گزشتہ دن 23 مارچ کی پریڈ ہوئ ، پریڈ کے موقعے پر

0
89

گزشتہ دن 23 مارچ کی پریڈ ہوئ ، پریڈ کے موقعے پر
شاندار فلائ پاسٹ بھی ہوا۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں
فلائ پاسٹ کے موقعے پر کوئ ایک بھی اواکس طیارہ نظر نہیں آیا۔ جبکہ اواکس طیارے ہر سال فلائ پاسٹ میں حصہ لیتے ہیں۔
اصل میں اواکس طیارہ ایک ایسے بڑے ریڈار سے لیس ہوتا ہے جو اسے بہت زیادہ فاصلے سے اڑتے ہوئے جسم کے بارے بتا کر خبردار کر دیتا ہے۔
چنانچہ پاکستان کے تمام کے تمام اواکس طیارے 23 مارچ کے دن فوجی پریڈ کی بجائے پاکستان بھر کے ائیربیسز پر آپریشنل حالت میں تعینات تھے۔ لہزا اس بار یہ طیارے فلائ پاسٹ میں شامل نا ہوئے۔

دوسرا پاکستان میں پہلی بار روس سے خریدا گیا ایم آئ-35ایم جنگی ہیلی کاپٹر پریڈ میں شریک ہوا،۔

پاکستان کے تمام ٹینکس اور راکٹ لانچرز خصوصا” اے-100ملٹی بیرل راکٹ لانچرز کا کیمو( ڈیزائن ) اس بار پچھلے سال کی نسبت مختلف تھا۔

شاید ایسا پہلی بار ہوا کہ پریڈ کے دوران پاکستان ائیرفورس کی ائیروبیٹک ٹیم “شیردل” غیر حاضر تھی، میرے خیال میں انکے پائلٹس بھی ایکٹیو ڈیوٹی پر موجود تھے۔

فلائ پاسٹ کے دوران ایف-16 طیاروں کی فارمیشن میں شامل ایک طیارہ ونگ کمانڈر نعمان اڑا رہے تھے، یہ وہی ونگ کمانڈر نعمان تھے جنہوں نے بھارت کا سب سے جدید سکھوئ-30 طیارہ گرا کر بھارت کا خواب چکنا چور کر دیا۔

اور آخر پر، ائیرچیف جس طریقے سے وزیراعظم کو چین کے جے-10 طیاروں کے بارے بتا رہے تھے، ممکن ہے کہ پاکستان چین سے یہ طیارے خرید لے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here