کیا حضرت ابوبکر صدیق (ر) سے لے کر ترکی کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی تک سارے کے سارے خلیفہ تھے ؟؟؟

0
282

کیا حضرت ابوبکر صدیق (ر) سے لے کر ترکی کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی تک سارے کے سارے خلیفہ تھے ؟؟؟

امت کی اکثریت ان ساروں کو خلیفہ سمجھتی ہے ۔ اس اکثریت میں ہمارے نہایت قابل احترام علماء اور دانشور شامل ہیں ۔ ان سب کی رائے یہی ہے کہ خلافت 1924 میں جاکر ختم ہوئی ہے جب سلطان عبدالحمید کا اقتدار ختم ہوا تھا اور علامہ اقبال سمیت سب نے اسکا سوگ منایا تھا ۔

اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تب خلافت کی کوئی بھی واضح تعریف کرنا ممکن نہیں ہوگا اور اس صورت میں کوئی بھی گروہ یا شخص خلافت کا دعوی کر سکتا ہے ۔۔۔۔ زرداری اور نواز شریف جیسے لوگ بھی خود کو خلیفہ کہیٰں تو آپ ان کے اس دعوے کو مسترد نہیں کر سکیں گے ۔۔۔۔کیوں ؟؟

اسکی ایک بڑی سادہ سی وجہ ہے ۔ ہمارے جتنے خلیفہ گزرے ہیں ان سب کے خلیفہ بننے کا طریقہ کار انکا ذاتی کردار اور انکے خلافت کا دائزہ بہت مختلف بلکہ متضاد رہا ہے ۔۔۔۔۔ !!

ان میں سے صرف چند ایک کو ہی وقت کے انتہائی نیک اور صاحب رائے لوگوں نے مشورے سے چنا تھا ان میں چاروں خلفائے راشدین اور حضرت عمر بن عبدالعزیز جیسے خلیفہ آتے ہیں لیکن باقیوں کی اکثریت کو خلافت باپ کی طرف سے وراثت میں ملی یا انہوں نے تلوار کے ذریعے خلافت حاصل کی یا سازش کے ذریعے ۔۔۔۔۔۔ !!

لیکن ان سب کے ہاتھ پر بعیت کی گئی اور انکی خلافت کو تسلیم کیا گیا ۔۔۔۔۔!!

ہمارے خلفاء کا کردار بھی مختلف رہا ہے ۔۔۔۔ ان میں کچھ وقت کی بزرگ ترین ہستیاں تھیں لیکن کچھ عیاش اور بدکار تھے اور اکثریت نے بیت المال کو اپنے ذاتی خزانے کی طرح استعمال کیا ۔۔۔۔۔۔۔ !!

لیکن ان سب کو خلیفہ تسلیم کیا گیا ۔۔۔ !!

انکی خلافت کا دائزہ کار بھی مختلف رہا ہے ایک دور ایسا بھی تھا جب پوری دنیا میں بیک وقت چار خلیفہ خلافت کر رہے تھے ۔۔۔۔ ایک عباسی خلافت تھی ، ایک مصری کی فاطمی خلافت ایک افریقہ میں تھی اور ایک سپین میں ۔۔۔۔۔!!

لیکن ان سب کو خلیفہ تسلیم کیا گیا ۔۔۔۔ !!!

خلافت کا تعلق مسلک سے بھی نہیں رہا ہے ۔۔۔۔ مثلاً فاطمی خلافت بنیادی طور پر ایک شیعہ خلافت تھی اور صلاح الدین ایوبی جیسا مجاہد فاطمی خلافت کے ماتحت رہا ۔۔ اسی طرح بصرہ کی خلافت میں بھی ایک ایسا دور آیا جب خلافت اہل تشیع کے ہاتھ میں رہی ۔۔ تاہم زیادہ عرصہ خلافت سنیوں کے پاس ہی رہی ۔۔۔ !!

ان سب کو بھی خلیفہ تسلیم کیا گیا ۔۔۔۔۔!!!

ان سب کا بغور جائزہ لینے کے بعد خلافت کی کوئی بھی تعریف وضع کرنا ممکن نہٰیں ۔!!!

خلیفہ تو ایک طرف رہا وہ شوری بھی بنانا آسان نہیں جو خلیفہ کا انتخاب کرے گی ۔۔۔ وقت کے نیک ، صالح اور صاحب الرائے لوگوں کا تعین کون کرے گا ؟؟ جس کو خلیفہ کے انتخاب کا اختیار ہوگا ۔۔۔۔ ؟؟

حضور (ص) نے فرمایا ہے کہ ہم اسکو حاکم نہیں بناتے جو خود طلب کرتا ہے ۔۔ خلافت کا کوئی طالب سامنے آیا تو کیا وہ ایک صحیح خلیفہ کہلائگا ؟؟

کچھ ضعیف حدیثوں کے مطابق جب خلافت ایک بار ختم ہوگی تو تب دوبارہ آئیگی جب حضرت امام مہدی تشریف لائینگے ۔۔۔۔۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تب ان کی آمد سے پہلے کوئی خلیفہ بن سکتا ہے ؟؟؟

غالباً انہی پیچیدگیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ملاعمر مجاہد نے کبھی اپنی حکومت کو خلافت نہٰیں کہا تھا بلکہ امارت اسلامی کا نام استعمال کرتا رہا ۔۔۔!!!

سب سے بڑھ کر خلافت کے قیام کے لیے ہمارے دل میں سب سے زیادہ تڑپ اسلئے ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے قیام سے ہمارے تمام مسائل حل ہو جائنگے اور اسلام پوری دنیا میں نافذ ہوجائیگا ۔۔۔ !!

سوال یہ ہے کہ کیا حضور (ص) نے کبھی بھی خلافت کے قیام کو ہی ہمارے تمام مسائل کا حل بتایا ہے ؟؟ بلکہ وہ تو یہی کہتے رہے کہ اللہ کے احکام مانو اور میرے طریقے اختیار کر لو تو تم کامیاب ہو جاؤگے !!!

خلافت ان احکام یا طریقوں میں سے محض ایک حکم یا طریقہ ہے ۔۔۔۔۔ خلافت سے ریاستی طاقت آسکتی ہے جس کی مدد سے آپ دین کے کچھ احکام نافذ کر سکتے ہین لیکن وہ معاشرہ نہیں بنا سکتے جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ وہ معاشرہ صرف ایمان والے بنا سکتے ہیں اور ایمان کو طاقت کی مدد سے نافذ نہین کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ !!

اسکا وہی ایک طریقہ ہے جو حضور (ص) نے 23 سال تک مسلسل اخیتار کیے رکھا اور آج بھی ایک جماعت اسی کی محنت کر رہی ہے وہ صرف اور صرف دعوت کا طریقہ ہے !!

نیک بادشاہ یا خلیفہ اللہ کا تحفہ ہوتا ہے لیکن کیا اللہ کسی ایسی قوم کو تحفے دیگا جو پہلے ہی اپنے اعمال کی بدولت مختلف عذابوں کی زد میں ہے جن میں سے سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ ان کے درمیان اللہ نے تلوار مسلط کر دی ہے اور اب وہ ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں !!!

جب تک ہمارے اعمال درست نہیں ہوتے تب تک ہماری حالت درست نہیں ہوگی اور اعمال صرف دلوں میں ایمان اترنے سے ہی درست ہونگے اور یہ ایمان طاقت کی مدد سے نہیں اتارا جا سکتا ۔۔۔۔۔۔ اس کے لیے اسی محنت کی ضرورت ہے جو حضور (ص) اور اسکے صحابہ نے کی اور جس سے آج ہم جی چرا رہے ہیں اور اسکو ایک مشکل اور لمبا راستہ سمجھتے ہیں !!

اس پر بات کی جانی چاہئے علمائے کرام کو اس سارے معاملے پر نئے سرے سے غور و فکر کرنی چاہئے ۔۔۔۔۔۔ ایک ایسی حکومت کے قیام کی کوشش کی جانی چاہئے جو اسلامی خدو حال کی حامل ہو لیکن اگر امت کی بہتری ہی مقصود و مطلوب ہے تب ” دعوت ” کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں ہے ہمارے پاس ۔۔۔۔۔۔!!

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here