کچھ ” منظور پسکین ” کے مطالبات کے بارے میں

0
413

کچھ ” منظور پسکین ” کے مطالبات کے بارے میں ۔۔۔۔۔

مطالبات کا آغاز راؤ انوار کی گرفتاری سےہوا۔

مطالبہ پورا ہوا تو ردعمل آیا کہ ” اسکو اپنی جیب میں رکھو ہمارے مطالبات تو کچھ اور ہیں “

پھر فرمایا کہ چیک پوسٹوں پر بدسلوکی بند کی جائے۔

وہاں شربت پلانا شروع ہوا تو ردعمل آیا کہ ” پنجابی فوج دب گئی ہے پشتونوں اب رکنا نہیں۔ اب تو ہم 70 سال کا حساب لینگے “

اب تازہ ترین مطالبات یہ آرہے ہیں ۔۔۔۔۔۔

۔ 1۔۔۔۔ 32000 لوگ غائب ہیں وہ واپس کرو۔

۔ 2 ۔۔۔۔ فوج پشتونوں کی 1400 عورتیں اٹھا کر لے گئی ہے وہ واپس کرو۔

۔ 3 ۔۔۔ ساری بارودی سرنگیں صاف کرو۔

۔ 4 ۔۔۔ ٹوٹے ہوئے گھر دوبارہ بنوا کر دو یا ان کا معاؤضہ ادا کرو۔

اب کچھ سوالات ۔۔۔۔۔۔۔۔

 ۔32000 لوگوں کی فہرست کس کے پاس ہے؟
اس بات کا ثبوت کس کے پاس ہےکہ غائب ہونے والوں کو فوج نے ہی اٹھایا ہے؟
یہ کیسے پتہ چلے گا کہ غائب ہونے والے ٹی ٹی پی کے ان ہزاروں جنگجوؤں میں شامل نہیں ہیں جو آپریشن کے بعد افغانستان اور دبئی بھاگ گئے تھے؟
یا وہ نہیں ہیں جو خود کش حملے کر چکے ہیں یا پاک فوج کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مارے جا چکے ہیں۔
یا غائب ہونے والے وہ نہیں ہیں جن کو دہشت گردوں نے قتل کر کے ویرانوں میں پھینک دیا تھا اور ان کو لاشوں تک کا پتہ نہیں چل سکا؟؟

کچھ ایسے ہی سوالات اس الزام پر بھی پیدا ہوتے ہیں کہ فوج نے پشتونوں کی 1400 عورتیں اٹھائیں۔
اور وہ کیسے بے غیرت پشتون تھے جو آج تک اس پر خاموش رہے؟
خیال رہے کہ کسی خاندان کا دعوی کہ ” جی ہم گواہی دیتے ہیں کہ فوج نے ہمارا بندہ اٹھایا ہے بھی الزام ہی ہوتا ہے ثبوت نہیں ” اور جب امریکہ اور انڈیا فنڈنگ کرنے پر آمادہ ہوں تو ایسی گواہیاں دینے والے بہت سے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

دہشت گردوں کی بچھائی گئی بارودی سرنگیں پاک فوج صاف کر رہی ہے۔
یہ عظیم الشان احسان فراموشی ہے کہ باردوی سرنگیں بچھانے والوں کے بجائے ان کو صاف کرنے والوں کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
نیز یہ سرنگیں کس نے گنی ہیں؟ اور کون یہ طے کرے گا کہ ہاں اب ساری بارودی سرنگیں صاف ہو چکی ہیں اور مطالبہ پورا ہوگیا؟؟؟
ظاہر ہے پاک فوج کے پاس غیب کا علم تو نہیں ہے وہ بھی ڈھونڈ رہی ہے جہاں جہاں مل رہی ہیں ان کی صفائی کا عمل جاری ہے۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ ” پسکین” تحریک کے شریر پشت پناہ دوبارہ کسی علاقے میں باردوی سرنگ لگا کر عام لوگوں کو مروا دیں اور دوبارہ اس مطالبے کی مدد سے پاک فوج کو نشانے پر لے لیں؟؟

تلخ سچائی یہی ہے کہ 90 فیصد دہشت گرد مقامی اور پشتون تھے جو ان گھروں میں چھپ کر پاک فوج سے جنگ کر رہے تھے۔ کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا اور کسی کا باپ۔ تب گھر ٹوٹنے کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔
وہ ٹوٹے ہوئے گھر اس جنگ کی قیمت ہے جو پشتونوں کو دہشت گردوں سے بچانے کے لیے لڑی گئی۔
اس کے باؤجود اگر اس کے لیے کسی قسم کا معاؤضہ طلب کرنا ہے تو ان سے کرو جن کو ووٹ دیتے ہو یا اسفند یار ولی اور محمود اچکزئی سے کرو جن کی حکومت ہے۔ کیونکہ یہ کام سول حکومت کا ہی ہوتا ہے۔
پاک فوج اگر اپنے طور پر کچھ تعمیر نو کر بھی رہی ہے تو بلاشبہ یہ اسکا احسان ہے۔

جب تک ان سوالات کے جوابات نہیں ملتے ان میں سے کس مطالبے کو جائز اور درست قرار دیا جا سکتا ہے؟؟؟

جو الو کے پھٹے یہ راگ الاپتے ہیں کہ منظور کا کون سا مطالبہ غیر آئینی ہے؟؟

تو ان سے عرض ہے کہ آئین کی رو سے آپ پاکستان کے خلاف بغاوت کا اعلان نہیں کر سکتے نہ ہی قومی سلامتی کے اداروں اور پاک فوج پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے کوئی الزام لگا سکتے ہیں۔ ” ٹھوس ثبوت” سے مراد وہ ثبوت جسے آپ عدالت میں ثابت کر سکیں۔

” دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے”
” پاکستان سے نفرت ہے”
” پاک فوج نے ہمارے لوگوں کو اٹھایا”
” پاک فوج نے بارودی سرنگیں بچھائیں “

وغیرہ وغیرہ

یہ سارے نعرے، الزامات اور اعلانات بغاوت اور بدترین آئین شکنی ہی ہے اس لیے یہ راگ الاپنا بند کرو کہ کون سا مطالبہ غیر آئینی ہے۔

سنا ہے کے پی کے اور بلوچستان میں ” منظور پسکین” کے بندوں نے اکا دکا پنجایوں پر حملے بھی شروع کر دیئے ہیں۔ جواباً پنجاب میں بھی را کی ہدایات پر چلنے والے ن لیگی پشتونوں کے خلاف کاروائیوں کا عزم ظاہر کر رہے ہیں۔

یہ بدبخت لوگ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک یہ پاکستان میں خانہ جنگی شروع نہ کروا دیں۔ آپ جو مرضی کر لیں آپ ان کو خوش اور راضی نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ ان کا مقصد پشتونوں کا تحفظ نہیں بلکہ پاکستان کی تباہی ہے!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here