گاندھی دیکھہ کر ہی سمجھ گیا کہ اس کا مطلب ہندوستان ہر حال میں پاکستان کے ہاتھوں تباہ و برباد ہونا ہے

0
541

گاندھی کا زائچہ اور غزوہ ہند کی حقیقت
تحریر: یاسررسول

ایک مرتبہ ضرور پڑھیے آپ پر کچھ نئے راز کھلیں گے۔

آپ میں سے جو لوگ ہندؤں کو جانتے ہیں یا ہندو فلموں ڈراموں کے شیدائی ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ ہندؤ ہر بڑا کام کرنے سے پہلے پنڈت کو بلاکر زائچے نکلواتے ہیں پھر فیصلہ خلاف آئے تو وہ کام نہیں کرتے اور اگر فیصلہ حق میں آئے تو پھر وہ کام ضرور کرتے ہیں۔

مسلمان استخارہ کرتے ہیں مگر شادی بیاہ کرنا ہو یا نیا کاروبار ہندو اور یہودی شیطانی زائچوں اور ستاروں سیاروں کی چالوں کے اعداد و شمار سے مدد لیتے ہیں۔

اسی طرح ایک زائچہ ہندوستان کا بٹوارہ ہونے اور پاکستان بننے کے بعد گاندھی نے بھی پنڈٹ سے کروایا تاکہ پتا چل سکے کہ پاکستان سے آگے چل کر ہندوں کے کیا حالات ہوں گے۔

پنڈٹ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور نتیجہ نکال کر گاندھی کے حوالے کیا، گاندھی دیکھہ کر ہی سمجھ گیا کہ اس کا مطلب ہندوستان ہر حال میں پاکستان کے ہاتھوں تباہ و برباد ہونا ہے کیونکہ قدرت نے ہندوستان کی تباہی پاک فوج کے ہاتھوں لکھ رکھی ہے۔

اس سے پہلے کہ میں آپ کو بتاؤں کہ پنڈٹ نے کیا نتائج نکالے، پہلے میں آپ کو 1450 سال قبل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں لے چلتا ہوں اور وہاں حضور کی زبانی ہندوستان فتح کرنے والے خوش نصیب مجاہدین (فوج) کا احوال سناتا ہوں۔

حضرت ثوبان ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

”میری اُمت میں دو گروہ٭ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے محفوظ کر دیا ہے ایک گروہ ہندوستان پر چڑھائی کرے گا اور دوسرا گروہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔”

احمد بن حنبل، المسند، 5: 278، رقم: 22449

حضرت ابوہریرہ ؓکی دوسری حدیث بھی ملاحظ کیجیے

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے ہندوستان کا تذکرہ کیا اور ارشاد فرمایا:

”ضرور تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا، اللہ ان مجاہدین کو فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ وہ (مجاہدین) ان (ہندوؤں) کے بادشاہوں(حاکموں) کوبیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے اور اللہ (اس جہادِ عظیم کی برکت سے) ان(مجاہدین) کی مغفرت فرما دے گا۔ پھر جب وہ مسلمان واپس پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریم کو شام میں پائیں گے۔” حضرت ابوہریرۃ نے فرمایا:

”اگر میں نے وہ غزوہ پایا تو اپنا نیا اور پرانا سب مال بیچ دوں گا اور اس میں شرکت کروں گا جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطاکردی اور ہم واپس پلٹ آئے تو میں ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا جو ملک شام میں (اس شان سے)آئے گا کہ وہاں عیسیٰ ابن مریم کو پائے گا۔ یارسول اللہ! اس وقت میری شدید خواہش ہوگی کہ میں ان کے پاس پہنچ کر انہیں بتاؤں کہ میں

آپ ﷺکا صحابی ہوں۔ (راوی کا بیان ہے) کہ حضور ﷺمسکرا پڑے اور ہنس کرفرمایا:بہت مشکل، بہت مشکل۔”

آپ نے “غزوہ ہند” کے مطلق خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی سنے، اس کے علاوہ اور بھی کئی ہندوستان فتح کرنے کی احادیث ہیں جو آپ کتابوں میں یا انٹرنیٹ پر پڑھ سکتے ہیں مگر پاکستانی علماء میں سوائے چند ایک کے کوئی بھی ان احادیث کو بیان نہیں کرتا، شاید علماء کو ان احادیث بیان نہ کرنے کے لیے دشمنان اسلام مال مسروقہ دیتے ہوں گے۔

اب آتے ہیں گاندھی کو پنڈٹ نے کیا نتیجہ دکھایا جس کو آج تک انڈیا کی عوام سے بھی چھپایا جاتا ہے،

پنڈٹ نے ایک بڑا زئچہ بنایا اور مکمل تفصیلات لکھ کر گاندھی کے سامنے رکھ دیں جس میں لکھا تھا کہ

“مستقبل میں پاکستان اور انڈیا کی 4 چنگیں ہوں گی اور آخری جنگ فیصلہ کن ہوگی”

ساتھ میں یہ بھی لکھا تھا کہ پہلی تین جنگوں سے دونوں کی ہار جیت ہوتی رہے گی، دونوں کا نقصان بھی ہوتا رہے گا مگر جو آخری جنگ ہوگی وہ انڈیا کو دنیا کے نقشے سے ہمیشہ کے لیے مٹا دے گی، وہ آخری جنگ اس زمین سے بت پرستی کو ہمیشہ کے لیے ختم کردے گی اور وہ جنگ پاکستان جیتے گا۔

گاندھی یہ سن کر سکتے میں آگیا اور

انڈین عوام کو خوش کرنے کے لیے اس نے صرف یہ اعلان کیا کہ پاکستان سے ہماری 4 جنگیں ہوں گے اور آخری جنگ فیصلہ کن ہوگی، لوگوں نے پوچھا فیصلہ کن جنگ کون جیتے گا تو گاندھی نے جواب دینے سے انکار کردیا 🙂

پنڈٹ کے اس زائچے کے بعد گاندھی سب کچھ سمجھ گیا تھا کہ انڈیا پاکستان کو کبھی تباہ نہیں کرسکتا بلکہ انڈیا نے اگر پاکستان سے جنگ کی تو پاکستان انڈیا کو ہمیشہ کے لیے دفن کردے گا، گاندھی کے ان خیالات کی وجہ پنڈٹ کا وہ زائچہ تھا اور ہندوں پنڈٹوں کے زائچوں پر اپنی مذھبی کتابوں کی طرح یقین رکھتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے حصے کے پیسے جو بٹوارے کی صورت میں انگریزوں کی طرف سے پاکستان کو ملنے تھے، اپنے پاس روک لیے اور پاکستان پر ہر طرف سے ظلم کرنا شروع کردیا تو اس دوران پورے انڈیا میں “گاندھی” ہی وہ واحد لیڈر تھا جس نے پاکستان کو اپنا حق دلوانے کے لیے “بھوک ہڑتال” شروع کردی تھی

بھوک ہڑتال کرنے پر ہندو انتہاپسندوں نے گاندھی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں کہ پاکستان کے حق میں بولنا بند کرو مگر، گاندھی نے بھوک ہڑتال ختم نہیں کی اور اسی وجہ سے ہندو انتہاپسندوں نے گاندھی کو قتل کردیا.

بالی ووڈ میں گاندھی پر ایک فلم بھی بنی تھی جس میں امیتابھ بچن نے گاندھی کا کردار ادا کیا، اس فلم میں بھی وہ بھوک ہڑتال کرتا ہے اور اسی دوران اسے ماردیا جاتا ہے.

یہ سب باتیں آپ کو بتانے کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ “غزوہ ہند” مستقبل کی وہی پاک بھارت جنگ ہے جو پنڈٹ نے گاندھی کو زائچے کے نتائج میں دکھائی، یہی وہ جنگ ہے جس کی بشارت 1450 سال پہلے ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی تھی، یہ جنگ لڑنے والے مجاہدیں کو مغفرت اور جنت کی خوشخبری دی گئی، ابوہریرہ وہ صحابی رسول ﷺ ہیں جن سے سب سے زیادہ احادیث مبارکہ نقل کی گئی ہیں، وہ بھی شدید خواہش رکھتے تھے کہ اے کاش میں بھی اس غزوہ ” غزوہ ہند” کو پاؤں اور ہندوستان کو فتح کرکے میں ایک آزاد ابوہریرہ کہلاؤں.

یہی وہ جنگ ہے جس کے مطلق اولیاء اور صوفیا کرام (رضی اللہ عنہم) اپنے اپنے دور کے مسلمانوں کو مسلسل بشارتیں دیتے آرہے ہیں، 850 سال پہلے کے حضرت نعمت اللہ شاہ ولی (رضی اللہ عنہ) جنہوں نے آنے والی صدیوں کی روداد ایسے بیان کردی تھی کہ جیسے وہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے چلتی فلم کی صورت دیکھ رہے ہوں، ایسی ایسی باتیں بیان کی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہی، جہاں انسان کی وقل سوچنا بند کردیتی ہے نعمت اللہ شاہ ولی اس سے بھی آگے کا بیان کرتے جاتے ہیں۔ ہندوستان پر مغلیہ دور کے ہزار سال حکمرانی کرنا، پھر ٹیپو سلطان کو شکست ہونا اور انگریزوں کی حکومتیں اور پھر ہندوستان کا ٹوٹ کر پاکستان اور انڈیا بننے تک سب کچھ واضع الفاظ میں لکھ دیا جو کہ بعد میں سو فیصد ویسا کا ویسا ہی وقوع پزیر ہوا جیسا انہوں نے بیان کردیا تھا۔

حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیش گوئیاں صرف یہاں ختم نہیں ہوتیں بلکہ اس سے بھی آگے جاتی ہیں جن میں وہ بھی “غزوہ ہند” کی بات کرتے ہیں اور اس کی تفصیلات بھی اتنی گہرائی سے دیتے ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے اور دل سے صدا نکلتی ہے کہ لبیک غزوہ ہند. بیشک اولیاء اللہ کو بھی اللہ کی طرف سے علم غیب مل جاتا ہے۔ جبہی تو وہ مستقبل کی وہ خبریں بھی بیان کردیتے ہیں جو نہ تو قراں میں ہیں اور نہ ہی احادیث میں۔

حضرت نعمت اللہ شاہ ولی (رضی اللہ عنہ) مزید تفصیلات دیکر بتاتے ہیں کہ ہندوستان کا بٹوارہ ہوگا پھر مسلمانوں کا مرکز (پاکستان) بنے گا اور پاکستان میں 23 سال تک اسلام کا نعرہ چلتا رہے گا مگر پھر یہ نعرہ چھوڑنے کی وجہ سے ان پر قہر ٹوٹے گا۔ اب اگر آپ دیکھیں تو آزادی پاکستان کے بعد ٹھیک 27 سال بعد یعنی 1971 میں مسلمانوں نے قومیت اور لسانیت کا نعرہ اپنایا، کچھ بنگالی ہوگئے تو کچھ پنجابی اور یوں ہم پر قہر ٹوٹ پڑا اور سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہوا۔ یاد رہے یہ پیش گوئی نعمت اللہ شاہ ولی نے مسلمانوں کو 850 سے پہلے بتادی تھی….!

مزید بتاتے ہیں کہ اس جنگ “غزوہ ہند” سے پہلے پاکستان کو ایک عظیم جنگجو حکمران نصیب ہوگا، اس جنگجو حکمران کی آنکھوں کا رنگ تک بتادیتے ہیں کہ وہ سبز آنکھوں والا ہوگا، اپنوں سے پیار کرنے والا اور دشمنوں پر قہر بن کر ٹوٹنے والا ہوگا اور اسی کی قیادت میں مسلمان یعنی پاکستانی افواج انڈیا کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑیں گے اور اسی جنگ میں ہند کے بادشاہوں (حکمرانوں) کو بیڑیوں میں جکڑ کر دہلی کی سڑکوں پر لائیں گے۔

بات یہاں تک ختم نہیں کرتے بلکہ مزید تفصیلات دیکر بتاتے ہیں کہ اس جنگ کے شروع میں پاکستان کا نقصان ہوگا، اٹک تک کا علاقہ پاکستان سے چھن جائے گا اور دوسری طرف لاہور اور سیالکوٹ بھی انڈیا کے قبضۓ میں چلے جائیں گے کیونکہ وہ حملہ بہت اچانک ہوگا مگر پھر مسلمان مجاہدین (پاک فوج) اللہ اکبر کی صدا بلند کرکے اتنا خطرناک وار کریں گے کہ پھر پورا ہندوستان فتح ہونے سے پہلے نہیں رکیں گے. شہر پہ شہر فتح کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ پورے کا پورا ہندوستان فتح ہوجائے گا اور ہندو مشرکوں کے حکمران کو بیڑیوں میں جکڑ کر اس جنگجو حکمران کے سامنے لایا جائے گا۔

جنگ کی شروع میں پاکستان کے کچھ علاقے کھونے کے بعد نعمت اللہ شاہ ولی (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ مسلمان مجاہدین کی مدد منگول کریں گے، ان کے زمانے میں منگول چینیوں کو کہتے تھے، اور آج کون نہیں جانتا کہ اس دنیا میں چین سے زیادہ بہترین ہمارا کوئی دوست ملک نہیں ہے، آج پاکستان اور چین ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوچکے ہیں، چین کا دل “سی پیک” ہمارے ملک میں موجود ہے اور یہی سی پیک ہمارے عروج کی ضمانت بننے والا ہے، چینی کئی مرتبہ برملا اعلان کرچکا ہے کہ پاکستان پر کسی بھی قسم کا حملہ چین پر حملہ تصور کیا جائے گا اور چین صرف باتیں ہی نہیں کرتا بلکہ ہمارے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل ہمیں نئی ٹیکنالوجیز بھی فراہم کرتا آرہا ہے، جی ایف تھنڈر طیارے اور نئے راڈار پر نظر نہ آنے والی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی وغیرہ یہ سب بھی چین سے ہی ہمیں ملا۔

یہاں ایک بات یاد رکھیں کچھ دشمن کے ایجنٹ پاکستانیوں کو چینیوں سے بدظن کرنے کے لیے ہر وقت کسی نئی افواہ پھیلانے کی تیاریاں کرتے رہتے ہیں، آجکل جو نیا شوشہ چھوڑا گیا ہے وہ یہ ہے کہ چین بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ہے جس نے برصغیر پر قبضہ کیا تھا اور چینی بھی گوادر میں بیٹھ پاکستان فتح کرلیں گے، یہ دشمن کی چال ہے اسے کو سمجھیں، دشمن بھی غزوہ ہند کی تیاریاں کررہا ہے اور وہ اسی مقصد کے لیے پاکستانیوں کے دلوں میں چینیوں (منگولوں) کے لیے نفرت کا بیچ بونا چاہتا ہے۔ آپ دشمن کے اس وار کو بھی ناکام بناتے رہیں۔

میرے پیارے ہم وطنوں ….!

حضرت نعمت اللہ شاہ ولی (رضی اللہ عنہ) ایک بہت ہی بڑے ولی اللہ تھے، ان کی پیش گوئیوں پر مشتمل سینکڑوں اشعار ہیں، میں نے صرف چند اشعار بیان کیے ہیں مگر تفصیلات اور بھی ہیں جو آپ کو کتاب پڑھ کر آسانی سے سمجھ آسکتی ہے۔ زید حامد نے ان کی پیش گوئیوں پر مشتمل ایک خوبصورت کتاب بھی لکھی ہے جس کو آپ انٹرنیٹ پر مفت پڑھ سکتے ہیں یا کتاب باآسانی گھر بیٹھے آرڈر بھی کرسکتے ہیں۔
(کتاب آن لائن پڑھنے کے لیے لنک کمنٹ میں چیک کیجیے)

میرا مدعا یہاں صرف اتنا تھا کہ آپ سب کو “غزوہ ہند” کی حقیقت بتائی جائے کیونکہ آجکال “علماء سوء” یعنی کانگریسی علماء کی کثرت ہوگئی ہے اور ایسے علماء ایک طرف خوارج کے مطلق احادیث بھی چھپا رہے ہیں تو دوسری طرف غزوہ ہند والی احادیث بھی لوگوں کو نہیں بتاتے، کچھ تو خود ہی سرے سے ان احادیث کی موجودگی سے ہی لاعلم دکھائی دیے گئے ہیں اور جو جانتے ہیں وہ جان بوجھ کر اس علم کو چھپاتے ہیں۔

اسی لیے میں نے اس پر قلم اٹھانے کی جسارت کی تاکہ پاکستانی قوم اپنے مستقبل میں ایک نظر جھانگ لے اور اس غزوہ ہند کی تیاری ابھی سے شروع کرسکے،

اگر ہم نے یہ جنگ نہ لڑی تو یقین کیجیے ہمارے بچے یہ جنگ ضرور دیکھیں گے اور اس سے پہلے کہ یہ جنگ ہماری گھروں تک پہنچ جائے، ہمیں خود کو اور اپنی اولاد کو ابھی سے ایک جنگجو بنانے کی تیاری کرنی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے بچوں کو بچپن سے ہی تیر اور تلوار چلانا سکھائیے، جب بڑے ہوجائیں تو انہیں پستول اور بندوق کی ٹرینگ دیجیے یا کسی گن کلب میں کسی ماہر استاد کی زیر نگرانی تربیت دلوائیے۔ اور جو گن کلب جوائن نہیں کرسکتے وہ جنگلوں، بیابانوں یا سحرا میں جاکر شکار کرنے سے پرکٹس کرتے رہیں، شکار کرنا اسلام میں جائز ہے اور اس طرح آپ کا نشانہ بھی پکا ہوتا جائے گا، بوقت ضرورت یہی نشانہ ہندو اور یہودی فوجیوں کو جہنم واصل کرنے کے لیے کام آئے گا۔ یاد رہے اسرائیلی یہودی اپنے چھوٹے بچوں کو پرائمری اسکول سے ہی گن چلانے کی تربیت دیتے ہیں اور انہیں بچپن سے ہی سکھاتے ہیں کہ مسلمان تمہارے دشمن ہیں اور تمہیں ان کو مارنا ہے. لیکن دوسری طرف یہی یہودی مسلمان ملکوں میں بچوں کو جہاد اور فوجی ٹرینگ سے دور رکھنے کے لیے مسلمان حکمرانوں کو اربوں ڈالرز بطور انعام دیتے ہیں۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہر کالچ طلباء کو فوجی ٹرینگ دی جاتی تھی مگر جیسے ہی نواز شریف اقتدار میں آیا تو اس نے یہ ٹرینگ ختم کروادی تاکہ مسلمانوں کے بچے جنگجو نہ بن سکیں بلکہ فلمیں ڈرامے دیکھ کر بالی ووڈ ہالی ووڈ اداکاروں کو اپنا آئیڈیل بناکر خسروں کی طرح ناچنے والے کنجر بن جائیں۔

مسلمانوں !

آجکل پستون یا گن اتنی مہنگی نہیں ہے، ہر کوئی خرید سکتا ہے، آجکل لوگ موبائل کے لیے 20 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک جمع کرلیتے ہیں لیکن جب گن لینے کا کہو تو کہتے ہیں پیسے نہیں ہیں۔ اس لیے یہ بہانے کرنا بند کیجیے۔ موبائل جیسے لت سے چھٹکارا پاکر “غزوہ ہند” کا وہ مجاہد بننے کی تیاری کیجیے کہ جن پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی فخر ہے کہ وہ ہند فتح کریں گے اور اللہ ان سب کی مغفرت فرمادے گا۔

غزوہ ہند کے مطلق مزید معلومات درکار ہوں تو دل کھول کر سوال کیجیے مگر نادانوں اور دشمن کے ایجنٹوں کی باتوں میں آکر ایسا ہرگز مت سمجھیے گا کہ ایسی کوئی جنگ نہیں ہونی، یہ دشمن کے لوگ آپ کو “امن کی آشا” کا بھاشن دیکر بھارت کا غلام بنانا چاہتے ہیں، ان آستین کے سانپوں کو پہچانیے اور جب بھی کوئی ایسا جاہل بےوقوف ملے تو اسے کہیے کہ میری بات مان یا یہ مان مگر تم اپنے باپ گاندھی کے زائچے کا مر کر بھی انکار نہیں کرسکتا…..!

لبیک غزوہ ہند
لبیک یارسول اللہ ﷺ
پاکستان زندہ آباد

نوٹ: پوسٹ شیئر کرکے سوئی قوم کو اپنے مستقبل کی ایک چھلک دکھائیے کہ شاید کوئی سویا جاگ جائے اور میرا لکھنا، آپ کا شیئر کرنا اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوجائے۔ آمین

تحریر: یاسر ررسول

مزید اچھی تحریروں اور پوسٹ کے لیے پیج لائیک کریں۔

Pakistan Official

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here