کہیں اور قاتل ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو پکڑو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0
226
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دوستوں نے مندرجہ ذیل اخباری تراشے بھیجے ہیں۔۔۔۔

قصور میں ن لیگ کے ایم پی اے ملک احمد سعید خان بچوں کے ساتھ بدفعلی کر کے ان کی ویڈیوز عالمی مارکیٹ میں بیچتا رہا، متاثرہ بچوں کی تعداد 300 سے زائد۔

شیخورہ پورہ میں ووٹ نہ دینے پر ن لیگ کے امیدوار نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر مزدور کی کمسن بیٹی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور مزاحمت پر گھر والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
غالباً اسی لیے شیخورہ پوری میں نواز شریف کا شاندار استقبال کیا گیا۔

جہلم میں پانچویں جماعت کی طالبہ سے جنسی زیادتی کرنے والے درندے کو امیدوار چیرمین ن لیگ چھڑا کر لے گیا۔

فیصل آباد میں ن لیگ کے ایم پی اے میاں فاروق کے تین بیٹوں کی ایک کم سن بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی۔ نواز شریف کی پولیس کو ڈپٹ کہ کوئی کاروائی نہ کی جائے۔

ن لیگی کارکن 6 ساتھیوں کے ساتھ لاہور میں 15 سالہ لڑکی کا گینگ ریپ۔ یہ خبر میڈیا پر کئی دن چلی اور مجرم کی تصاویر شریف بردارن کے علاوہ بڑے ن لیگی راہنماؤوں کے ساتھ شیر ہوتی رہیں۔

ن لیگی ایم پی اے کی ساتھیوں سمیت حاملہ خاتون سے اجتماعی زیادتی۔ ویڈیو بھی بنائی۔

مسلم لیگ ن کی کارکن سمعیہ چودھری زیادتی کے بعد قتل، لاش چنبہ ھاؤس سے اہم مسلم لیگی راہنما کے کمرے سے برآمد۔

یہ پچھلے تین سال کی خبریں ہیں۔

——————————————-

اب پچھلے تین ماہ کی خبریں ملاحظہ کیجیے ۔۔۔۔۔۔

28 اکتوبر ۔۔۔۔۔ علی پور سود خور کی یتیم لڑکی سے زیادتی، بلیک ملینگ کر کے چار لاکھ بھی لے لیے۔

28 اکتوبر ۔۔۔۔۔۔ پانچ اوباشوں کی خاتون سے اجتماعی زیادتی، نازک حصوں پر تیزاب ڈال دیا۔

31 اکتوبر ۔۔۔۔۔ شرابی جوانوں نے 12 سالہ بچی سے اغواء کے بعد اجتماعی زیادتی کی، زخمی حالت میں نہر کے کنارے پھینک کر فرار۔

31 اکتوبر ۔۔۔۔۔۔ گوجرانوالہ بااثر افراد کو لڑکی کو اغواء کے بعد کئی ماہ تک زیادتی، بعد میں ڈیڑھ لاکھ میں فروخت کر دیا۔

1 نومبر ۔۔۔۔ احمد پور شرقیہ زیادتی کی کوشش میں ناکامی، اوباش کا بچے پر وحشیانہ تشدد۔

4 نومبر ۔۔۔۔۔۔ لڑکی کو اٹھ مسلح افراد نے برہنہ کر کے ویڈیو بنائی زیادتی کی کوشش۔

6 نومبر ۔۔۔۔۔۔ خان پور لڑکی اغواء کے بعد اجتماعی زیادتی، پولیس کا مقدمہ درج کرنے کے لیے رشوت طلب۔

8 نومبر ۔۔۔۔۔ پاکپتن، وحشی درندوں کی اجتماعی زیادتی کے بعد بچی کا قتل۔

11 نومبر ۔۔۔۔۔ غریب مزدور کی بیٹی سے زیادتی کی کوشش، پولیس بااثر افراد کے ساتھ مل گئی۔

13 نومبر ۔۔۔۔ بھٹہ مزدور کا اکلوتا بیٹا زیادتی کے بعد قتل، والدین پر سکتہ۔

———————————————–

کسی ایک شخص کو سزا نہیں ملی۔

اس جج کا کیا بنا جس نے گھر میں بچی پر تشدد کیا تھا؟

ن لیگ کے وفاقی وزیر طلال چودھری فرماتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات تو پورے ملک میں ہوتے رہتے ہیں ان کی آڑ میں حکومت پر تنقید درست نہیں۔

لعنت ہو ن لیگ پر
ان کے سپورٹرز پر
اور سب سے بڑھ کر عدلیہ پر۔

کہیں اور قاتل ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو پکڑو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here