھے جایئں گے ۔ اس کی حکومت دہلی سے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی ۔ وہ نہایت ہی عظیم دور تھا جب یہ پورا علاقہ اسکی حکومت میں ہر نعمت سے مستفید ہورہا تھا ۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ
جرنیلی سڑک کی تعمیر ہے ۔ سڑکیں تو آج بھی بنتی ہیں لیکن صرف سڑکیں بنانے سے کوئی شیر شاہ سوری نہیں بنتا ۔ اس نے صرف سڑکیں اور سرائے نہیں بنائے بلکہ اپنی رعایہ کی ہر ضرورت کا خیال بھی رکھا ۔ اس دور میں تمام مساجد ریاست کے زیر انتظام تھے موذن اورامام کو سرکاری خزانے سے تنخواہ ملتی ۔ جرائم جتنے بھی تھے ان کا جڑ سے اس نے خاتمہ کردیا ۔ تھکے ماندے مسافر رات کی تاریکی میں جہاں بھی چاہتے مال و اسباب سمیت بغیر کسی محافظ کے رات گزارتے کیونکہ اگر وہ لوٹ لئےجاتے تو حکومت ان کا نقصان پورا کرتی۔ڈاک کا نظام اس قدر برق رفتار اور مربوط تھا کہ ایک دن میں خط اور چٹی ریاست کے آخری کونے تک پہنچ جاتی۔ یہ ہندوستان
کاپہلا حکمران تھا جس نے سویلین حکمرانی کی داغ بیل ڈالی۔ مغل بادشاہوں کے ہاں فوج کا سربراہ ہی وزیر دفاع ہوا کرتا تھا مگر اس نے سویلین وزیر دفاع کے ذریعے انٹیلی جنس سیکرٹریٹ اور فوج کو چلایا۔ شیر شاہ سوری نے باغات اور عالیشان عمارتیں کھڑی کرنے کی بجائے اسپتال اور لنگر خانے تعمیر کروائے ،مسافروں کے قیام و طعام کے لئےسرائے بنائے۔ اس نے ہندوستان میں مالیہ کا نظام متعارف کروایا اور بھی بہت سارےخدمات ہیں یہ سب خدمات اور فتوحات صرف پانچ سال پر محیط ہیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ یہ پانچ سال ہمارے حکمرانوں کو بھی ملتے ہیں لیکن ستر سال گزرنے کے باوجود ملک بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے ۔ غریب دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہا ہے اور انقلابی سیاستدان ہر روز ایک نئے انقلاب کے لئے لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں ۔ اللہ کی رحمت ہے اس ملک پر ورنہ سیاستدان تو اس در پر ہیں کہ کس طرح یہاں لوگوں سے ان کی زندگیاں ہی چھین لے ۔ یہ پانچ سال کتنے اہم ہوتے ہیں لیکن ہمارے سیاستدان سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ۔ دشمن کب سے تاک میں بیٹھا ہے اور ہم ہر پانچ سال بعد ایک نئی امید کے ساتھ ان کو اس ملک کی بھاگ ڈور پانچ سال کے لئے دے دیتے ہیں لیکن جب پانچ سال گزر جاتے ہیں تو پیارا پاکستان نئی مصیبتوں کا سامنا کر رہا ہوتا ہے ۔
یہ پانچ سال کم اگر ہوتے تو شیر شاہ سوری بھی وقت کا رونا روتا لیکن اس نے وہ سب کچھ کر دکھایا جو وہ کرسکتا تھا ۔
یہ پانچ سال بہت اہم ہوتے ہیں لیکن جہاں انفرادیت انسانی رگوں میں سرائیت کرچکی ہو وہاں پانچ تو کیا بیس سال بھی کم ہوتے ہیں ۔ ہمارے حکمران دن بہ دن امیر ہوتے جارہے ہیں لیکن غریب کے بچے آج بھی ہمسائے کے گھر سے کھانے کی خوشبو سونگھ کر خوش ہو جاتے ہیں کیونکہ پانچ سال کم جو ہوتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں آج بھی عوام تھانوں میں اور ہسپتالوں میں ذلیل ہورہے ہیں لیکن بات جب لیڈر کی عزت کی آتی ہے تو آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں کیونکہ پانچ سال کم جو ہوتے ہیں ۔ یہاں آج بھی دن دیہاڑے لوگوں کی عصمتیں لٹتی ہیں لیکن مجال ہے جو کوئی حکمران کو برا بھلا کہے کیونکہ پانچ سال کم جو ہوتے ہیں امن لانے کے لئے ۔
ہمارے حکمران دشمن کی چالوں کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کیونکہ پانچ سال کا عرصہ کم جو ہوتا ہے ۔ یہاں ہسپتالوں کے فرش پر مریض بچے کو جنم دیتا ہے تو کوئی قیامت نہیں آتی کیونکہ ہسپتالوں میں سہولیات فراہم کرنے کے لئے پانچ سال کم جو ہوتے ہیں ۔ ہم تعلیم کے میدان میں دنیا کے سب سے بدتر قوم ہیں اور ہماری ڈگریاں جعلی بھی قرار پاتی ہیں لیکن ہم چیزوں کو ٹھیک نہیں کرپاتے کیونکہ پانچ سال میں یہ سب کچھ ممکن نہیں ہوتا ۔
ہمارے حکمران ٹھیک ٹھاک چیزوں کو خراب کردیتے ہیں اور پھر جب وہ ٹھیک نہیں ہو پاتی تو میڈٖیا کے سامنے قوم سے معافی مانگ لیتے ہیں کہ وقت کم تھا ورنہ ایسی غلطی نہ ہوتی ۔
ہم پانچ سالوں میں صحیح اور غلط کو سمجھ نہیں پاتے اور یہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ ہم عام لوگ ہیں اور تاریخ گواہ ہے جب تک عام لوگ نہیں سدھرتے خاص کا سدھرنا ناممکن ہوتا ہے ۔پانچ سال اس ملک کی قسمت بدلنے کے لئے بہت ذیادہ ہوتے ہیں بلکہ پانچ تو کیا ایک لمحہ بھی اہم ہے اگر کوئی اس ملک کے لئے سوچے ۔ ہم حالات کا رونا ہمیشہ روتے ہیں لیکن کھبی بھی ہم نے یہ نہیں سوچا کہ عوام اگر بے حس ہوجائے تو صدیاں بیت جاتی ہیں لیکن حالات نہیں بدلتے ۔ پانچ سال بہت اہم ہوتے ہیں خدارا ذرا سوچیئے ۔ اس ملک کے لئے پانچ تو کیا ایک لمحہ بھی بہت اہم ہے کیونکہ یہ ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: شبیر بونیری
کالم نگار: روزنامہ مشرق
انتخاب: محمد شاہد عنائیت

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here