کیا عمران خان مسلم امہ کو یکجا کر پائیں گے

0
471

وزیراعظم عمران خان سعودی عرب اور عرب امارات کے حالیہ دورے پر عمران خان نے کہا کہ مسلم دنیا میں بڑھکتی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں گے، یہ بات انہوں نے ایک اہم اور ذمہ دار اسلامی ریاست پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کی حیثیت سے کہی۔

وزیراعظم چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک کے تمام سربراہان کو اکٹھا کر کے انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے، جیسا کہ اس سے پہلے جنرل ضیاالحق ایسا کیا کرتے تھے، جنرل ضیاء الحق نے مسلم امہ کو یکجا کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رکھی ہیں۔

حال ہی میں جب ہالینڈ میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے کی بات چلی وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ ہمیں تمام مسلمان ممالک کو یکجا کرکے مغرب کو مجبور کرنا ہے کہ وہ اس حساس معاملے پر قانون سازی کرے۔ دراصل اس وقت مسلمانوں پر جو زوال چل رہا ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں اتفاق نہیں۔

جبکہ مغربی دنیا کو دیکھیں تو ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کیے ہوئے ہے، وہ اپنے معاملات مل بیٹھ کر حل کر لیتے ہیں، جب کہ مسلمان ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں بنتی، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو ایک بہترین لیڈر شپ کی ضرورت تھی جو کہ عمران خان کی صورت میں مل گئی ہے۔

مگر ان تمام مسلمان ممالک کو یکجا کرنے کے لیے بھی ایک ایسا شخص درکار ہے جو یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ اسلامی ممالک کے سربراہان کو بھی سوچنے اور سمجھنے پر مجبور کر سکے کہ مغرب کیسے ہم میں دراڑیں ڈال رہا ہے، اور اگر ہم یکجا نہ ہوئے تو بربادی ہمارا مقدر ہوگی۔ جیسا کہ عراق، لیبیا اور شام کے ساتھ ہو چکا ہے۔

امریکیوں نے ترکی اور قطر کو بھی برباد کرنے کی پلاننگ بنا رکھی تھی، مگر جب قطر پر برا وقت آیا پر امریکا سمیت کئی ممالک نے سفارتی تعلقات قطر کے ساتھ منقطع کر دیے تھے تو ترکی نے مدد کا ہاتھ بڑھایا، جس کی وجہ سے قطر اس مشکل دور سے نکلا، اب جب ترکی پر برا وقت آیا اور امریکہ نے ترکی کی برآمدات پر بے جا ٹیکس لگائے جس کی وجہ سے ترکی کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں بری طرح سے گری تو اس وقت قطر نے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا اور ترکی کو تقریبا 15 بلین ڈالر امداد اعلان کردیا.

یہ یکجہتی کی ایک بہترین مثال ہے، کی اگر تمام مسلمان ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرلیں تو مغرب کی جرات نہیں ہوگی کہ کہ کسی مسلمان ملک کو میلی آنکھ سے بھی دیکھ سکے۔ مگر ایک بار پھر بتاتا چلوں کہ ایسا وقت لانے کیلئے پاکستان کے سربراہ کا انتہائی قابل، انتہائی ذہین ہونا ضروری ہے، اور یہ عمران خان کا بہترین اور کڑا امتحان ہوگا۔

عمران خان کی قابلیت کا اندازہ یہاں سے بھی لگایا جاسکتا ہے، کہ جب حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کا سپورٹ فنڈ بند کردیا جس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان میں آئے تو امریکہ کا خیال تھا کہ پاکستان یہ فنڈز بحال کرنے کا کہے گا اور بدلے میں امریکہ کا ڈومور کا مطالبہ مان لے گا، مگر عمران خان نے اس سپورٹ فنڈ کا ذکر ہی نہیں کیا، کہ جیسے امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے نہ کہ پاکستان کو امریکہ یا اس کے پیسے کی۔


اس خطے میں قدم جمائے رکھنے کے لئے امریکہ کو پاکستان کی کتنی ضرورت ہے اس بات کا اندازہ امریکہ کے سابقہ سفیر کے حال ہی میں دیے گئے ایک بیان سے لگایاجاسکتاہے، انہوں نے بیان دیا ہے کہ پاکستان کی سپورٹ فنڈ روکنا ایک خوفناک فیصلہ تھا جیسے اب امریکہ بحال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہے، یہی وجہ ہے کہ مسٹر ٹرمپ پاکستان کو ہلکا لے رہا ہے، پاکستان نے امریکہ سے کچھ جنگی ہیلی کاپٹروں کا سودا کر رکھا تھا، جن میں سے تین ہیلی کاپٹر پوری طرح سے تیار ہو چکے ہیں اور اپنی ٹیسٹ فلائٹس بھی پاس کر چکے ہیں، اور اب امریکا انھیں پاکستان کے حوالے کرنے ہی والا تھا مگر ایک بار پھر امریکا نے اپنی نیت ظاہر کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دی ہے۔

امریکہ نے جو پاکستان کا اعتماد کھویا ہے وہ ایسی ہی حکمت عملی اپنانے کی وجہ سے ہے، امریکہ شروع سے ہی بس اپنا ذاتی مفاد دیکھتا آیا، اس نے کچھ لو کچھ دو کہ حکمت عملی کو سمجھا ہی نہیں، تعلقات میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ کچھ لو اور کچھ دو کی حکمت عملی پیسے یا پھر مالی مدد کی شکل میں ہو، یہ عزت کا معاملہ بھی ہے جو کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان اور امریکہ کے رستے الگ الگ ہو رہے ہیں، امریکہ کے نہ تو ہتھیار ہمیں چاہیے اور نہ ہی ڈالر۔

امریکہ نے جب بھی پاکستان پر کوئی پابندی لگائی یا پھر کسی ہتھیار کی فراہمی کو روکا تو پاکستان نے وہ ہتھیار یا تو ملکی سطح پر تیار کر لیا یا پھر چین کی مدد سے تیار کیا۔ امریکی خود جانتے ہیں کہ پاکستان کو امریکہ کی ضرورت نہیں ہے ہاں البتہ امریکہ کو پاکستان کی بہت ضرورت ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

تحریر : یاسر حسین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here