کبھی ملا ہے کوئی کسی جن سے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟

0
696

” جن ” کے ہونٹوں پہ ہنسی ۔۔۔۔۔۔ 🙂

جنات دیکھے تو نہیں لیکن محسوس کیے ہیں کئی بار ۔۔۔۔۔

مجھے یقین ہے کہ انسان کے مقابلے میں کمزور مخلوق ہے۔ عقائد اور زبانوں سمیت کئی چیزوں میں انسانوں کی پیروی کرتے ہیں۔

انسانوں میں سیرائیت کر سکتے ہیں جیسا کہ شیطان کرتا ہے۔

فاصلے ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ کسی انسان پر حاوی ہوجائیں تو اسکی کیفیات سے باخبر ہوجاتے ہیں اور شدید جذباتی کیفیات میں فوراً پہنچتے ہیں۔ وہ انسان نہ صرف خود سے بے خبر ہوجاتا ہے بلکہ اکثر حیران کن باتیں یا حرکات بھی کرنے لگتا ہے۔

اسکو ہیسٹریا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

غیر مسلم جنات اذان کی آواز سے دور بھاگتے ہیں۔ اگر کسی پر حاوی ہوں تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھیں۔ اسی لمحے ٹھیک ہوجائیگا۔ بلکہ سلیپ پیرالسز کی کیفیت میں بھی کبھی دل میں اذان پڑھ کر دیکھیں۔ ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ 🙂

جنات اس انسان کو تنگ کرنے لگتے ہیں جن کے بارے میں انہیں شبہ ہو کہ ان کو دیکھ سکتا ہے یا محسوس کر سکتا ہے۔ انہیں غالباً ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسا ہمیں تب ہوتا ہے جب کوئی ہماری پرائیویسی میں جھانک رہا ہو۔

انسانوں کے ہاتھوں ان کو نقصانات بھی پہنچتے ہیں بلکہ انکی اموات بھی ہوجاتی ہیں جسکا وہ انتقام بھی لیتے ہیں۔

غیر معمولی کام کر سکتے ہیں۔ مثلاً کسی دور میں نوادارت کے ایک سمگلر نے مجھے ایسے پتھر دکھائے جن میں شفاف ٹیڑھے سوراخ تھے۔ اس نے کہا تھا کہ یہ سلیمان (ع) کے دور کی کرنسی ہے۔ یہ سوراخ جنات کرتے تھے اور انکو کاپی کرنا آج بھی ناممکن ہے۔

کم از کم دو لوگوں کوجانتا ہوں جنکا دعوی ہے کہ انہوں نے جنات کو انکی اصل شکل میں دیکھ رکھا ہے۔

ایک بہت بڈھا بابا جی اور ایک تبلیغی جماعت کا ایک امیر۔ جس نے اس ھال کے قریب دیکھنے کا دعوی کیا تھا جہاں سے کسی دور میں مولانا جمشید صاحب جنات کی جماعتوں کی تشکیل کیا کرتے تھے۔

دونوں سے اسکی شکل سن کر میں نے انہیں کاغذ پر اوپر ایلین کی تصویر سے ملتا جلتا خاکہ بنا کر دیا تو دونوں نے کہا کہ ” ہاں تقریباً ایسی ہی شکل تھی ” ۔۔۔۔ 🙂

کبھی ملا ہے کوئی کسی جن سے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ 🙂

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here