گاڈ فادر ٹو – فیضان رضا سید

'دی گاڈفادر' ایک مشہور زمانہ ناول ہے، جسے اطالوی امریکن ماریو پوزو نے 60ء کی دہائی میں لکھا تھا۔ اس ناول کی شہرت کو چار چاند لگائے 1972ء میں اسی نام سے جاری ہونے والی فلم نے، جسے تاریخ کی بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب عدالت ‏عظمیٰ نے 'پاناما اسکینڈل' کا فیصلے سنایا اور اس کا آغاز گاڈ فادر کے مشہور زمانہ جملے سے کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مہم کے طور پر لے کر اسے حکمران خاندان کے خلاف استعمال کیا اور سابق وزیراعظم کو گاڈ فادر سے تشبیہ دی۔ عدلیہ نے اس ناول کا حوالہ کیوں دیا؟ اردو دان طبقےکو یہ جاننے کا شوق ہوا۔ ' پاکستانی ' اپنے ایسے ہی قارئین کے لیے 'دی گاڈفادر' کا اردو ترجمہ پیش کررہا ہے۔ اس سے جہاں اس تاریخی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں علم ہوگا وہیں جدید ادب کے ایک شاہکار کا مطالعہ بھی ہوگا۔ ناول کا اُردو ترجمہ محمود احمد مودی نے کیا ہے، ان کے

0
531

پانامہ فیصلے کے ادبی پہلو – امجد خواجہ

Next Part –      –  Previous Part

 

گاڈ فادر ٹو – فیضان رضا سید

پہلا قاضی: کھلی بات ہے، کرپشن نظر آتی ہے، نااہلی یقینی ہے۔

دوسراقاضی: صادق اور امین نہیں رہے، نااہلی بنتی ہے۔

تیسرا قاضی: متفق ہوں۔۔صرف نااہلی نہیں، اتنے اہم منصب پر بیٹھ کر جھوٹ بولنے کی سزا بھی بنتی ہے۔

چوتھا قاضی:Behind every great fortune there is a crime..!

پانچواں قاضی: خط کو بوگس قرار دینے کے بعد نااہل قرار دینا لازم ہے۔

پہلا قاضی: (مسکراتے ہوئے) بے شک یہ فیصلہ صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

(باقی سب منصفوں نے پر اعتماد انداز میں پیشہ وارانہ مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سرہلادیئے)

(دوسرا منظر)

پہلا درباری: بادشاہ سلامت! دس ارب کی آفر بھی قبول نہیں کی گئی۔

بادشاہ: (تشویش بھرے لہجے میں) اب کیا ہوگا؟ ہمیں صرف تھوڑا وقت مل جائے تو کافی ہوتا۔(دوسرے درباری سے مخاطب ہوکر)۔اسٹبلیشمنٹ کیا کہتی ہے؟

دوسرا درباری: (دانت نکالتے ہوئے) حضور والا! صرف یہ ہی ایک شخص تھا جو دس ارب میں بھی نہیں بکا۔باقی تو دس کروڑ میں بھی بک جائیں گے، آپ پچاس کروڑ کا کام دس ارب میں کیوں کرنا چاہتے ہیں۔

بادشاہ: (الجھتے ہوئے) دس کروڑ۔۔پچاس کروڑ۔۔(پھر جیسے بات سمجھ آگئی)۔۔اوہ ہاں زبردست۔ہم خوش ہوئے درباری۔ اس پر کام شروع کریں۔۔ جلداز جلد۔۔تخلیہ۔

(درباریوں نے رکوع کے بل جھک کر سلام کیا اور رخصت ہوگئے۔۔بادشاہ کے چہرے کا اعتماد اور خوشی دیدنی تھی)

(تیسرا منظر)

چوتھا قاضی: مزید تحقیقات ہونا ضروری ہیں۔

پہلا قاضی: چلیں درست بات، لیکن اب تک کی Proceedings کے بعد نااہل تو کرنا پڑے گا۔

تیسرا قاضی: میں نا اہلی کے حق میں نہیں ہوں۔

دوسرا قاضی: (حیران ہوکر) لیکن نااہل کرنے کے لیے مزید کن تحقیقات کی ضرورت ہے؟

پانچواں قاضی: ہمم۔ مزید تحقیقات تک نااہل کردینادرست بات نہیں۔

پہلا قاضی: لیکن ثبوت کے طورپر پیش کیے جانے والے خط کو ہم سب بوگس قرار دے چکے ہیں، تحقیقات زیادہ سے زیادہ اصل ذرائع معلوم کرنے کی ہوگی جس پر ہم سزا دے سکیں۔شاہ وقت کے جھوٹ بولنے میں کیا شک ہے؟

چوتھاقاضی: لیکن تحقیقات سے قبل سزا دینا فریق کے ساتھ زیادتی ہوگی اور نااہلی بھی ایک سزا ہے۔

دوسرا قاضی: جناب! آپ شیخ صاحب کے دائر مقدمے کو بھول رہے ہیں۔جب آپ سب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے عوام کے سامنے اور برسر دربار غلط بیانی کی ہے تو صادق اور امین ہیں یا نہیں اس کی کونسی تحقیقات کروانی باقی ہیں؟

پہلا قاضی: پھر بادشاہ کے ماتحت رہ کر اس کے خلاف شفاف تحقیقات کیسے ممکن ہیں؟

تیسرا قاضی: (گلا کھنکارتے ہوئے) آپ درست کہتے ہیں۔لیکن یہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔ ہمیں عجلت سے کام نہیں لینا چاہیے۔

پانچواں قاضی: ساٹھ دن کی بات ہے۔دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔

پہلا قاضی: (طنزیہ انداز میں) جناب والا!اگر کوئی شیر آپ کی بکریوں کے ریوڑ میں گھس جائے تو اس کو نکالنے کے لیے ساٹھ دن کا انتظار کرنے کا مطلب آپ جانتے ہیں ناں؟

دوسرا قاضی: (ہنستے ہوئے)اور ہم ساٹھ دن کے بعد غائب ہوجانے والی بکریوں کا حساب لگانے بیٹھ جائیں گے۔

تیسرا، چوتھا، پانچواں قاضی: (یک زبان ہوکر) جوبھی ہے تحقیقات تک نااہل قرار نہیں دے سکتے۔

(پہلے اور دوسرے قاضی نے ایک دوسرے کی جانب معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ آخری بار دیکھا، اور اپنے ضمیر کا فیصلہ لکھ دیا)

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here