کوئی الو کا پٹھا یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ آخر یہ بچتیں کہاں سے ہونگی ؟؟؟

0
559

بیرونی قرضے لینا میری نظر میں ایک عجیب بے تکا اور احمقانہ کام ہے۔ ریاست کے معاشی ماہرین اپنی ناگزیر ضروریات اور بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو قرضہ حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں یہ قرضہ حاصل کرنے کے لیے حکومت کو امید دلائی جاتی ہے کہ عنقریت کافی ساری بچتیں ہونے والی ہیں جسکے بعد اس قرضے کی بمع سود ادائیگی ممکن ہو جائیگی۔

کوئی الو کا پٹھا یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ آخر یہ بچتیں کہاں سے ہونگی ؟؟؟

اگر شرح سود پانچ فیصد ہو تو مقروض حکومت بیس سال کے عرصے میں اصل رقم کے برابر صرف سود ہی ادا کر دیتی ہے چالیس سال میں یہ رقم دگنی اور ساٹھ سال میں تگنی ہو جاتی ہے اسکے باوجود اصل قرضہ سر پر ہی رہتا ہے۔
چونکہ اگلی بار رقم سود ادا کرنے میں ہی خرچ ہوگئی تو اب کی بار مزید قرضہ لیا جاتا ہے جس پر مزید سود ادا کرنا پڑتا ہے اس سے اگلی بار سود کی رقم بھی کم پڑ جاتی ہے جس پر محض سود ادا کرنے کے لیے قرضہ لیا جاتا ہے۔
آہ ۔۔۔ یہ ایک خوفناک صورت حال ہوتی ہے اور سود در سود کے چکر میں ریاست بری طرح پھنس جاتی ہے

آخر ان رقوم کی ادائیگی کہاں سے ہوتی ہے ؟؟؟

ریاست کو عوام پر ظالمانہ ٹیکس عائد کرنے پڑتے ہیں اور وہ عوام کے جسموں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیتے ہیں۔ انکی جیبوں سے آخری سکے تک نکال لیے جاتے ہیں محض اپنی اس احمقانہ پالیسی کی بدولت۔
اس سے بہتر تھا کہ کہ انتہائی ناگزیر ضروریات کے لیے شروع ہی میں عوام پر ایک عارضی سا ٹیکس لگا کر مطلوبہ رقم حاصل کر لی جائے جو صرف ان اشیاء پر ہو جو بنیادی ضروریات زندگی کے زمرے میں نہیں آتیں

اوپر بیان کی گئی صورت حال پاکستان کو درپیش ہے۔ سابقہ حکومت پانچ سال کے دوران قرضے لینے کے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ پاکستان کی برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔

ان حالات میں آٹھ سے نو فیصد کی کمر توڑ شرح سود پر کم از کم 35 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لیے جا چکے ہیں۔ بھلا یہ قرضے کیسے چکتا ہونگے؟

اگلی حکومت کو عوام پر مزید اور انتہائی ظالمانہ ٹیکسز لگانے پڑینگے۔ اس سے بھی بات نہ بنی تو قومی ادارے بیچنے پڑینگے۔ وہ بھی نہ رہے تو پاکستان کی زمینیں گروی رکھی جائنگی اور بلاآخر اپنی قومی سلامتی کو بالائے طاق رکھ کر وہ سب کچھ قرض خواہوں کی نظر کرنا ہوگا جو وہ کسی اور طریقے سے وہ حاصل نہ کرسکے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے 90 فیصد سے زائد قرضے جمہوری ادوار میں لیے گئے ہیں۔ ان قرضوں کے بدلے یہ ” جمہوریت” پاکستان کو بیچنے کے درپے ہے۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here