کچھ بارودی سرنگوں کے بارے میں

0
100

کچھ بارودی سرنگوں کے بارے میں

دنیا کے کم از کم پچاس ممالک میں اس وقت بھی کروڑوں کی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔
دنیا میں ہر سال اوسطً تین سے چار ہزار لوگ باردوی سرنگوں کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ان ممالک میں پاکستان کا نام کافی نیچے ہے۔

دنیا میں باردودی سرنگوں سے سب سے زیادہ اموات افغانستان میں ہوتی ہیں جن کی سالانہ اوسط تقریباً 2000 ہے۔ جب کہ مرنے والوں کی کل تعداد 30،000 سے 40،000 کے درمیان ہے۔
افغانستان میں ایک اندازے کے مطابق 640،000 کے قریب بارودی سرنگیں ہیں۔
آباد علاقوں میں ہر مربع کلومیٹر کے اندر 40 کے قریب۔
یہ سویت فورسز، افغان فورسز، افغان جنگجوؤں، طالبان اور امریکن فورسز کی بچھائی ہوئی ہیں۔

پاکستان میں آج تک باردوی سرنگوں میں جانبحق ہونے والوں کی تعداد تقریباً 1500 کے قریب ہے جس میں سے آدھی تعداد فوجیوں کی اور آدھی سویلینز کی ہے۔ بشمل ایک جنرل کے۔

پاکستان میں زیادہ اموات 2009ء سے 2016ء کے درمیانی عرصے میں ہوئیں جب فاٹا اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ٹی ٹی پی کا کنٹرول تھا۔

دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے بعد جب لوگوں کی واپسی ہوئی تو بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں کل 12 تا 15 اموات ہوئیں جن میں سے آدھی فوجیوں کی تھیں۔ بشمول ان فوجیوں کے جو بارودی سرنگیں صاف کر رہے تھے۔

یہ بات حیران کن ہے کہ افغانستان میں چند دن پہلے پاکستان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں زخمی ہونے والی بچی کے لیے احتجاج کیا گیا۔
جواباً پی ٹی ایم یا پاکستان میں موجود دیگر افغان نام لیواؤوں کی جانب سے افغانستان میں بچھی باردوی سرنگوں میں مرنے والوں کے حق میں یا ان سرنگوں کے خلاف کبھی کوئی احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ “لر و بر” والا نعرہ سیلیکٹیو ہے اور صرف پاکستان کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔
پی ٹی ایم کے حوالے سے یہ بات بھی عجیب ہے کہ زخمی بچی کی تصاویر کو پراپگینڈے کے لیے استعمال کرنے کے بعد پی ٹی ایم نے دوبارہ مڑ کر نہیں پوچھا اس بچی کا۔

پاکستان میں بارودی سرنگوں کا بہت بڑا حصہ صاف کر لیا گیا ہے اور حالیہ دنوں میں صفائی کرنے والی ٹیموں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حالیہ بارشوں اور برف باری نے اس کام کو کافی مشکل بنا دیا ہے۔ بارشوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک جگہ کلئر ہوجاتی ہے تو بعض اوقات بارشوں میں کہیں اور سے بارودی سرنگیں بہتی ہوئی کسی اور جگہ چلی جاتی ہیں۔
اس لیے ان کو مکمل طور پر صاف کرنے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔

نیز کچھ لوگوں کا عدم تعاؤن بھی اس کام کو مشکل بنا رہا ہے جس کی ایک مثال پی ٹی ایم کا گرفتار شدہ کارکن عالم زیب محسود ہے۔

موصوف نے ایک جگہ کی ویڈیو بنا بنا کر فیس بک چڑھائی کہ یہاں بارودی سرنگیں ہیں اور فوج کچھ نہیں کرتی۔
جب ٹیمیں وہ وڈیو دیکھ کر وہاں پہنچی تو عالم زیب محسود بھاگ گیا۔ اس کی بھی شائد اس کے خلاف ایف آئی آر کٹی ہوئی ہے۔

باردوی سرنگوں کے خلاف فوج، سولین اور عوام ملکر کام کریں تو ان سے مکمل چٹکارہ ممکن ہے۔

عوام کا کام صرف اتنا ہے کہ بچوں اور لوگوں کی تربیت کریں کہ اس قسم کی چیزوں سے دور رہیں جو جنگ زدہ علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ نیز اگر ایسا کچھ بھی نظر آئے تو بروقت ہیلپ لائن پر اطلاع دیں جو ہر کسی کی رسائی میں ہے۔  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here