ھائبریڈ جنگ

0
22
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ھائبریڈ جنگ ۔۔۔۔۔۔ !۔

بنیادی طور پر تمام روایتی اور غیر روایتی طرز کی جنگوں کا ملغوبہ ہوتی ہے۔

پاکستان شائد اس وقت دنیا میں سب سے بڑی ھائبریڈ جنگ کا نشانہ ہے۔ اس کا مختصر مختصر جائزہ لیتے ہیں ۔۔۔

روایتی جنگ
( ایل او سی پر حملے، پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور انڈین کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین )

فورتھ جنریشن وار
( ٹی ٹی پی کی فاٹا میں، بی ایل اے اور اس سے جنم لینے والی ذیلی تنظیموں کی بلوچستان میں جنگ، ڈرون حملے، ایم کیو ایم کی کراچی میں اور پی ٹی ایم کی کےپی کے میں تازہ جنگ، پاکستان کے سیاست دان، ملا اور صحافی ان جنگوں میں ریاست کے خلاف لڑ رہے ہیں )۔

ففتھ جنریشن وار
( میڈیا، سوشل میڈیا اور بیکن ھاؤس جیسے تعلیمی اداروں کے ذریعے پاکستان کے خلاف جاری جنگ )

ان کے علاوہ

سفارتی محاذ پر
( نواز شریف کے چین کے ساتھ ایسے معاہدے جن کو اب ریورس کرنا ناممکن ہوچکا ہے جو شائد تاریخ میں پہلی بار پاک چین تعلقات میں دراڑ لے آئیں، امریکہ کے ساتھ خراب تعلقات، دہشت گردی اور کشمیر کے محاذ پر پاکستان کے خلاف سابقہ حکومتوں کی پاکستان دشمن پالیسیاں وغیرہ )۔

معاشی محاذ پر
( کمر توڑ قرضے، کمر توڑ کرپشن، غیر پیداواری منصوبوں میں ریاست کی تمام دولت جھونکنا جیسے میٹرو، موٹرویز اور اورینج ٹرین منصوبے، ریاستی ادارے دیوالیہ کرنا، درآمدات و برآمدات کا توازن بگاڑنا اور ڈیم نہ بننے دینا )۔

یہ پاکستان کے خلاف لڑی جانے والی ھائی بریڈ جنگ کا مختصر ترین خاکہ ہے۔ اس پر تفصیلی مضمون جلد آئیگا۔ ان شاءاللہ

اس قسم کی ھائی بریڈ جنگوں میں دو طرح کے لوگ خود اپنی ہی ریاست کے خلاف دشمن کا ساتھ دیتے ہیں۔

پہلے وہ جن کے پاس مذکورہ ریاست میں کھونے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، نہ خاندان ( بیوی بچے) نہ مال اور جائداد وغیرہ۔ ان کے زیادہ مفادات ریاست سے باہر ہوتے ہیں مثلاً ہمارے بعض سیاستدان، صحافی اور انسانی حقوق کے نام نہاد سماجی تنظیموں لوگ۔

دوسرے وہ احمق جنہیں واقعی لگتا ہے کہ وہ اپنی ہی ریاست کے خلاف جنگ کر کے کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے رہے ہیں۔
اس کی شاندار مثال ہمارے بعض سیاسی و غیر سیاسی ملا ہیں جو عملاً ملحدین کے جھنڈے تلے پاکستان کے خلاف ایک مستقل جنگ لڑ رہے ہیں۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here