کیا افغان طالبان پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان معاملات کو درست ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں ؟؟؟ آپ کی کیا رائے ہے ؟؟

0
382

کچھ واقعات کی کڑیاں ملانا بے حد ضروری اور قابل توجہ ہے ۔۔۔۔۔ افغان طالبان کی ٹی ٹی پی اور پاکستان کے درمیان معاملات میں گہری دلچسپی !!!!

جب قاری ولی الرحمن نے پاکستان سے مذاکرات کی بات کی تھی تو حکیم اللہ محسود نے اسکی سخت مخالفت کی تھی ۔۔۔!!!

قاری ولی الرحمان کے قتل کے بعد افغان طالبان کے وفد نے باقاعدہ حکیم اللہ محسود سے ملاقات کی اور اس کو افغان طالبان کی قیادت کا یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات درست کر لیں ۔۔۔۔۔۔۔!!

تب پہلی بار حکیم اللہ محسود نے پاکستان سے مذاکرات کی بات کی ۔ اسی دوران پشاور میں دو بم دھماکے ہوئے اور میجر جنرل ثناءاللہ شہید کر دئیے گئے ۔ فضل اللہ نے میجر جنرل کو شہید کرنے کا اعلان کیا اور کچھ لوگوں نے دعوی کیا کہ پشاور خود کش حملوں کے پیچھے بھی مولوی فضل اللہ کا ہی ہاتھ تھا ۔۔۔۔۔۔۔ !!

پاک فوج ضرورت کے وقت کیسا رد عمل ظاہر کر سکتی ہے اس سے دنیا واقف ہے لیکن اسکے باوجود انہوں نے امن کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے اپنے جرنیل کی شہادت کا صدمہ برداشت کیا اور صبر سے کام لیا۔۔۔۔۔۔!!!

لیکن یہ بات نوٹ کیے جانے کے قابل ہے کہ جرنل ثناءاللہ کی شہادت کے کچھ ہی دن بعد افغان طالبان یا امارت اسلامی کے مجاہدین نے مولوی فضل اللہ پر ایک سخت حملہ کیا جس میں اسکے کئی ساتھی ہلاک کردئے اور فضل اللہ خود شدید زخمی ہوا لیکن بچ گیا ۔۔۔!!!
امارت اسلامی نے فضل اللہ کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کیا ۔۔۔۔۔!!

امارت اسلامی کئی معاملات پر ٹی ٹی پی سے سخت اختلافات کی وجہ سے ان سے دور رہی ہے ۔ لیکن حکیم اللہ کے قتل پر اس کا وفد فوری طور پر تعزیت کے لیے آیا اور اسکے قتل کو ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے پاکستان سے ڈرون حملوں کو رکوانے کا مطالبہ کیا ۔۔۔۔۔۔ لیکن ساتھ ہی پہلی بار افغان طالبان یا امارت اسلامی کے مجاہدین نے ٹی ٹی پی کے امیر کے لیے خان سید عرف سجنا کی حمایت کی ۔۔۔۔!!

کیا افغان طالبان پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان معاملات کو درست ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں ؟؟؟ آپ کی کیا رائے ہے ؟؟

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here