کسی بھی ملک کو تباہ کرنا ہو تو فوج کیخلاف عوام

0
1041

میں اپکو
DGISI & agent
کا تعارف کرانا چاہتا ہوں۔ یہ لوگ کیسے کام کرتے ہیں ؟؟؟
یہ دشمنان اسلام کو کیسے گرفتار کرتے ہیں ؟؟؟
انکے کام کرنے کا طریقہ کار کیا ہے ؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں آپکو کوڈ ورڈ کا علم ہوجائگا۔

میں اپنی تحریر کا آغاز 1171ء سے کر رہا ہوں۔
قاہرہ میں ایک مسجد تھی، جو جمعہ پڑھنے کے لئیے نہیں بلکہ نماز پڑھنے کے لئیے تھی۔ یہ شہر کے باہر والے علاقے میں تھی، جہاں مڈل یا کم درجہ کے لوگ بسر تھے۔ مذہب کا احترام انہی لوگوں میں رہ گیا تھا۔ انکی بدنصیبی تھی کہ یہ تعلیم سے بےبہرہ تھے۔ جذباتی استدلال اور دلکش الفاظ سے فورا متاثر ہوتے اور انہیں بغیر تصدیق کے فورا قبول کر لیتے۔

صلاح الدین ایوبی نے جو نئی فوج تیار کی تھی اس میں ان کنبوں کے زیادہ افراد بھرتی کئیے۔ جس کی دو وجوہات تھیں۔

۔ 1 ذریعہ معاش ( سلطان صلاح الدین ایوبی نے فوج کی تنخواہ میں کشش پیدا کی تھی اور متعدد سہولتیں بھی تھیں۔
۔ 2 یہ لوگ جہاد کو فرض سمجھتے تھے اور اسلام کے نام پر جان اور مال قربان کرنے کو ہر وقت تیار رہتے۔

چھے سات مہینوں میں یہ گمنام سی مسجد مشہور ہو گئی۔ نیا امام عشاء کی نماز کے بعد درس دیا کرتا۔ اسی مسجد کا پہلہ امام ایسی بیماری سے مر گیا جو کسی حکیم کی سمجھ سے باہر تھی۔
دوسرا امام پہلے کسی جھونپڑی میں رہتا تھا اسکا سرخ وسفید چہرہ اور بھوری داڑھی والہ تھا۔ اسی کے کہنے پر لوگوں نے امام تسلیم کر لیا۔

امام کی دو بیویاں تھیں۔ یہ علم کا شیدائی اور اپنے آپکو مذہب کے سمندر کا غوطہ خور بتاتا تھا۔ خاطر مدارت اور نزرانہ نہیں لیتا تھا۔ اسکی ضروت صرف ایک کشادہ مکان جہاں دو بیویوں کے ساتھ پردہ کی حالت میں رہنا چاہتا تھا۔ اسی گاؤں کے لوگوں نے امام کو مسجد کے ساتھ گھر دے دیا۔ دونوں بیویاں سیاہ برقعوں میں مستور تھیں پردہ اتنا کہ ہاتھ تک نظر نہیں آتے۔

امام کی ظاہری شخصیت سے لوگ حد سے زیادہ متاثر تھے۔ اسکی آواز میں بھی جادو تھا۔

( متاثر کرنے والی آواز )
اسکی پہلی ہی آذان کی آواز جہاں جہاں تک گئی سناٹا سا چھا گیا۔ وہ لوگ بھی مسجد میں آنے لگے جنہوں نے کبھی نماز نہ پڑھی یا گھروں میں نماز پڑھتے تھے۔

چھے سے سات مہینوں میں امام کے بہت سے مرید بن گئے اتنا ہجوم گیا کہ اسی مسجد میں جمعہ کی نماز بھی پڑھی جانے لگی۔ شہر کے لوگ بھی درس سننے آتے۔

یہ امام عبادت اور محبت پر زیادہ زور دیتا۔ لڑائی جگڑے اور جنگ وجدل کے خلاف سبق دیتا۔ اس نے لوگوں کے ذہنوں میں بات بٹھا دی انسان اپنی تقدیر خود نہیں بنا سکتا۔ جو کرتا ہے خدا کرتا ہے۔
قرآن ہاتھ میں لے کر ہر بات کو کسی نہ کسی آئیت سے واضع کرتا۔ سلطان ایوبی کی بےحد تعریف کرتا۔
خاص طور پر امام نے جہاد کا فلسفہ اور مفہوم پیش کیا جو لوگوں کے لئیے نیا تھا۔ انہوں نے بلاحیل وحجت اسے تسلیم کیا۔

ایک رات عشاء کی نماز کے بعد وہ اپنا درس شروع کرنے لگا ایک ہری پٹی والے آدمی نے اٹھ کر عرض کیا۔
عالم عالی مقام !!!
خدا آپکے علم کی روشنی جنات تک اور اس مخلوق تک پہنچائے جو ہمیں نظر نہیں آتے۔
گستاخی معاف ہو !!!
ہمیں جہاد کے متعلق سمجھائیں لوگوں نے بتایا ہے ہمیں جہاد کے بارے میں غلط بتایا جاتا رہا۔ دیگر لوگوں نے بھی زور دیا جہاد کا سمجھائیں۔

عالم نے کہا، یہ قرآن کی آواز ہے جسے کوئی نہیں بگاڑ سکتا۔ جہاد کا مطلب یہ نہیں دوسروں کی زمین پر قبضہ کرنے کی خاطر گردنیں کاٹو۔ جہاد کا مطلب قتل وغارت نہیں۔ امام نے ایک آئیت کی تفسیر یوں بیان کی۔
یہ علم میرا نہیں، خدا کا فرمان ہے تم گناہ اور بدی کے خلاف لڑتے ہو اسے جہاد کہتے ہیں۔
کیا تم نے نہیں سُنا اسلام تلوار کے زور سے نہیں پیار کے زور سے پھیلا ہے۔
یہ بادشاہوں نے جہاد کی شکل تبدیل کی ہے۔ عیسائی بھی دوسروں کے ملکوں کو اپنی سلطنت بنانے کے لئیے جنگ وجدل کو مقدس کہتے ہیں۔
مسلمان بھی اسی ارادے کو جہاد کہتے ہیں۔

اس آدمی ( ہری پٹی والہ ) نے سوال کیا جس نے جہاد کا صحیح معنی سمجھنے کے لئیے سوال پوچھا تھا۔
تو کیا صلاح الدین ایوبی ہمیں گمراہ کرکے لڑا رہا ہے ؟؟؟

عالم نے جواب دیا، نہیں سلطان ایوبی پر اللہ کی رحمت ہو۔ اسے اسکے بڑوں نے جو بتایا وہ سچے مسلمان کی حثیت سے اس پر عمل کر رہا ہے۔ سلطان ایوبی کے دل میں عیسائیوں کی نفرت ڈالی گئی ہے۔
ذرا غور کرو !!!
عیسائی اور مسلمان میں کیا فرق ہے ؟؟؟
دونوں کا نبی مشترک ہے آگے اختلاف پیدا ہوا ہے۔ حضرت عیسی علیہ اسلام محبت اور امن کا پیغام لائے تھے۔ جبکہ آپ ﷺ محبت کا پیغام دے گئے۔ پھر تلوار کہاں سے آئی؟؟؟
بادشاہ اپنے غلام بنانے کی خاطر ایسا کرتے ہیں اور جہاد کا نام دیتے۔
میں سلطان ایوبی کے ہاں حاضر ہوکر جہاد کا صحیح معنی سمجھاؤں گا۔

سلطان ایوبی نے صحیح جہاد شروع کر رکھا ہے۔ جو جہالت اور بےعلمی کے خلاف ہے۔ اس نے خطبے سے خلیفہ کا نام نکال کر بہت بڑا جہاد کیا ہے۔ مدرسے کھول کر جہاد کیا، لیکن
مدرسوں میں یہ خرابی ہے۔ جہاں مذہب اور معاشرت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہاں عسکری تربیت بھی دی جاتی ہے۔ بچوں کو خدا کے نام پر غارت گری کے سبق دئیے جاتے ہیں۔ انہیں تیغ زنی اور تیر اندازی بھی سکھائی جاتی ہے۔ جب تم اپنے بچوں کو تلوار اور تیر کمان دوگے تو انہیں یہ بھی بتاؤ گے ان سے وہ کنہیں ہلاک کریں۔ ظاہر ہے تم بچوں کو انسان ہی دکھاؤ گے اور کہو گے یہ تمہارے دشمن ہیں انہیں ہلاک کرنا ہے۔

سُننے والے مسحور ہوتے جا رہے تھے۔
امام نے کہا اپنے بچوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ انکے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ گے کیونکہ تم بچوں کو غلط راستے پر ڈال رہے ہو۔ تمہیں جنت میں اپنے بادشاہ اور فوجیوں کے سالار نہیں لے جائیں گے !!!

ایک نقطہ اور سمجھ لو۔
تم زکوة بیت المال کو دیتے ہو بیت المال حاکم کا ہوتا ہے۔ زکوة غریبوں اور ناداروں کا حق ہے۔
حاکم غریب اور نادار نہیں ہوتے !!!
تمہاری زکوة سے جنگ کا سامان خرید کر قتل کئیے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے تم جہنم میں جاؤ گے۔

عالم نے موضوع بدلہ اور کہا۔
بہت سی باتیں عام ذہن کے انسانوں کو سمجھ میں نہیں آتی۔
کیا تم نہیں دیکھتے ؟؟؟
تمہارے اندر ایک حیوانی جذبہ ہے۔
کیا تم عورت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ؟؟؟
کیا یہی جذبہ نہیں جو تمہیں بدکاری کے اڈوں پر لے جاتا ہے ؟؟؟
یہ جذبہ خدا نے پیدا کیا ہے کسی انسان کا پیدا کردہ نہیں ہے !!!
تم اسکی تسکین کر سکتے ہو !!!
اسی لئیے خدا نے تمہیں حکم دیا ہے کہ چار بیویاں رکھو !!!
اگر تم غریب ہو تو
ایک بیوی بھی نہیں لاسکتے کسی عورت کو اجرت دیکر اس حیوانی جزبے کی تسکین کر سکتے ہو۔ جو تم میں خدا نے پیدا کیا ہے۔ انسان اسی جذبے کی پیداوار ہے۔ مگر بدی سے بچو
ایک ایک، دو دو، تین تین، چار چار، بیویاں گھر میں رکھو۔ بیویوں اور بیٹیوں کو گھر میں چھپا کر رکھو !!!

میں دیکھ رہا ہوں جوان لڑکیوں کو بھی عسکری تربیت دی جا رہی ہے۔ انہیں بھی گھوڑ سواری، اور شتر سواری سکھائی جا رہی ہے۔ تاکہ وہ میدان جنگ کے زخمیوں کو سنبھالیں۔ اگر ضروت پڑھے تو لڑیں بھی۔ یہ بدعت ہے۔ اپنی لڑکیوں کو اس بدعت سے بچاؤ۔ الخ

درس کے بعد صرف دو آدمی عالم کے پاس رہ گئے تھے۔
ایک وہ تھا جس نے جہاد کو سمجھنا چاہا ( ہری پاتی والہ۔ دوسرا ہری پٹی والے کا دوست تھا ) -اور انکے ساتھ باقی کے چھے آدمی جہاد کا درس لینے آئے تھے۔

عالم اور ہری پٹی والے کے درمیان سوال جواب کے بعد

غور کریں ان الفظ پر

عالم نے باہر دیکھا اور بے توجھی کے ساتھ بولہ۔
معلوم نہیں موسم کیسا رہیگا ؟؟؟
بارش ہوگی ہری پٹی والے نے جواب دیا۔

عالم نے کہا آسمان بلکل صاف ہے۔
ہم گھٹائیں لائیں گے۔ ہری پٹی والے نے جواب دیا اور دوست کے ساتھ مل کر قہقہ لگایا۔

عالم مسکرایا اور رازداری سے بولہ کہاں سے آئے ہو ؟؟؟
ایک مہنیے سے ہم سکندریا میں تھے۔ اس سے پہلے شوبک میں تھے۔ ہری پٹی والے نے جواب دیا۔

مسلمان ہو ؟؟؟
ہری پٹی والے نے کہا، فدائی ہوں۔ ابھی مسلمان ہی سمجھو
اور اپنے ساتھی کے ساتھ بڑی زور سے ہنسا۔

میں آپکو اس فن کا استاد مانتا ہوں۔ دوسرے نے عالم سے کہا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا یہ آپ ہیں !!!
آپ ناکام نہیں ہوسکتے۔

عالم نے جواب دیا کامیابی آسان بھی نہیں ہے۔
صلاح الدین ایوبی کو تم نہیں جانتے
بیشک میں نے مسلمانوں کے اندر جہاد اور جنس کے متعلق اسلامی نظریات کے خلاف شکوک پیدا کر دئیے ہیں۔
لیکن سلطان ایوبی نے جو مدرسے کھولے ہیں وہ شائد ہمیں آسانی سے کامیاب نہ ہونے دیں۔

عالم نے پوچھا تم نے مجھے کیوں کہا جہاد پر درس دوں ؟؟؟
ہری پٹی والے نے جواب دیا۔
آپکی سب سے بڑی نشانی یہی ہے۔ جہاد کے بعد جنس کا ذکر کریں گے۔ ہمیں شوبک میں بتایا گیا تھا۔

عالم نے پوچھا میرا نام کیا ہے ؟؟؟
ہری پٹی والے نے کہا ہمارا امتحان لینا چاہتے ہو ؟؟؟
عالم نے کہا کس لئیے آئے ہو ؟؟؟
ہری پٹی والے نے جوابا پوچھا فدائی کس لئیے آیا کرتے ہیں ؟؟؟

عالم نے پھر پوچھا تمہیں میرے پاس کس لئیے بیجا گیا ہے ؟؟؟

ہری پٹی والے جواب دیا۔
ایک اونٹنی کے لئیے۔ اس آدمی نے جواب دیا آپ کے پاس دو ہیں۔

ہمیں آپکے پاس نہ بیجا جاتا مگر آپکو اطلاع مل گئی ہوگی۔ سلطان ایوبی کے ایک نائب سالار رجب سوڈانی کے ساتھ شوبک سے تین اونٹنیاں روانہ کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک ہمارے مقصد کے لئیے تھی۔ معلوم نہیں کیا ہوا !!!
تینوں ماری گئیں۔
رجب کی کھوپڑی اور ایک سب سے زیادہ خوبصورت اونٹنی سلطان ایوبی کے پاس پہنچ گئی تھی۔ وہ بھی ختم ہوگئی۔

عالم نے آہ بھر کر جواب دیا۔ ہاں۔ ہمیں بہت بڑا نقصان ہوا۔
سلطان ایوبی کا بڑا کارآمد سالار ہمارے قبضے میں تھا جلاد کی نظر ہوگیا۔
اندر چلو یہ جگہ درست نہیں۔

وہ دونوں عالم کے ساتھ اٹھے باہر نکل گئے۔ باقی چھے آدمی وہ اندھیرے میں بکھر گئے۔

عالم کا گھر صاف ستھرا، کئی کمرے، دو تین کمروں سے گزر کر ایسے کمرے میں چلے گئے
جو زمین پر ہی تھا پر زیر زمین معلوم ہوتا۔
کمرے کے سامنے کوڑا پڑھا تھا تالہ لگا تھا منظر ایسا تھا جیسے برسوں سے بند ہو اور بند ہی رہیگا۔ ایک طرف کھڑکی تھی اسے ہاتھ لگایا وہ کھل گئی۔ عالم اندر گیا اسکے ساتھ دونوں آدمی چلے گئے۔ کمرہ خوب سجا تھا۔

دیوار کے ساتھ سنہری صلیب لٹک رہی تھی۔ اسکے ایک طرف حضرت عیسی علیہ اسلام کی دستی تصویر اور دوسری طرف مریم علیھا اسلام کی تصویر تھی۔
یہ میرا گرجا اور پناہ گاہ بھی۔

ہری پٹی والے نے ہوچھا۔ خطرے کی صورت میں آپکے پاس کیا انتظام ہیں ؟؟؟
اور مشورہ دیا !!!
آپکو صلیب اور تصویریں اسطرح نہیں رکھنی چائیے !!!

عالم نے جواب دیا۔
یہاں کسی کے آنے کا خطرہ نہیں۔ مسلمان بڑی سیدھی قوم ہے۔ ہاتھ پر قرآن رکھ کر جھوٹ بھی بولو اندھا یقین کریں گے اور جنس انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ آہستہ آہستہ بدکاری کی طرف راغب کر رہا ہوں۔
یہ باتیں بعد میں بھی کر لیں گے۔ دونوں اونٹنیاں دیکھا دیں۔ اور
بتائیں ہمیں کس وقت اور کسطرح پناہ مل سکتی ہے ؟؟؟
یہاں مزید کوئی ہمارا آدمی ہے کیا ؟؟؟

عالم نے جواب دیا یہاں کوئی نہیں میرے اعلاوہ۔
امام اور ہری پٹی والے کے درمیان کوئی شق نہیں رہا تھا
ایک دوسرے کو کوڈ ورڈ سے پہچھان چکے تھے۔

عالم کمرے نکل سے گیا واپس آیا تو خوبصورت جوان لڑکیاں ساتھ تھیں۔ انہی کو لوگوں کے سامنے اپنی بیویاں بتایا تھا جو برقعہ میں تھیں۔ یہاں بے پردہ آئیں۔

عالم نے الماری سے شراب نکالی۔ ایک لڑکی گلاس لے آئی شراب گلاس میں ڈالی گئی۔
دونوں آدمیوں نے شراب نہ پی۔
ہری پٹی والے نے جواب دیا۔
پہلے کام کی باتیں کر لیں۔ ہمیں دو آدمیوں کو قتل کرنا ہے۔

دوسرے نے کہا۔
پہلہ سلطان ایوبی اور دوسرے علی بن سفیان کو۔
ہماری مجبوری ہے ہم نے دونوں کو نہیں دیکھا۔ عالم صاحب کیا آپ جانتے ہیں ؟؟؟

عالم نے جواب دیا۔ دونوں کو اندھیرے میں بھی پہچھان سکتا ہوں۔ الخ

ہری پٹی والے نے اپنا ماسک اتارا
اور عالم دیکھتا ہی رہ گیا۔
عالم بولہ
صلاح الدین ایوبی ؟؟؟
ہاں دوست اتنا جواب ملہ سلطان کی طرف سے۔

سلطان ایوبی نے اپنے دوسرے ساتھی کا ماسک اتارا
عالم بولہ
علی بن سفیان ؟؟؟

عالم اور دونوں لڑکیوں کو گرفتار کرلیا۔ پھر سرکاری ملازمین عوام کو بتاتے امام کیا تھا۔

نوٹ !!!

جب صلاح الدین ایوبی کو علم ہوا، شھر کے باھر ایک چھوٹی مسجد میں جہاں جمعہ نہیں بلکہ صرف نماز پڑھائی جاتی تھی وہاں ایک عالم دین جہاد کو غلط بیان کررہا ہے اور فحاشی کو فروغ دے رہا ہے۔ اس علاقے میں تعلیم کی کمی کیساتھ دیگر مسائل کا سامنا تھا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنا جاسوس بیجا اس عالم کی گفتگو سنتے رہے بعد میں سلطان ایوبی خود بھی جہاد کا درس سننے آئے جنس کے متعلق سن کے سلطان ایوبی حیران رہ گئے۔

پہلہ امام کیوں فوت ہوا ؟؟؟
لوگوں نے کہا نیا امام پرانے امام کی خدمت کرتا اور کھانا بھی کھلاتا تھا۔
عالم دین کے گھر سے اسلحہ کے ساتھ زہر بھی ملہ، جو کسی جانور کو کھلایا تو وہ تین دن تک بیمار رہ کر مر گیا۔
عالم دین موجودہ فلسطین سے آیا تو موجودہ مصر میں جھونپڑی میں ٹھرا، عالم دین نے پہلے امام کو زہر دیکر شہید کیا بعد میں امامت سنبھال لی۔

کوڈ ورڈ
موسم کیسا ہے ؟؟؟
بارش آئگی الخ
یہ صلیبیوں کے اعلی درجے کے جاسوس ایک دوسرے کو پہچھاننے کے لئیے کوڈ ورڈ تھے۔
یہ جملہ اس لئیے بولتے، تاکہ اگر کوئی سن رہا ہو تو اسے معلوم ہو یہ گپ شپ ہورہی ہے۔
اونٹنی سے مراد نوجوان لڑکیاں لیتے تھے۔
مطلب
کس کی طرف کتنی اونٹنیاں مطلب لڑکیاں بیجیں ؟؟؟

آج بھی وہی طریقہ استعمال کیا جارہا ہے

تحریر پاکستانی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here