کیا واقعی پاکستان امریکی گرینڈ سٹریٹیجک آبجیکٹیوز کی راہ میں حائل ہے؟

0
869

کیا واقعی پاکستان امریکی گرینڈ سٹریٹیجک آبجیکٹیوز کی راہ میں حائل ہے؟

یاد رکھیں

جب امریکہ جیسا ملک “افغانستان پر حملے” جیسا بڑا قدم اٹھاتا ہے تو وہ کسی ایک مقصد کو پورا کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے پیچھے بیک وقت کئی مقاصد ہوتے ہیں۔

امریکہ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت قائم کی جانے والی عالمی حکومت کی عبوری شکل ہے۔ ان کے ایک بڑے تھنک ٹینک نے نائن الیون سے کچھ پہلے بڑی عرق ریزی سے امریکہ کے لیے کچھ مقاصد کا تعین کیا تھا کہ اگر امریکہ ان کے حصول میں کامیاب ہوتا ہے تو نیو ورلڈ آرڈر کے تحت اسرائیل کی عالمی حکومت بننے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہے گی۔ ان کو امریکہ کے گرینڈ سٹریٹیجک آبجیکٹیوز کہا جاتا ہے۔ وہ مقاصد مندرجہ ذیل ہیں۔

۔ 1  دنیا بھر کے توانائی (تیل اور گیس) کے ذخائر کا کنٹرول

 ۔ 3  چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو لگام ڈالنا

۔ 4  روس کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکنا

۔ 5 اسرائیل کی موجودہ ریاست کا دفاع اور گریٹر اسرائیل کا قیام

۔ 6 اسلام کو بطور سیاسی یا معاشرتی نظام نافذ نہ ہونے دینا

ان گرینڈ سٹریٹیجک آبجیکٹیوز پر کام کرنے کے لیے افغانستان کو ٹھکانہ بنانا آئیڈیل تھا۔ کیونکہ افغانستان ایک کمزور اور ٹوٹی پھوٹی ریاست تھی جن پر انکے خیال میں قبضہ کرنا آسان تھا اور تیل و گیس کے دنیا کے ستر فیصد ذخائر جو کہ عرب اور وسطی ایشیا کے ممالک میں ہیں اسکے ارد گرد واقع ہیں۔ نیز یہ چین اور روس کے بھی درمیان ہے اور یہاں سے چین اور روس کے خلاف یہ اپنے خفیہ آپریشنز کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہ گوادر (جو انشاءاللہ عنقریب نہر سویز سے زیادہ اہمیت کی حامل ہو جائے گی) سمیت روس ، چین اور انڈیا کے خشکی اور سمندری راستوں کا کنٹرول یہاں سے آسان ہے ۔ ان کے علاوہ طالبان افغانستان میں ایک اسلامی سیاسی نظام لانے کی کوشش کر رہے تھے جس کو تباہ کرنا ضروری تھا۔

افغانستان پر حملہ ہو گیا قبضہ بھی ہو گیا۔ لیکن یہ تو صرف ٹھکانہ ہے۔ گرینڈ سٹریٹیجک آبجیکٹیوز کے راستے میں پاکستان حائل ہے۔ بھلا کیسے؟

آئیے سمجھنے کی کوشش کریں۔

۔ 1 تیل اور گیس کے ذخائر کا کنٹرول

دنیا کے ستر فیصد سے زائد تیل اور گیس کے ذخائر وسطی ایشاء، عرب ممالک، ایران اورکچھ خود پاکستان میں بھی ہیں۔ عرب ممالک میں سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان کے پڑوس میں واقع ایران غالباً دنیا کا چوتھا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ سعودی عرب میں ہمارے دینی مراکز ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ ایک نیوکلیر پاکستان کی موجودگی میں سعودی عرب کی طرف قدم بڑھانا ممکن نہیں۔ اسرائیل کو اس کا تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو پاکستان نے ایران کی نیوکلیر اور میزائل ٹیکنالوجی میں مدد کی اور امریکہ نے جب ایران پر حملے کا اعلان کیا تھا تب پاکستان نے سب سے پہلے اسکی مخالفت کی تھی۔ پاکستان کی ہی بدولت ایران اور سعودی عرب میں جنگ نہیں ہوپارہی۔ وسطی ایشیاء کے ممالک اور افغانستان میں مجاہدین پر پاکستان کا اثرورسوخ دنیا جانتی ہے اور پاکستان کی موجودگی میں وہاں آرام سے قدم جمانا ممکن نہیں اسلئے وسطی ایشیاء، عرب ممالک اور پاکستان کے تیل و گیس کے ذخائر کو کنٹرول کرنے کے لیے پاکستان کا وجود ختم کرنا ضروری ہے۔

۔ 2 اہم ترین سمندری اور خشکی کے راستوں کا کنٹرول

گوادر جو دنیا کی ساری آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے پاکستان میں واقع ہے۔ گوادر پر آنے والے وقت میں امریکہ کے دو سب سے بڑے حریف بری طرح سے انحصار کر رہے ہیں یعنی چین اور روس۔ اسکے سامنے سے گزر کر انڈیا، اسٹریلیا اور جاپان جیسے ممالک بقیہ دنیا سے تجارت کرتے ہیں ۔ گوادر پر کنٹرول سے آپ بحر ہند کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ روس، وسطی ایشیا کے کوئی درجن بھر ممالک اور افغانستان کے لیے پاکستان خشکی کا اہم ترین راستہ ہے۔ ان راستوں پر کنٹرول کے لیے بھی پاکستان کو راستے سے ہٹانا ضروری ہے۔

۔ 3 اور 4  چین اور روس کو لگام ڈالنا

چین اور اب روس کے لیے بھی پاکستان ایک بڑا سہارا ہے۔ چین کے لیے تو زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ اسی لیے چین نے امریکہ کو دھمکی دی تھی کہ “پاکستان پر حملہ بیجنگ پر حملہ تصور ہوگا اور چین پوری طاقت سے اسکا جواب دے گا” چین انڈیا کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات اور گوادر کی وجہ سے پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ خاص کر اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جو چین کی بہت بڑی کمزوری ہے اور جسکے راستے پاکستان سے ہوکر جاتے ہیں ( پاک ایران گیس پائپ لائن بھی اس معاملے کا ایک اہم ترین حصہ ہے )
یہ بات نوٹ کریں کہ اسوقت روس پہلی بار پاکستان سے تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں ہماری جمہوری حکومت مسلسل سستی دکھا رہی اور صرف عسکری قیادت ہی معاملات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ سب سے پہلے جنرل کیانی نے روس کا دورہ کیا جس کے بعد تعلقات کا نئے سرے سے آغاز ہوا اس کے بعد راحیل شریف نے نہایت تیزی سے اس سلسلے کو آگے بڑھایا اور نہ صرف روس اور چین کی دفاعی تنظیم ایس سی او میں شمولیت اختیار کی بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار روس سے اسلحہ خریدنے کے معاہدے بھی کر لیے۔ چین اور روس کو لگام ڈالنے کے لیے بھی پاکستان کو ختم کرنا ضروری ہے۔

۔ 5 اسرائیل کی موجودہ ریاست کا دفاع اور گریٹر اسرائیل کا قیام

اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ پاک آرمی نے عرب اسرائیل جنگوں میں اسرائیل کو شدید زک پہنچائی تھی۔ نیز عراق ایران جنگ خفیہ طور پر بزور طاقت رکوائی تھی۔ آج افغانستان میں امریکہ کے خلاف ہونے والی ساری مزاحمت کے پیچھے بھی پاکستان کا نام لیا جارہا ہے۔
امریکہ پاکستان کی اس اہلیت سے واقف ہے کہ پاکستان ظاہراً اور خفیہ طور پر کیا کچھ کرسکتا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ خاص کر اسرائیل کے معاملے میں۔ ستاسٹھ اور تہتر اور دو ہزار چھ کی عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان نے اسرائیل کو روکنے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا ۔ اسرائیل کے خلاف لڑنے والی حماس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر اسرائیل گریٹر اسرائیل تب ہی بنے گا جب وہ مدنیے تک کا علاقہ ہڑپ کر لے گا اور ایک نیوکلیر پاکستان کی موجودی میں مدینے تک جانا اسرائیل کے لیے ممکن نہیں لہذا پاکستان کو ختم کرنا ضروری ہے۔

۔ 6 اسلام بطور سیاسی یا معاشرتی نظام نافذ نہ ہونے دینا

اس وقت پاکستان ہی دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو ایک اسلامی معاشرتی اور سیاسی نظام کا تجربہ کر سکتا ہے۔ جنرل ضیاء نے اپنے دور میں یہ تجربہ پاکستان میں ہی کرنے کی کوشش کی تھی اور بعد میں افغانستان میں طالبان حکومت کے ذریعے کوشش کی گئی۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو بنا ہی اسلام کے نام پر ہے جہاں آج بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ نمازی ہیں دنیا کی پچاس فیصد زکواۃ پاکستان میں ادا کی جاتی ہے دنیا بھر میں اکثر جہاد کو یہاں سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں تبلیغ کا مرکز بھی پاکستان ہی ہے اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ حج پر جانے والے بھی پاکستانی ہی ہیں۔
حضور (ص) کے فرمان کے عین مطابق کہ دین دوبارہ مشرق سے اٹھے گا جس پر علامہ اقبال نے قسم کھائی ہے کہ حضور کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا۔ اگر یہ تجربہ ہوگیا تو دنیا بھر کے تمام معاشی اور معاشرتی نظام اسکے سامنے بے معنی ہوجائینگے۔ اس سے پہلے ہی پاکستان کو ختم کرنا ضروری ہے۔

امریکہ کے گرینڈ سٹریٹیجک آبجیکٹیوز کے راستے میں پاکستان حائل ہے اور پاکستان کی جانب جانے والے راستوں میں افواج پاکستان حائل ہیں۔

پاکستان کو ختم کرنا یا توڑنا امریکہ کی سب سے بڑی سٹریٹیجک ضرورت ہے اور اس کے لیے افواج پاکستان کو نشانہ بنانا امریکہ کی سب سے بڑی خدمت

آپ نوٹ کیجیے امریکہ نے جن لوگوں پر انعام و اکرام کی بارش کر رکھی ہے وہ سب سے پہلے پاک فوج کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔ ملالہ یوسفزئی، عاصمہ جہانگیر، شرمین عبید، نجم سیٹھی اور اب منظور پشتین

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here