بھینسے اور کٹے ذبح ہونے کے لیے تیار رہیں ۔۔ !

اسی ایاز نظامی نے کہا تھا کہ ۔۔ ” ہم نے تمھارے کالجز اور یونیوسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمھاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرات اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمھاری پوری تاریخ رد کردینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمھارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریہ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوی نعرہ لگے گا اور وہ تمھارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمھارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائینگے حتی کہ تمھارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے”۔۔

سوشل میڈیا پر ایکٹیو جن گستاخوں کی فہرست اب تک تیار کی جا چکی ہے انکی تعداد تین درجن کے قریب ہے۔ ان میں اسلام آباد میں رہنے والی کچھ مسیحی خواتین، مردان اور پشاور سے تعلق رکھنے والے چند لڑکوں کے علاوہ کراچی، لاہور، کرک اور سانگھڑ کے کچھ بندے شامل ہیں۔

ان کے خلاف کیا کیا جائیگا؟

اس کو سمجھنے کے لیے گستاخان رسول کے معاملے حکومتی طرز عمل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ خیال رہے کہ حکومت سے مراد صرف نواز شریف نہیں بلکہ اسکے اتحادی مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی بھی ہیں۔

آپ کو یاد ہوگا کہ وقاص گورایا، رفعت عزیز، سلمان حیدر اور عاصم سعید کی مبینہ گرفتاری پر حکومت غضب ناک ہوگئی تھی اور وزیر داخلہ نے باقاعدہ پریس کانفرنس کی تھی۔ رفعت عزیز کو راؤلا کوٹ تھانے سے چھڑانے اے این پی خود پہنچی تھی۔ جبکہ جے یو آئی نے ان گستاخوں کے خلاف کسی بھی قسم کے تعاؤن سے انکار کر دیا تھا۔

ایاز نظامی اور رانا نعمان کے علاوہ گجرات، مردان اور راؤلا کوٹ میں گرفتار ہونے والے کئی گستاخوں کے کیسرز کو لٹکا دیا گیا ہے۔

آسیہ ملعونہ اور لاہور میں سزائے موت پانے والے گستاخ کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔

لیکن دوسری طرف ممتاز قادری کو فوری طور پر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ جو مذہبی جماعتیں اس پھانسی پر ڈرامے کر رہی تھیں ان میں سے اکثر آج حلقہ این اے 120 میں کلثوم نواز کے لیے ووٹ مانگ رہی ہیں۔ 

ان کے علاوہ پسرور میں مبینہ گستاخ رسول کو قتل کے الزام میں تین بہنوں اور پشاور میں مشال نامی مبینہ ملعون کے قتل کے الزام میں کم از کم 44 افراد کو فوری گرفتار کر کے ان کا تیز رفتار ٹرائل کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی ایکٹنگ وزیراعظم مریم نواز کی ٹویٹس سوشل میڈیا پر گردش کرتی رپیں جس میں اسنے بھینسا سے مواد شیر کیا تھا۔ تو دوسری طرف وقاص گورایا سمیت تمام ملعون کھل کر مریم نواز کو سپورٹ کررہے ہیں۔

ان سب نے ملکر اس خیال کو جنم دیا ہے کہ درحقیقت گستاخانہ پیجز کے ڈانڈے بھی مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیم تک جاتے ہیں۔ اس معاملے میں لوگ کھل کر سوشل میڈیا پر اپنے شک و شبہے کا اظہار کر رہے ہیں۔

لعل مسجد والوں سے جو اکلوتا کارخیر سرزد ہوا تھا وہ ان گستاخوں کے خلاف اسلام اباد ھائی کورٹ میں کیس تھا جسکا درحقیقت کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ میڈیا پر خوب داد وصول کرنے کے بعد ایک دن اچانک جج موصوف کے شکرانے کے نفل پڑھنے کی خبر آئی۔
نہ کوئی مجرم ثابت ہوا نہ ہی کسی کو سزا ملی۔ نہ ہی گستاخیوں کا سلسلہ روکا جا سکا۔ میں آج تک حیران ہوں کہ جج صاحب نے نفل کس چیز کے پڑھے تھے۔

حکومتی اور عدالتی طرز عمل کو دیکھتے ہوئے ان سے اس معاملے میں کوئی امید نہیں۔

شائد اس کے لیے کوئی تیسرا راستہ اختیار کیا جائے۔ وہ کیا ہوگا یہ اللہ جانتا ہے لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور عدالت کو بائی پاس کر دیا جائیگا۔ اور بہرحال اس مکروہ سلسلے کو روک دیا جائیگا ان شاءاللہ ۔۔۔۔

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔۔ یہ مواد کچھ دن پہلے مجھے سوشل میڈیا پر ہی ملا تھا جو میں نے اپنے الفاظ میں لکھ دیا۔ وہ پوسٹ اب مجھے نہیں مل رہی ورنہ من و عن شیر کرتا۔۔۔ !

 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here