کیوں کہ یہی قانونِ قدرت ہے اور یہی تاریخ کا سبق بھی۔

0
68
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیوں کہ یہی قانونِ قدرت ہے اور یہی تاریخ کا سبق بھی۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ طلب کے لیے رسد مہیا کرنے کا طریقہ مخصوص ہونا چاہیے۔ البتہ یہ کہنا واقعی منافقت ہے کہ طلب ہے ہی نہیں۔ مگر میں یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ کہ شہوانیت انسانی ذہن کے ارتقاء کا پراسرار حصہ ہے۔ کیوں کہ یہ انسان کے ساتھ ساتھ چلتی آ رہی ہے بھلے انسان پہاڑوں میں بے لباس رہا ہو بھلے جنگلوں میں پتوں کے لباس پہن کر شہوانیت نے انسان کے ساتھ ساتھ سفر کیا ہے

برسبیلِ تذکرہ ایک بات کہوں عجیب سی ہے ویسے۔ تاریخ کے ماہرین بتاتے ہیں کہ زمین پر اولین انسان اپنا وجود پتوں سے ڈھانکتے تھا جب کہ قران بھی بالکل یہی بات کرتا ہے۔ سورۃ الاعراف میں جہاں آدم علیہ السلام کے شجرِ ممنوعہ کھانے کا ذکر ہے وہاں قران یہ بتاتا ہے کہ ان کے ستر کھُل گئے اور انہوں نے اپنے وجود کو پتوں سے ڈھانکا۔ یہ بات جو آج ماہرین بڑے وثوق سے کہتے ہیں کہ ابتدائی انسان پتوں سے بدن ڈھانپتا تھا اللہ نے تورات میں آج سے تین ہزار سال قبل ہی بتا دی تھی اور بعد ازاں قران میں بھی۔

خیر موضوع پہ واپس آتے ہیں، ہاں میں اس بات کو ضرور سراہتا ہوں کہ “داخلی کیفیات کو اخلاقی شکنجے میں کسے بغیر خارجی دنیا سے نہ ملایا جائے” وجہ یہ ہے کہ ابتدائی انسان انسانی تاریخ کا زیادہ تر عرصہ اخلاقیات کے بغیر اپنے فطری رجحانات کی آبیاری میں لگا رہا۔ پھر اس کے شعور نے ارتقاء پایا تو اسے احساس ہوا کہ نہیں، کچھ حدود و قیود ضرور ہونی چاہیے۔
اور یہ احساس بھی بلا وجہ نہیں تھا۔ بلکہ انسان کے کرن ہا کرن کے تجربات کے نچوڑ کے بعد انسان نے سوچا کہ اسے اصول اپنانے چاہیں۔

کتنی ہی مارڈھاڑ تاریخِ انسانی میں انسان نے اس بات پہ کی ہو گی کہ وہ عورت میری تھی جس پہ تم نے ہاتھ ڈالا۔ میرا نظریہ ہے کہ زمین، زر اور عورت پر انسان کے آباؤ اجداد اتنا کشت و خون کر چکے ہیں کہ ان پہ لڑنا جدید انسان کے جین میں شامل ہو چکا ہے۔ قبل از تاریخ کے انسان کو جہاں یہ اندازہ ہوا کہ بجائے اس بات پہ ایک دوسرے کو قتل کرنے کے کہ “فلاں میری تھی فلاں میری تھی”، کچھ اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ وہ اصول ہی آگے چل کر اخلاقیات کی بنیاد بنے۔ جہاں اصول اپنا لینے کا خیال انسان کو آیا وہ تھی عقلِ انسانی کی ارتقاء۔ ابتدائی انسان کا نا تو شعور اتنا بہتر تھا اور نا ہی زمینی حالات ایسے تھے کہ انسان جلدی سے سیکھتا۔ اس لیے یہ خیال کوئی دو چار صدیوں میں انسان کو نہیں آیا بلکہ ہزاروں برس کی قتل و غارت اور دیگر کئی مسائل کے بعد انسان اس پہ سوچ سکا۔ اپنے وارث کا شعور جب انسان کو آیا ہو گا تب کوئی ڈی این اے کا زمانہ تھوڑی تھا؟ لہٰذا انسان نے سوچا کہ جنسی تعلقات کےلیے کچھ قوانین ہونے چاہیے۔

ایک سوال اور بھی ہے وہ یہ کہ اصول انسان کے پاس کہاں سے آئے؟؟؟

یعنی انسان کو یہ پتہ چل گیا کہ اسے قواعد و قوانین چاہیے، لیکن وہ قواعد و قوانین آئے کہاں سے؟؟؟

اولین عورتوں کو کس نے بتایا تھا کہ پیدا ہونے والے بچے کی ناف نہ کاٹی گئی تو بچہ مر جائے گا ؟؟؟

نیز ناف کاٹنے کا طریقہ کار اولین عورتوں کو کس نے سمجھایا تھا ؟؟؟

نسلِ انسانی تو اپنی ابتدا میں ہی ختم ہو جاتی اگر پیدائش کے بعد بچے ناف نا کٹنے کی وجہ سے مرتے رہتے۔ ہم آج کے اس دور کی زہنیت کے ساتھ سوچ رہے ہیں جب زمین کے چپے چپے پر انسان آباد ہیں۔ انسان اپنی ابتدا میں زمین پر اتنا وافر نہیں تھا۔ انسان انسان سے سینکڑوں ہزاروں میلوں کے فاصلے پر تھے وہ بھی جنگلوں یا پھر پہاڑوں میں۔ کمیونیکشن یعنی ایک دوسرے سے رابطہ تو دور کی بات، ابھی انسان سفر سے بھی واقف نہیں ہوا تھا۔ جانوروں کو سدھا کر اپنے استعمال میں لانے یا ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے کے تصور سے انسان بہت بعد میں آشنا ہوا۔ یہاں پہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ اصول الہامی تھے جو خدا کی جانب سے ارسال کی گئی ہستیوں کے زریعے آدمی تک پہنچے جس سے وہ مہذب انسان بنا۔


ماہرینِ بشریات و عمرانیات اور انسانی تاریخ پہ تحقیق کرنے والے محقیقن کی اکثریت اس بات پہ متفق ہے کہ زمین پہ بسنے والی انسان نما مخلوق قرن ہا قرن سے حیوانیت جیسی زندگی بسر کر رہی تھی۔ پھر اچانک کچھ ایسا ہوا جس سے اس کے شعور کو ترقی مل گئی۔ یہ جو اچانک کہہ کر بات کو گول مول کر دیا جاتا ہے میرے نزدیک یہ خدا کی جانب سے بھیجی گئی ان ہستیوں کی تعلیم تھی جس پر عمل کر کے انسان نے اپنے شعور کو جلا بخشی۔ وہ رسول ہوں یا فرشتے ہوں مگر کوئی الہامی طاقت ضرور تھی جو انسان کو تعلیم دے کر اسے حیوان سے باشعور انسان بنا رہی تھی۔ آج انسانی عقل اپنے ارتقاء کے بہترین مرحلے پہ کھڑی ہے اور دو جمع دو چار کر کے نتیجہ اخذ کر سکتی ہے۔ تب کی انسانیت کو شعور دینے والی خدا کی ذات تھی۔


ملحدین کے ہاں تو یہ نظریہ ہے کہ ایک حادثے سے کائنات بنی اور مزید کروڑوں حادثات کے نتیجے میں یہ زمین بنی جس پہ مزید لاکھوں حادثات کے نتیجے میں انسان بنا۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ جس نے پیدا کر کے انسان کو زمین پر بھیجا تھا اس نے اس کی ہدایت کا سامان بھی تو کرنا تھا۔ لہٰذا زمین پر جوں جوں اپنے تجربات کے نتیجے میں انسان مار کھاتا رہا اور اسے احساس ہوتا رہا کہ اسے بہتری کی ضرورت ہے۔ اللہ کی جانب سے اسے ہدایات کی فراہمی کا سلسلہ چلتا رہا۔ آج کا انسان جب اپنے شعوری ارتقاء کے بہتر مرحلے پر ہے یہ سمجھتا ہے کہ اب اسے ہدایت کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ خود کو عقلِ کل سمجھتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ہدایت اسے آج بھی چاہیے بلکہ پہلے سے زیادہ چاہیے۔


انسان اپنے جبلی تقاضوں کی تکمیل کے لیے اپنے بنائے ہوئے اصولوں سے خود ہی پھر رہا ہے۔ تہذیب ہزاروں برس کے انسانی تجربات کا نچوڑ ہوتی ہے۔ مگر انسان ہزاروں برس کے عقلی تجربات اور قدرت کی طرف سے ملنے والی ہدایات سے خود ہی پھر رہا ہے۔ یہ اپنے اصولوں کو خود ہی توڑ رہا ہے۔ اور اس کا نتیجہ اب بھی پہلے سے مختلف نہیں نکلے گا۔ تاریخ دو جمع دو کے حسابی فارمولے پر عمل کرتی ہے۔ ہزاروں سال پہلے کا انسان اگر اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے تباہ ہوا ہے تو ہزاروں سال بعد کے انسان کو کوئی چھوٹ نہیں ہے۔

یونانی ہم جنس پرست تھے تمام تر فلسفے کے باوجود تباہ ہوئے، پامپائی شہر اپنی تہذیب کے عروج پر تھا ہم جنس پرستی عام تھی لٰہٰذا تباہ ہوا اور آخر میں فائنل اتھارٹی قران۔ قومِ لوط ہم جنس پرست تھی تباہ ہوئی۔ تو آج کے دور میں بھی اگر کسی کو شوق ہے تو کر کے دیکھ لے قوانینِ قدرت کی مخالفت۔ ہم جنس پرستی ہو یا آزاد جنسی تعلقات یہ بالاخر معاشرے تباہ کرتے ہیں۔ جس معاشرے میں یہ فروغ پائیں وہ معاشرہ پچاس نہیں تو سو سال، سو نہیں تو دیڑھ سو سال بعد تباہ ہو جائے گا۔ کیوں کہ یہی قانونِ قدرت ہے اور یہی تاریخ کا سبق بھی۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here