کراچی کچرا، ماسٹر پلان ۔۔۔۔۔۔ !

0
1285

کراچی کچرا، ماسٹر پلان ۔۔۔۔۔۔ !

سویڈن غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جو کچرا ادرآمد کرتا ہے ۔۔۔۔ 

اس کی وجہ وہاں کچرے کو اکھٹا کرنے اور ٹھکانے لگانے کا بہترین نظام ہے۔ وہاں کی خاص بات یہ ہے کہ آپ ہر قسم کا کچرا ایک ہی ڈبے میں نہیں پھینک سکتے ورنہ جرمانے اور سزا کے لیے تیار رہیں۔ 

کراچی میں کچرے نے پورے نکاسی کے سسٹم کو بلاک کیا ہوا ہے جس کے نتیجے میں بارشوں کے بعد اس وقت پورا کراچی ایک تعفن انگیز تالاب کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں روزانہ 20 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جس میں صرف 2 ہزار ٹن ٹھکانے لگایا جاتا ہے باقی 18 ہزار ٹن نکاسی آب کے لیے بنائی جانے والی نالیوں اور جگہ جگہ ڈھیروں کی صورت میں مسلسل جمع ہوتا جا رہا ہے جو اب 11 لاکھ ٹن ہوچکا ہے۔

پہلے تو مجھے یہ سرکاری اعداد شمار ہی مشکوک نظر آرہے ہیں میں آپ کے سامنے اپنا ایک اندازہ پیش کرتا ہوں۔

حالیہ مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے۔ یعنی تقریباً 25 لاکھ گھر ہونے چاہئیں۔ اگر ہر گھر روزانہ 2 کلو کچرا پیدا کرے تو یہ یومیہ 50 لاکھ کلو ہوگیا جو 5000 ٹن بنتا ہے۔

اب آتے ہیں پلان پر ۔۔۔۔۔

کراچی میں ہر گھر کو گھٹیا کوالٹی کے پلاسٹک سے بنے تین تین ڈبے دئیے جائیں۔ یہ ڈبے فیکٹری میں 50 روپے فی ڈبہ باآسانی تیار کروائے جا سکتے ہیں۔

25 لاکھ گھروں کے حساب سے 75 لاکھ ڈبے۔ جنکو اگر پچاس سے ضرب دی جائے تو یہ بنتے ہیں ساڑے 37 کروڑ روپے۔

ڈبوں کو تین مختلف کچروں کے لیے مخصوص کیا جائے۔ ہر ڈبے پر تصاویر سے واضح ہو کہ اس میں کونسا کچرا ڈالنا ہے۔

ایک میں صرف سالن یا ایسی چیزی ڈالی جائیں جن کو ہم نامیاتی کچرا کہتے ہیں۔ نامیاتی کچرا پلاسٹک کے تھیلوں میں وصول کیا جائے۔ جس کو وصول کرنے والے بندہ اسکی مخصوص گاڑی میں ڈالنے کے لیے تھیلے سے نکال لے اور تھیلے کو پلاسٹک والے کچرے میں شامل کرے۔

دوسرے میں وہ کچرا ڈالا جائے جس کو جلایا جا سکتا ہے جیسے پلاسٹک اور کاغذ وغیرہ۔

اور تیسرے میں لوہا اور شیشہ وغیرہ۔

ان اضافی اخراجات کے لیے ہر گھر کو 100 روپے ماہانہ ادا کرنے کا پابند کیا جائے جو گیس کے بل میں وصول کیا جائے۔ ( کیونکہ بجلی پر کراچی والے کنڈے ڈال لیتے ہیں  )

غلط ڈبے میں کچرا ڈالنے پر بغیر کسی رعایت کے 100 روپے جرمانہ جو گیس ہی کے بل میں وصول کیا جائے جہاں باقاعدہ میشن ہوں کہ آپ نے کیا غلطی کی ہے۔

اس سے ماہانہ 25 کروڑ روپے حاصل ہونگے جو ان اضافی اخراجات یا عملے کے لیے کافی رہینگۓ۔

کراچی کی جو اتنظامیہ ان کو اکھٹا کرتی ہے وہ اس بات کا دھیان رکھے کہ ان کو الگ الگ اکھٹا کیا جائے اور ہر کچرے کے لیے الگ گاڑی مخصوص کی جائے۔

آپ کو نئی گاڑیاں نہیں خریدنی پڑیں گی کیونکہ کل کچرا تو اتنا ہی رہے گا۔
(گاڑیوں کا ذکر آخری میں دوبارہ کریںگے)

نامیاتی کچرے کو چاہے تو پراسیس کریں چاہے پراسیس کیے بغیر کھیتوں میں ڈالیں۔ یہ بہت اچھی کھاد کے طور پر استعمال ہو سکتاہے۔

جلائے جانے کے قابل کچرے کو جلا کر بجلی بنائیں۔ ایک اندازہ ہے کراچی میں روزانہ جتنا کچرا پیدا ہوتا ہے اس سے 1000 میگاواٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے جبکہ کراچی کی کل ضرورت 2000 میگاواٹ کے قریب ہے۔ یعنی کچرے کی مدد سے ہی کراچی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائیگی۔

شیشے اور لوہے نما چیزیں ماحول کے لیے نقصان دہ نہیں۔ یہ کچرا نسبتاً کم ہی اکھٹا ہوگا اور اس میں سے دھاتوں کو چھان کر باقی کو ٹھکانے لگانا کوئی مسئلہ نہیں۔

اگر کراچی میں کچرا اٹھانے والی جدید گاڑیاں کم ہیں تو کراچی باآسانی 1000 نئی گاڑیاں خرید سکتا ہے۔ جن میں سے ہر گاڑی اگر دن میں دو پھیرے بھی لگائے تو 10 ہزار ٹن کچرا یومیہ اٹھا سکتی ہیں اور میرے حساب سے کراچی میں اس سے کم کچرا پیدا ہوتا ہے۔

ایک کروڑ روپے کے حساب سے 1000 گاڑیوں کی قیمت بنی ہے 10 ارب روپے۔
10 ارب یہ اور ساڑے 37 کروڑ ڈبوں کے۔

یہ پیسے کہاں سے آئینگے؟؟

اس سال صرف کراچی کا بجٹ 71 ارب روپے منظور کیا گیا ہے۔
صرف چند دن پہلے وزیراعظم نے کراچی کے لیے مزید 25 ارب روپے کا پیکج منظور کیا۔
کچھ دن پہلے ملک ریاض نے کراچی کا کچرا اٹھانے کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا۔

پیسوں کی کوئی کمی نہیں۔ نیت ہونی چاہئے ۔۔۔۔ 

میری رائے میں جمع شدہ کچرے کو ٹھکانے لگانے سے پہلے پیدا ہونے والے کچرے کو سمیٹنے کا مربوط نظام وضع کیا جائے ورنہ پرانا کچرا ٹھانا کسی بھی صورت ممکن نہیں ہوگا۔

لیکن یہ سب جھاڑو اٹھا کر کیمروں کے سامنے ڈرامے بازی کرنے اور بیانات دینے سے نہیں ہوگا بلکہ عملی کام کرنے سے ہوگا!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here