کشمیر کاز الرٹ

0
136
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر کاز الرٹ

آج پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے ایجوکیٹرز کے ریجنل ھیڈ ملتان، شہزاد حسین کے خلاف ممنوعہ کتابیں پڑھانے کے جرم میں ایف آئی آر درج کروا دی گئی. ملتان میں غداری پہ مبنی یہ کتابیں بیچنے والی چار دکانوں کے مالکان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے.
واضح رہے کہ ایجوکیٹرز سکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں پاکستان کا جو نقشہ شائع کیا جاتا تھا اس میں مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا جاتا ہے. نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ گلگت بلتستان کو بھی بھارت کا حصہ دکھایا جاتا ہے.

آئینِ پاکستان کی رو سے یہ جرم اور سنگین غداری ہے. ایجوکیٹرز سکول سسٹم ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کی نئی نسل کے دماغوں میں یہ بات بٹھا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان بھارت کا حصہ ہیں. یوں آج سے بیس سال بعد ایجوکیٹرز سکولوں میں پڑھ کے جوان ہونے والی نسل کشمیر کو بھارت کا حصہ سمجھتی اور کشمیر پہ بھارت کا حق تسلیم کر کے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کےلیے بھول جاتی

ملتان پولیس کو نسرین قصوری زوجہ خورشید قصوری (ایجوکیٹرز سکول سسٹم کی مالکہ) کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کےلیے وزارتِ داخلہ کی مدد کی ضرورت ہے. سنگین غداری کے مقدمہ سے متعلق تمام ثبوت اور شواہد پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے پاس موجود ہیں. وزارتِ داخلہ ہنگامی بنیادوں پر اس مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے ایکشن لے اور پنجاب پولیس سے اس سلسلے میں مکمل تعاون کرے

قومی سلامتی کے اداروں سے پاکستان کے عوام بھرپور اور پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں کہ کیوں 2012 سے آج تک ان سکولوں میں یہ غداری پہ مبنی مواد پڑھایا جاتا رہا. تحقیقات کی ضرورت ہے کہ بیکن ھاؤس یا ایجوکیٹرز سکول سسٹم میں کہیں بھارتی یا بیرونی فنڈنگ تو نہیں ہوتی رہی. یہ بھی جانچنے کی ضرورت ہے کہ کیوں ہر دفعہ نسرین قصوری والدین اور عوام کے مطالبات کے باوجود یہ مجرمانہ نصاب بدلنے سے قاصر رہیں


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here