ہماری ٹریفک سڑک کے بائیں جانب کیوں چلتی ہے

0
60
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

★★★ ہماری ٹریفک سڑک کے بائیں جانب کیوں چلتی ہے ★★★ 

پہلے وقتوں میں جب جاگیردارانہ نظام زوروں پر تھا۔ جب ہر کوئی شمشیر زیب تن کئے رہتا ۔چونکہ اکثریت دائیں ہاتھ سے کام کرتی تو تلوار کی نیام جسم کی بائیں جانب رہتی۔ اس طرح انہیں گھوڑے پر چڑھتے وقت بھی بائیں سے چڑھنا آسان ہوتا اس طرح تلوار اور اس کی نیام سواری کے اس عمل میں رکاوٹ نہ بنتی۔ دوسرا بائیں جانب چلنے میں دایاں ہاتھ کھلا رہتا اور تلوار کو نیام سے نکالنے میں بھی آسانی رہتی۔ مد مقابل پر تلوار کا بھر پور وار بھی دائیں جانب سے ہو سکتا تھا، اس لئے گھڑسواروں کا راستہ کی بائیں سمت چلنا بہتر ہوتا جو ایک قانون کی شکل اختیار کر گیا۔


ستارہویں صدی عیسوی میں فرانس میں جب باربرداری کے لئے کھلے چھکڑوں کا استعمال شروع ہوا جنہیں گھوڑوں کی کئی جوڑیاں آگے پیچھے جوت کر انہیںکھینچا جاتا تو کوچوان کے بیٹھنے کی کوئی علیحدہ سیٹ نہیں ہوتی تھی اور اسے سب سے پچھلے دو گھوڑوں میں سے بائیں جانب والے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھنا پڑتا تا کہ وہ دائیں ہاتھ سے اپنے چابک سے گھوڑوں کو ہانک سکے۔چونکہ وہ بائیں جانب بیٹھا ہوتا قدرتی طور پر اس کی خواہش ہوتی کہ اس کے پہلو سے گذرنے والے اس کی بائیں جانب سے گذریں اس لئے اسے اپنی سواری سڑک یا راستہ کی دائیں جانب رکھنی پڑتی۔


جن ممالک میں ٹریفک دائیں جانب چلتی ہے وہاں گاڑیوں کا اسٹئیرنگ بائیں جانب رکھا جاتا ہے۔
جن ممالک میں ٹریفک بائیں جانب چلتی ہے وہاں گاڑیوں کا اسٹئیرنگ دائیں جانب رکھا جاتا ہے۔


لڑکپن کا مشاہدہ ہے کہ سرگودھا میں ایک زمیندار کے پاس لیفٹ ہینڈ ڈرائیو گاڑی تھی جس کے پچھلے بمپر پر نمبر پلیٹ کے ساتھ ایک تکونی پلیٹ سرخ بارڈر والی لگی ہوتی جس میں لکھا ہوا تھا.  لفٹ ہینڈ ڈرائیو یہ پیچھے سے آنے والی گاڑیوں وغیرہ کے لئے ایک نوٹس ہوتا تاکہ وہ اسے کراس کرنے میں احتیاط کریں۔

تحریر محمد اشرف ساقی


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here