گلگت بلتستان حکومت نے اصلاحاتی پیکیج پر نافذ العمل کرنے کا اعلان کردیا ہے

0
408

سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی رپورٹ سلامتی کونسل کی توثیق کے بعد گلگت بلتستان حکومت نے اصلاحاتی پیکیج پر نافذ العمل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ نیا سیاسی اقتصادی اور انتظامی پیکیج کو اصلاحاتی پیکیج 2018 کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے مطابق سیاسی طور پر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو گلگت بلتستان اسمبلی کا نام دیا گیا ہے۔
نئے ایکٹ کے تحت گلگت بلتستان کا شہری پاکستان کا مکمل شہری کہلائے گا۔ نئے آرڈر کے تحت دیگر صوبوں کی طرح تمام اختیارات گلگت بلتستان اسمبلی کو منتقل ہوگئے ہیں۔ نئے آرڈر کے مطابق، سیاحت، منرلز، ہائیڈرو اور پاور کے شعبے پر قانون سازی کا اختیار بھی گلگت بلتستان اسمبلی منتقل ہوں گے۔

 

 

گلگت بلتستان کو مالی اختیارات بھی ملے ہیں اور انتظامی بھی ،پہلے ایک چھوٹے سے منصوبے کیلئے بھی کشمیر افئیر کا دروازہ کھٹکٹانا پڑتا تھا لیکن اب یہ تمام اختیارات گلگت بلتستان کو مل چکے ہیں
پہلی مرتبہ ملک کے تمام مالیاتی اداروں میں گلگت بلتستان کو نمائندگی مل رہی ہے
پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو پاکستان کے شہری تسلیم کیا گیا ہے اب گلگت بلتستان کے شہری اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لئے سپریم کورٹ میں جا سکتے ہیں

پہلی مرتبہ جو اختیارات پنجاب اسمبلی اور پنجاب کے وزیر اعلی پنجاب کے ہیں وہ گلگت بلتستان اسمبلی کو اور وزیر اعلی کو ملے ہیں ،حق حکمرانی کا جو تصور تھا اس کا آغاز ہو چکا ہے اب گلگت بلتستان کے وسائل کے مالک گلگت بلتستان کے شہری ہیں

عدالتی حوالے سے بھی ریفارم ہو چکی ہیں چیف کورٹ ہائی کورٹ گلگت بلتستان بن چکا ہے اور ججوں کی تعداد بھی 7ہو چکی ہے
گلگت بلتستان کے آفیسران کو بھی موقع مل چکا ہے کہ وہ دوسرے صوبوں میں جا کر اپنی خدمات انجام دیں اور ترقی کی منزلیں طے کریں ۔
لیکن گلگت بلتستان کو عملی طور پر صوبہ نا بنانے کے خلاف احتجاج کا آغاز بھی ہو چکا ھے
اس آرڈیننس کو پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ھے جو کسی جد تک ٹھیک بھی ھے لیکن
ملک دشمن عناصر اس کی آڑ میں اپنے اسی ایجنڈے کو پورا کرنے میں سر گرمِ عمل ھیں جو منظور مسکین کی صورت میں فیل ہو چکا ھے

پی ٹی ایم کی ناکامی کے بعد اب گلگت بلتستان میں انارکی اور افراتفری کا ماحول پیدا کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ھے
گلگت بلتستان کو مقبوضہ علاقہ ظاہر کرکے اقوامِ متحدہ سے اپیلیں کی جارہی ہیں اورحکومت کے ساتھ ساتھ درپردہ فوج کو نشانہ بنائے جانے کا دھندہ شروع ہو چکا ھے پی ٹی ایم کی طرز پر حقوق کا رنڈی رونا رویا جا رہا ھے اور سوشل میڈیا پر فوج مخالف پرپیگنڈہ پوری قوت سے لانچ کر دیا گیا ھے
بلکل اسی طرح جس طرح پی ٹی ایم کو تمام ملک دشمن” لبرلز” موم بتی مافیا” بین الاقوامی میڈیا” اور پاکستان میں زر خرید چینلز و اخبارات کی جانب سے حمایت حاصل تھی اب اس ایشو کو بھی ابھارا جا رہا ھے

 

 

وہاں کے عوام کا مطالبہ نا تو غیر آئینی ھے اور ناہی ناقابلِ عمل اس آرڈیننس کی بجائے اگر گلگت بلتستان کو عملی طور پر صوبہ بنا دیا جاتا تو اس احتجاج کی نوبت ہی نا آتی لیکن ستر سال سے حکومت اس معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ھے
بحرحال مجموعی طور پر اس آرڈیننس کا مقصد گلگت بلتستان کے عوام کو سہولیات اور انصاف کی فراہمی کی جانب لے کر جانا اور اختیارات کی عوامی سطح پر فراہمی ھے جو کہ ایک احسن قدم ھے !!!!

سلطان اعوان زادہ

 

   

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here