کشن گنگا ڈیم ” پاکستان کی پیٹھ میں نواز و زرداری کا مشترکہ خنجر

0
24
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف نے نیلم جہلم ڈیم پراجیکٹ کے پاس کھڑے ہوکر کہا تھا کہ ” ہم بھارت سے بجلی خریدیں گے۔” کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ پاکستان کو اس کے لیے مجبور کر دے گا، مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے اور کیس کی مناسب پیروی نہ کرنے کی وجہ سے عالمی ثالثی عدالت نے کشن گنگا ڈیم کا فیصلہ بھارت کے حق میں کر دیا۔

کشن گنگا ڈیم پاکستان کے لیے کس قدر مہلک ہے اس کو مختصراً سمجھ لیں، اس ڈیم اور اس کے لیے تعمیر کی جانے والی ٹنل کی بدولت انڈیا دریائے نیلم کا پانی موڑنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے جس کی وجہ سے وادی نیلم کی 41000 ایکڑ زمین بنجر ہو جائے گی۔

دریائے نیلم سے یہاں کے ساڑھے چار لاکھ لوگوں کی زندگی وابستہ ہے، جو دریا کے کنارے چاول اور دیگر فصلیں کاشت کر کے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ اڑھائی سو گاؤں پر مشتمل اس پس ماندہ علاقے کا دوسرا بڑا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے؛ اس کے ذریعے سالانہ 1200 ٹن ٹراؤٹ مچھلی مقامی مارکیٹ میں پہنچتی ہے۔ یوں سمجھیں کہ مقامی لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں۔

کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کو براہ راست سالانہ 140 ملین ڈالر کا نقصان ہوگا، پاکستان کا 27 فیصد پانی کم ہوجائیگا جو پاکستان اور خاص طور پر پنجاب کے عوام کے لیے “خوشخبری ہے” اور میاں صاحب کا خاص تحفہ، نیلم جہلم ھائیڈرو پراجیکٹ کی 20 فیصد پیدوار کم ہوجائیگی اور یہ بھی امکان ہے کہ یہ منصوبہ بلکل ہی زیرو ہوجائے۔ کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے منگلا ڈیم پر بھی انتہائی برے اثرات مرتب ہوں گے۔

کشن گنا ڈیم کا منصوبہ بھارت نے 2009ء میں شروع کیا جب پیپلز پارٹی کی حکومت انڈیا کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے پر تلی ہوئی تھی۔ لیکن پاکستان کو بہرحال اعتراض تو دائر کرنا تھا لہذا معاملہ جماعت علی شاہ جیسے نااہل اور کرپٹ کو سونپا گیا۔ یوں تمام سائنسی اور زمینی حقائق کے مطابق یہ کیس مکمل طور پر پاکستان کے حق ہونے کے باؤجود پاکستان اپنا موقف واضح طور پر پیش کرنے میں ناکام رہا۔

60 ارب روپے کے خطیر سرمائے سے دریائے نیلم پر تعمیر ہونے والا کشن گنگا ڈیم بھارت 330 میگاواٹ بجلی بھی فراہم کرے گا۔ پراجیکٹ میں 37 میٹر لمبا ڈیم شامل ہے جس کے ساتھ ساتھ 29 کلومیٹر کی ایک طویل ٹنل کے ذریعے ڈیم سے پانی کو موڑ کر ’ولر جھیل‘ میں ڈال دیا جائے گا۔ دریا کے قدرتی بہاؤ کو تبدیل کرنے کی وجہ سے اب یہ دریا وادی نیلم میں نہیں بہے گا۔

پیپلز پارٹی کے بعد نواز شریف نے بھی کشن گنگا ڈیم کے خلاف سنجیدگی سے کچھ کرنے کے بجائے انڈیا سے ہی بجلی خریدنے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا۔ یعنی انڈیا ہمارا پانی چوری کر کے اس سے بجلی بنا کر ہمیں ہی بیچتا، لیکن عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے نہایت بے دلی سے کشن گنگا ڈیم کے خلاف کیس لڑا جاتا رہا جس کے اخراجات البتہ دھڑا دھڑ قومی خزانے سے وصول کیے جاتے رہے۔

اس مقدمے میں پاکستان نے مجموعی طور پر 57 کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ کیے؛ جس میں سے عالمی عدالت جانے والے وفد نے 32 کروڑ روپے ہوائی سفر، سکونت، فیسوں اور کھانوں پر خرچ کر دیے؛ جب کہ غیر ملکی وکیل کو 450 پاونڈ فی گھنٹہ ادا کیے گئے، پروفیسر وان لو کو وکالت کے لیے 750 ڈالر فی گھنٹہ کی ادائیگی کی گئی، جب کہ سینئر مقامی وکلا کو 475 اور جونیئر وکلا کو 300 ڈالر فی گھنٹہ دیے گئے۔

اگر ہمارا نیلم جہلم ھائیڈرو پاور کا منصوبہ بروقت مکمل ہوتا تو ہم ہندوستان کو نیلم کا پانی وولر جھیل میں منتقل کرنے سے روک سکتے تھے۔ لیکن نیلم جہلم جس طرح ہماری سیاسی بدمعاشیہ کی مجرمانہ غفلت کا شکار ہوا وہ خون جلانے والی ایک الگ کہانی ہے،15 ارب روپے سے شروع ہونے والا منصوبہ 500 ارب روپے میں جاکر مکمل ہوا۔ مشرف کے دور میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ 2008ء میں مکمل ہونا تھا جو اب جاکر 2018ء میں جزوی طور پر آپریشنل ہوا۔

نیلم جہلم وہی پراجیکٹ ہے جس کے لیے ملک بھر کے بجلی صارفین گزشتہ دس سال سے این جے سرچارج کی صورت میں 10 پیسے فی یونٹ کی ادائیگی کر رہے ہیں، اس منصوبے کے ساتھ ایسی کاریگری دکھائی گئی کہ نیلم جہلم ھائیڈرو پاور پراجیکٹ دنیا بھر میں سب سے زیادہ مہنگی بجلی بنانے والا ھائیڈل منصوبہ بن گیا۔ نیلم جہلم کی فی یونٹ بجلی 13 روپے میں پڑ رہی ہے۔

نیلم جہلم ھائیڈرو پراجیکٹ میں بھی اب تک کھربوں کی کرپشن کی جا چکی ہے۔ اس منصوبے کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ کی ایک جھلک آپ کو دکھاتے ہیں، 2005 کے زلزلے کے بعد جاپان کی ترقیاتی ایجنسی جائیکا سمیت دیگر اداروں نے زلزلہ زدہ علاقوں میں موجود پتھر اور بجری کو تعمیرات کے لیے ناقص قرار دیتے ہوئے لارنس پور کی ریت اور مارگلہ کی کرش کو تعمیرات کے لیے لازم قرار دیا۔

نیلم جہلم پاور پراجیکٹ پر بھی ابتدائی ماہ و سال میں یہی ریت اور کرش استعمال ہوتی رہی۔ ماہرین کے مطابق مظفرآباد اور ملحقہ علاقوں میں موجود پتھر سیم جذب کرتے ہیں، جس کی وجہ سے محکمہءِ تعمیراتِ عامہ آزاد کشمیر اپنے ہر ٹینڈر میں لارنس پور کی ریت اور مارگلہ کی کرش کو ناگزیر قرار دے رہا ہے۔

مگر مقامی لوگوں سے بات چیت اور سائٹ پر خود جا کر دیکھنے پر معلوم ہوا کہ واپڈا اور کنسلٹنٹ فرموں نے چینی کمپنیوں کو مقامی پتھر کی استعمال کی نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر اجازت دے رکھی ہے۔ مارگلہ سے ریت کا ڈمپر 60 ہزار روپے اور کرش کا ڈمپر 40 ہزار روپے میں مظفرآباد پہنچتا ہے، جبکہ مقامی پتھر کا ڈمپر صرف 700 روپے میں سائٹ پر پہنچ رہا ہے جس سے کرش اور ریت بنائی جا رہی ہے، جو 5 سے 6 ہزار روپے میں فی ڈمپر تیار ہوتی ہے۔

معمولی سی چھت میں جو ریت اور کرش استعمال نہیں کی جا رہی، وہ اربوں روپے کے پراجیکٹ میں دھڑلے سے استعمال ہو رہی ہے۔ اگر یہ منصوبہ تکمیل کے چند برس بعد ہی رسنے لگ گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ نیلم جہلم اور کشن گنگا ڈیم کے سارے معاملے کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہمارے اصل دشمن ہمارے حکمران ہیں جن کی نااہلی اور غداری پاکستان کو بہت تیزی سے ایک خطرناک قحط یا بحران کی طرف دھیکل رہی ہے۔

پرانے وقتوں میں حملہ آور قلعے کا محاصرہ کرتے، اس کی سپلائی لائن کاٹ دیتے تھے، تا کہ محصورین تک پانی اور رسد نہ پہنچ سکے اور وہ بھوک پیاس سے تنگ آکر ہتھیار ڈال دیں، نیز وہ قلعے کے اندر غدار خرید لیتے تھے انڈیا بھی پاکستان کے ساتھ یہ تینوں کام کر رہا ہے، پاکستان کا مشرق اور مغرب کی سمت سے محاصرہ کر رہا ہے، پاکستان کا پانی روک رہا ہے، اور پاکستان میں غداروں کی ایک بڑی کھیپ خرید چکا ہے۔

پاکستان کی عوام ہی اس ساری صورت حال کی اصل ذمہ دار ہے جو اپنے دشمنوں سے بھی غافل ہے اور اپنے حکمرانوں سے بھی۔ وہ آج بھی ان کے حق میں نعرے لگا رہی ہے جو ان کو تباہی کے دھانے پر پہنچا چکے ہیں۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here