گلگت بلتستان میں دہشت گردی کی لہر اور لوسیفرز

0
104
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں لوسیفرز ( کوئی اور من پسند نام دینا چاہیں تو دے دیں جیسے عالمی اسٹیبلشمنٹ یا فری میسنز یا صہیونی یا یہودی لابی وغیرہ ) کا طریقہ واردات بہت سادہ سا ہے۔

سب سے پہلے ” برین واشڈ ” ملاؤوں کے ذریعے علاقے کے حالات خراب کرو، ریاست کی رٹ ختم کرو، سرکاری عمارات تباہ کرو اور پولیس کو شکست دو، فوج کو کاروائی کرنے پر مجبور کرو، فوج ناکام ہو جائے تو کیا کہنےِ، لیکن اگر کامیاب ہوجائے تو اپنی سماجی تنظیموں اور میڈیا میں بیٹھے لبرلز کی مدد سے ان فوجی کاروائیوں کو ظلم پر مبنی اور اپنی ہی عوام کے خلاف جنگ قرار دو، عوام کو فوج کے خلاف اکساؤ بلکہ دہشت گردی کو بھی فوج ہی کے سر تھوپ دو گویا یہ سب کچھ فوج کی مرضی سے ہوا، دیکھتے ہی دیکھتے لمبی لمبی زبانوں والے سیکولز اور ملا اپنی ہی افواج اور ریاست کے خلاف ایک پیج پر آجائینگے۔ بس پھر تماشا دیکھو اور جہاں تیل چھڑکنے کا موقع ملے ڈالتے جاؤ۔

کراچی، فاٹا اور بلوچستان کے بعد اب لگ رہا ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی اسی فارمولے کو آزمایا جا رہا ہے۔ لوسیفرز کا ان علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ آج کا نہیں بلکہ کئی عشرے پرانا ہے۔ اس منصوبے پر بات کرنے سے پہلے لوسیفرز کا مختصر سا تعارف کروا دیتے ہیں تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ وہ یہ سب کیوں کر رہے ہیں اور درحقیقت کون کون ان کا ساتھ دے رہا ہے۔

لوسیفرز خود کو شیطان کے پیروکار کہتے ہیں اور شیطان کو کنگ لوسیفر یا خدا مانتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ دنیا شیطان کے لیے تخلیق کی گئی ہے اور دنیا کا اقتدار اور کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اس کائنات کے اصل خالق اور شیطان کے درمیان مسلسل کشمکش جاری ہے جس میں اگر شیطان غالب آتا ہے تو اس کے پیروکاروں کو زمین پر ہی ابدی زندگی مل جائیگی۔

اسی لیے دنیا کے وسائل پر قبضہ وہ اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اپنی پوری توجہ دنیا میں موجود توانائی کے ذخائر کا کنٹرول، ذرائع ابلاغ ( پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ) کا کنٹرول اور عالمی مالیاتی اداروں کا کنٹرول حاصل کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔

اسی کنٹرول کی وجہ سے اس وقت وہ دنیا پر درپردہ حکومت کر رہے ہیں۔ وہ اپنے مفادات کے مطابق ممالک کے نقشے تبدیل کر دیتے ہیں اور کسی بھی ملک کی سیاست میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں کر لیتے ہیں۔ وہ کٹھ پتلی حکومتیں بنواتے ہیں اور تیسری دنیا کے ممالک میں جنگیں برپا کرواتے ہیں تاکہ وسائل پر ان کی گرفت مضبوط رہے, خلاصہ یہ کہ دنیا پر ان کے کنٹرول کی وجہ معیشت، میڈیا اور توانائی پر کنٹرول ہے۔ نہ صرف توانائی بلکہ توانائی کے راستوں پر بھی۔

انیسویں صدی کے آخری پچاس سال اور بیسویں صدی کے پہلے پچاس سالوں تک دنیا میں کوئلہ اور ھائیڈروکاربن ( تیل اور گیس ) توانائی کے اہم ترین ذرائع تھے جن پر پوری دنیا چل رہی تھی۔ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک دنیا کی معیشت چلانے والے تین بڑے انجن جنہوں نے آج بھی دنیا کی معیشت کو جکڑ رکھا ہے۔ اور میڈیا ( ریڈیو، ٹی وی اور اخبار ) نے دنیا کی سیاست کو جکڑ رکھا ہے۔ ان تینوں پر انہی کا کنٹرول تھا ان کے منصوبوں کے عین مطابق۔

لیکن اندازہ ہے کہ دستیاب تیل و گیس کے ذخائر صرف اگلے پچاس سال تک ہی دنیا کی ضروریات پوری کر سکیں گے جس کے بعد دنیا اس کے متبادل کی طرف جائیگی۔ تیل، گیس اور کوئلے کا سب سے عمدہ، سستا، ماحول دوست اور بہترین متبادل پانی سے بنائی جانے والی توانائی ہے۔ جس کی دنیا میں سب سے زیادہ استطاعت اسی خطے میں ہے جہاں دہشت گردی کی تازہ لہر اٹھی ہے جو اس پوسٹ کا موضوع ہے۔

بدخشاں اور کنڑ کے علاقے 50،000 میگاواٹ ( افغانستان ) کے پی کے کے شمالی علاقے 33000 میگاواٹ اور گلگت بلتستان 50،000 میگاواٹ ( پاکستان ) جموں و کشمیر اور لداخ تقریبا 150،000 میگاواٹ ( پاکستان اور انڈیا کے درمیان متنازع علاقہ), اور تقریباً 100،000 میگاواٹ چین سے ملحقہ علاقے۔ یہ تقریباً 400،000 میگاواٹ کے مساوی ہے۔ یہ بے پناہ ھائیڈل پاور پوٹینشل پورے ایشیاء کی بجلی کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔

اگست 2012ء میں بدخشاں سے تعلق رکھنے والے ایک افغان رکن پارلیمنٹ نے امریکہ اور برطانیہ کے ایک مشترکہ خفیہ منصوبے کا انکشاف کیا جو ایک نئی ریاست کے قیام سے متعلق تھا۔ اس کے مطابق یہ ریاست خیبر پختونخواہ کے شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، جموں، لداخ، افغانستان کے کنڑ اور بدخشاں کے علاقوں پر مشتمل ہوگی اور جس کی سرحدیں چینی علاقے کے قریب خنجراب پاس تک جائینگی۔ امریکہ اور افغانستان نے فوری طور پر خبر کی تردید کر دی کہ یہ جھوٹ ہے لیکن یہ جھوٹ نہیں تھا۔

اس خطے پر ان کی نظریں 1950ء سے مرکوز ہیں۔ 1960ء میں سندھ طاس معاہدے کی شکل میں لوسیفرز نے پہلی بار اس خطے تک رسائی حاصل کی۔ پاکستان کو منگلا اور تربیلا ڈیم بنوا کر دئیے گئے جو پاکستان کی ضرورت تھی لیکن لوسیفرز کا مقصد پاکستان کی خیرخواہی ہرگز نہ تھا۔ ان ڈیموں کی تعمیر کے بعد ورلڈ بینک آور آئی ایم ایف نے پہلی بار پاکستانیوں کے ” تیار” کھانے کی عادت ڈلوائی جسکا مشاہدہ بھٹو دور میں پہلی بار قرض پر ملک چلانے کی شکل میں کیا گیا۔ جو ان کا اصل ٹارگٹ تھا۔

انہی مالیاتی اداروں نے پاکستان میں کرپشن کے کلچر کو فروغ دیا۔ اس کو چیک کیا جا سکتا ہے کہ ورلڈ بینک کی اس خطے میں آمد سے قبل پاکستان کی حکومتی مشینری میں کرپشن نہیں تھی۔ اس کے بعد این جی اوز کا دور شروع ہوا جنہوں نے عوامی ترقیاتی منصوبے متعارف کروائے اور ساتھ ساتھ کرپشن کی نت نئی راہیں۔ رفتہ رفتہ یہ کرپشن پاکستان کے لیے ناسور بن گئی۔

روس کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستانی میں بیرونی امداد سے چلنے والی این جی اوز کھمبیوں کی طرح پھیل گئیں۔ ان این جی اوز کا بنیادی مقصد سی آئی اے کی مدد کرنا تھا۔ ان این جی اوز نے ترقی کے نام پر بہت سارے پراجیکٹس متعارف کروائے۔ ان میں یو ایس ایڈ پروگرام، آغا خان رورل سپورٹ پراجیکٹ، کڈ پراجیکٹ، ٹوٹی فروٹی پراجیکٹ اور سوشل فاریسٹری پراجیکٹ شامل ہیں۔

آغا خان رورل پروگرام نے لسانی بنیادوں پر چترال اور گلگت بلتستان کے امن کو خطرے سے دوچار کر دیا۔ اس پروگرام نے حکومت پاکستان کے متوازی وہاں اپنی حکومت قائم کر لی جس میں کسی بھی حکومت کی طرح تمام شعبے شامل تھے۔ اسی پراجیکٹ کے تحت بہت ساری ذیلی این جی اوز لانچ کی گئیں جنہوں نے وہاں کی سوسائیٹی اور علاقے کے بارے میں حساس معلومات حاصل کیں۔

روس کی شکست کے بعد بھی یہ ادارے ان علاقوں میں مصروف عمل رہے اور نہایت باریک بینی سے ہر چیز کا جائزہ لیتے رہے۔ انہوں نے سب سے پہلا اور بڑا حملہ وہاں صدیوں کے آزمودہ نظام انصاف پر کیا اور اس کو سپریم کورٹ آف پاکستان کی مدد سے غیر آئینی قرار دے دیا۔ نظام انصاف کے کلعدم قرار پانے کے بعد ہی تحریک نفاذ شریعت محمدی جیسی تحریکوں نے جنم لیا جن کے بطن سے ٹی ٹی پی نے جس کے بعد دہشت گردی پورے پاکستان میں پھیل گئی۔

( ان این جی اوز نے آج تک پاکستانی ریاست کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا سوائے کرپشن عام کرنے کے اور ریاستی اداروں پر حملوں کے خاص طور پر فوج۔ انہی این جی اوز نے سب سے پہلے ریاست کے دفاعی بجٹ پر اعتراض کیا ), قومی سلامتی کے ادارے اس صورت حال سے بے خبر نہیں رہے۔ 2002ء پاک فوج نے چین کے ساتھ ملکر کر گوادر منصوبے پر کام شروع کیا جس کے لیے خاموشی سے گوادر تا خنجراب راہدای کی تعمیر شروع ہوئی۔ مشرف دور میں یہ منصوبہ لو پروفائل رکھا گیا۔

لیکن اس کے جاتے ہی پہلے زرداری نے اس کا ڈھنڈورا پیٹا گو کام سست کروا دیا۔ اس کے بعد نواز شریف نے اس کو تمام تر کریڈٹ لینے کے بعد اس منصوبے سے خطرناک چھیڑ چھاڑ کی۔ جس میں چین کے ساتھ کچھ ناقابل قبول شرائط پر خفیہ معاہدات بھی شامل ہیں۔ غالب گمان ہے کہ ایسے کئی معاملات کے راز نواز شریف کے متعلق بننے والی جے آئی ٹی نے والیوم ٹین میں افشاء کیے ہیں۔

دوسرا کام یہ کیا گیا کہ پرویز مشرف کے دور میں اس خطے میں دیا میر بھاشا اور کٹزارا ڈیم بنانے کا اعلان کیا۔ جو 2012ء تک مکمل ہونا تھا۔ لیکن اس کے جاتے ہی دیا میر بھاشا پر کام روک دیا گیا اور کٹزرا ڈیم کو بند کر دیا گیا۔

یہ سی پیک منصوبہ اور یہاں بننے والے ڈیم اس مبینہ ریاست کی موت تھے جس کا خواب امریکہ اور برطانیہ دیکھ رہے تھے۔ 
کے پی کے کے شمالی علاقوں، کنڑ، بدخشاں، گلگت، کشمیر، جموں اور لداخ وغیرہ پر مشتمل اس ریاست کے قیام کا مطلب لوسفیرز کا دنیا میں پانی کے ذریعے بنائی جانے والی بجلی کی سب سے زیادہ استطاعت رکھنے والے خطے کا کنٹرول اور توانائی کی سب سے بڑی گزرگاہ کا کنٹرول تھا۔

آپ کو 2012ء میں کامرہ ائر بیس پر حملہ پر یاد ہوگا۔ اس حملے کا مقصد صرف پاکستان کی دفاع تنصیبات کو تباہ کرنا نہیں تھا بلکہ اس حملے میں لولو پاتھ سر کے 25 معصوم شہریوں کو بھی قتل کیا گیا تھا تاکہ وہاں پر بغاوت کے بیج ڈالے جا سکیں۔ کامرہ ائر بیس جیسا حملہ عام دہشت گرد نہیں کر سکتے بلکہ اس کی منصوبہ بندی را، سی آئی اے اور موساد جیسے ایجنسیاں ہی کر سکتی ہیں۔

2013ء میں چلاس میں ہی دہشت گردوں نے چینی کوہ پیماؤوں کو قتل کر دیا تھا تاکہ پاک چین تعلقات میں دراڑ ڈالی جا سکے, راحیل شریف کے دور میں پاکستان بھر میں دہشت گردوں کو شکست دی گئی۔ جنرل باجوہ کے آنے کے بعد پاکستان بتدریج امریکہ سے دور ہوتا چلا گیا حتی کہ جنرل باجوہ نے امریکہ کا کوئی دورہ کرنا تک گوارا نہ کیا۔

امریکہ میں پہلی بار 2017ء میں کھل پر پاکستان کو دھمکی دی کہ پاکستان اپنا ایک اہم خطہ کھو دے گا۔ اس پر جنرل شعیب نامی دفاعی تجزیہ نگار نے تبصرہ کیا کہ ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ امریکہ گلگلت بلتستان میں گڑ بڑ کرنا چاہتا ہے اور اس سے ملحقہ علاقوں میں امریکہ داعش کو جمع کر رہا ہے۔

لوسیفرز خفیہ تدابیر کرتے ہیں اور اللہ بھی خفیہ تدابیر کرتا ہے اور اللہ کی تدبیر غالب آتی ہے۔ لوسیفرز کے پاکستان میں موجود تمام مہرے ایک ایک کر کے پٹنے لگے۔ نواز شریف اور زرداری جیسے مہرے پٹ گئے۔

اس خطے میں دوبارہ ڈیم بنانے کا اعلان کیا گیا۔ اور سب سے بڑھ کر عمران خان نے انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی۔ شیطان کے یہ پیروکار جانتے ہیں کہ جو فنڈ ریزنگ سپریم کورٹ نہیں کر پارہی وہ عمران خان حکومت میں آکر کہیں سے بھی کروا لے گا۔ لہذا چلاس اور دیامیر میں دوبارہ کاروائیاں کرنے کا آغاز کیا گیا۔

دہشت گردوں کی مدد سے لڑکیوں کے کئی سکول جلا دئیے گئے اور سرکاری لوگوں بشمول ججوں پر حملے کیے گئے۔ (لڑکیوں کے سکول جلا کر یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اسلام نعوذبااللہ تنگ نظر اور عورت کی تعلیم کے خلاف ہے) وہ کوشش کرینگے کہ پولیس کو شکست دے کر ایک بار پھر افوج پاکستان کو یہاں کاروائی پر مجبور کر سکیں۔

اس کے بعد اس کاروائی کو مقامی آبادی کے خلاف کاروائی قرار دیا جائیگا اور مقامیوں پر پاک فوج کے مظالم کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز شیر کی جائینگی اور گلگت بلتستان کو مقبوضہ کشمیر کی طرح بنا کر پیش کیا جائیگا۔ ( وہی کام کیا جائیگا جو منظور پشتین سے کرایا جا رہا ہے ).

افواج پاکستان اور ان کی ایٹمی صلاحیت ہی ان کی اس نئی ممکنہ ریاست کے قیام میں واحد اور سب سے بڑی رکاؤٹ ہے۔ لیکن امید ہے اس بار وہ ناکام رہینگے۔

تاہم میں باربار عرض کر رہا ہوں کہ شیطان کے یہ پیروکار شیطانی ذہانت رکھتے ہیں۔ یہ ایسے انداز میں کام لیتے ہیں کہ عین ممکن ہے مسجد کی منبر پر یہودیوں کو گالیاں دینے والا عالم بھی انہی کے مفادات کو آگے بڑھا رہا ہو۔

پاکستان، افواج پاکستان، پاکستانی ڈیموں اور عمران خان کے خلاف جنگ کا حصہ بن کر آپ بھی لوسیفرز کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ پھر جتنی مرضی لمبی داڑھی رکھ لیں اور جتنی مرضی سجدے کریں چاہے تو فدائی حملہ کر کے اپنی جان دے دیں!


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here