کالا باغ ڈیم ایک قدرتی تحفہ کالا باغ ڈیم اللہ کا انعام تھا ، ہم نے سنجیدہ بحث کیے بغیر اسے متنازعہ بنا دیا۔ ذرا اس ڈیم کی سکیم سمجھیے۔۔

کالام سے دریائے سوات نکلتا ہے جو سارا سال بہتا ہے۔ نوشہرہ پہنچ کر یہ افغانستان سے آنے والے دریائے کابل میں شامل ہو جاتا ہے، اٹک میں یہ دونوں دریا ، دریائے سندھ میں مل جاتے ہیں ۔ اٹک سے کالاباغ تک پانی کو ذخیرہ کرنے کی کوئی جگہ نہیں۔ کالاباغ ایک قدرتی ڈیم ہے۔ یوں سمجھیے بنا بنایا ڈیم ہے۔ اسی لیے لاگت کم آئے گی اور محض چار سال کی مدت میں مکمل ہو سکتا ہے۔

اب ذرا اس کے فوائد دیکھیے۔
اس سے 3600 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی ۔
فی یونٹ بجلی کی قیمت ڈھائی روپیہ تک آ جائے گی ۔
اس ڈیم کے بھر جانے کی صورت میں کے پی کے کی 7 لاکھ ایکڑ اراضی اراضی سیراب ہو گی۔
سندھ کی تو دس لاکھ ایکڑ اراضی اس سے سیراب ہو سکے گی۔ کیا یہ معمولی فوائد ہیں۔۔۔؟؟؟

کالا باغ ڈیم، فوائد اور اعتراضات حصہ اؤل

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ کچھ این جی اوز غلط اعداد وشمار سے اسے متنازعہ بنا دیتی ہیں اور کچھ قوم پرست سیاستدان اس کی مخالفت میں مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں یا یہ پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا ایک پہلو ہے؟

جس ڈیم سے آپ کا توانائی کا بحران ختم ہو سکتا ہے اور آپ کی سترہ لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو سکتی ہے اس ڈیم کو سنجیدہ بحث کے بغیر ہی متنازعہ بنا دیا گیا ۔ ذرا ان اعتراضات کا جائزہ تو لیجیے۔کہتے ہیں نوشہرہ ڈوب جائے گا ۔ یہ جھوٹ اس شدت سے پھیلایا گیا ہے کہ کوئی دوسری بات سننے کو تیار نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم نوشہرہ سے 110 کلومیٹر دور ہے اور نشیب میں ہے ۔ اگر یہ ڈیم بھر بھی جائے تب بھی نوشہرہ اس سے 60 فٹ اونچائی پر ہو گا ۔ تو وہ ڈوب کیسے جائے گا؟

سندھ کی بھی سن لیجیے۔
سادہ اور نیم خواندہ عوام کو خوف دلایا گیا ہے کہ اگر ڈیم بن گیا تو سمندر میں گرنے والا پانی کم ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں سمندر کا پانی آپ کے علاقے میں گھس آئے گا ۔ جس صوبے میں آج تک بھٹو زندہ ہے وہاں یہ کہانی گھڑ کر بیچ لینا اتنی مشکل بات بھی نہیں لیکن حقائق اس کے بر عکس ہیں ۔
حقائق یہ ہیں کہ ہمارا 90 فیصد پانی سمندر میں ضائع ہوتا ہے ، سمندر میں گرنے والا پانی اگر پچاس فیصد کم بھی ہو جائے تو یہ عالمی معیار کے مطابق ہو گا اور کالاباغ ڈیم نے سارا پانی تو نہیں روک لینا۔ سمندر میں ایک معقول حد تک تو پانی بھر بھی گرتا رہے گا۔ ویسے بھی سندھ اور کراچی سمندر سے7 میٹر اونچائی پر واقع ہیں ۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ سمندر کا پانی کراچی میں گھس آئے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کالاباغ ڈیم بننے سے سندھ کی دس لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو گی تو سندھ کا ہاری خو شحال ہو کر زندہ ہو سکتا ہے۔شاید یہ قبول نہیں ۔
شاید طے کر لیا گیا ہے کہ سندھ میں صرف بھٹو زندہ رہے گا کوئی غریب ہاری زندہ نہیں رہ سکتا۔

بعض قوتیں ٹھان چکی ہیں کہ پاکستان کو کالاباغ ڈیم بنانے سے روکنا ہے۔ یہ ڈیم پاکستان کو ایک روشن دور میں داخل کر سکتا ہے۔
چنانچہ اس کے خلاف ایک جذباتی ماحول بنا دیا گیا ہے۔ دیا میر بھاشا ڈیم کو کالاباغ ڈیم کا متبادل بنا کر پیش کرنا بھی اسی مزاحمتی بیانیے کا ایک حصہ ہے ۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ دونوں میں کوئی تقابل ہی نہیں۔
کالاباغ ڈیم آپ کی سترہ لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرے گا اور دیامر بھاشا ڈیم سے تو ڈھنگ کی دو نہریں نہیں نکل سکتیں کیونکہ وہ پہاڑی علاقہ میں واقع ہے۔ نکل بھی آئیں تو کس کام کی۔۔۔؟
جغرافیائی سمجھ بوجھ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
تاہم فی الوقت قوم کو چاہیے کہ اس جھوٹے اور دیرینہ سیاسی پراپیگنڈے کو سمجھے اور ہر فورم پر ناکام بنائے۔۔۔۔ اور ایک بہتر پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے۔۔۔
ورنہ ایک بدترین قحط اور بحران ہمارے منتظر کھڑے ہیں۔۔۔

کالا باغ ڈیم، فوائد اور اعتراضات حصہ اؤل

محمد شاہد عنائیت

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here