ہماری اندھی عدلیہ نے آنکھیں بند کر کے رہائی پر ٹھپا لگا دیا۔

0
566

ایک چھوٹی سی آئین شکنی ۔۔۔۔۔۔۔۔ !

باؤجود اعترافی بیانات اور تمام تر شواہد کے تاحال ڈاکٹر عاصم کا جرم ثابت نہیں ہوسکا۔ اب اسکو پکی پکی باہر جانے کی اجازت بھی مل گئی۔

آئین کی شق تریسٹھ ون سی کے تحت دہری شہرت کا حامل شخص پارلیمنٹ یا سینٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔

ڈاکٹر عاصم 5 سال سینٹ کا رکن اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم رہا۔

جب پکڑا گیا تو بڑے آرام سے عدالت کی خدمت میں اپنا ” کینیڈین پاسپورٹ ” پیش کر کے فرماتا ہے کہ ” جی میں تو کینیڈین شہری ہوں وہیں علاج کرانا ہے ” ۔۔۔۔۔

ہماری اندھی عدلیہ نے آنکھیں بند کر کے رہائی پر ٹھپا لگا دیا۔

نہ کوئی آئین شکنی ثابت ہوئی نہ کوئی سزا ملی۔

اراکین پارلینٹ کے لیے آئین میں لکھے گئے تمام تر ضابطے محض نمائشی ہیں اور اس میں بیان کیے گئے عوام کے حقوق محض فرضی۔

لعنت ہو اس عدلیہ پر اور ایسے آئین پر!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here