کشمیر میں گڑبڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔ !

0
1196
کشمیر میں گڑبڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔ !

دو دن پہلے عرض کی تھی کہ اگر زرداری اور نواز شریف آئین میں اپنی من مانی تبدیلیاں نہ کر سکے تو پھر ان کے پاس اگلا آپشن کشمیر ہوگا۔ 

کشمیر کے حوالے سے ذرا ان واقعات پر غور فرمائیے ۔۔۔۔۔۔ 

وزیراعظم نواز شریف نے منافق اعظم فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا چیرمین برقرار رکھا۔

کشمیری مسلمانوں کے خلاف اچانک انڈین فورسز کی کاروائیوں میں تیزی آگئی۔

کشمیر کا ایشو عالمی فورمز اور پاکستانی میڈیا سے تقریباً غائب ہوگیا۔

فضل الرحمن صاحب کا متنازعہ بیان سامنے آیا کہ ” کشمیر کی آزادی پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے” ۔

اقوام متحدہ نے کشمیر کو متنازعہ مسائل کی فہرست سے نکال دیا۔ نواز شریف و فضل الرحمن خاموش رہے۔

آزاد کشمیر خاص طور پر راؤلا کوٹ میں ” پاکستان سے الگ” ہونے کی تحریک مقامی سرخوں کی سرکردگی میں سوشل میڈیا پر متحرک کی گئیں۔ پکڑے گئے تو نواز حکومت ان کو چھڑا لے گئی ( یہ وہی سرخے ہیں جو گستاخانہ پیجز اور گروپس بھی چلارہے ہیں)

حافظ سعید پر پابندی عائد کی گئی۔

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے امریکہ میں بیٹھ کر فرمایا کہ ” حافظ سعید دہشت گرد ہے اور پاکستان سے باہر بھی کاروائیاں کرتا ہے”۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے پاکستان سے الگ ہونے کا نعرہ بلند کر دیا۔

امریکہ نے حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ نواز شریف اور فضل الرحمن خاموش رہے ( یاد آیا فضل الرحمن تو خود 2002 میں کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیا تھا  )

اور کل نواز شریف کے اہم اتحادی محمود اچکزئی نے پاکستان کو کشمیر چھوڑ دینے کا مشورہ پارلیمنٹ کے فلور پر دے دیا۔ نہ نواز شریف بولا نہ فضل الرحمن۔
( اس سور کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ” آزاد کشمیر” ہے اور وہاں پاک فوج کی موجودگی صرف اسکو انڈین فورسز سے بچانے کے لیے ہے)

کشمیریوں پر ظلم بڑھا ہے تو کشمیریوں میں مزاحمت بھی بڑھی ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان پر کسی مخلص اور ہمدرد شخص کی حکومت ہوتی تو پوری دنیا میں اس ایشو کو اٹھاتا۔

نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن کو یقین ہے کہ سپریم کورٹ کی اصل طاقت پاک فوج ہے اور پاک فوج کی سب سے بڑی کمزوری ” کشمیر” ہے۔ اس لیے وہ کشمیر سے کھیلنے کی کوشش کرہے ہیں۔

آنے والے دنوں میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے پاکستان مخالف سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں اور محمود اچکزئی کے بعد پارلیمنٹ سے کچھ اور آوازیں بھی اٹھ سکتی ہیں۔ شائد کشمیر کے حوالے سے کسی بہت بڑے پالیسی شفٹ پر بات ہو۔

آزاد کشمیر کے علاوہ یہ گلگلت کو بھی الگ کرنے کی بات کرینگے جہاں سے سی پیک کا اہم ترین حصہ گزرنا ہے۔۔۔۔۔۔ 

یہ ظالم لوگ اپنے حقیر سے مفادات کے لیے پوری ریاست کو داؤ پر لگانے سے نہیں چوکتے۔

اگر ان کے ہاتھ سے لندن فلیٹس جائنگے تو تمھارے ہاتھ سے کشمیر جائیگا۔۔۔۔ !

تحریر شاہدخان

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here