کالاباغ ڈیم ہی کیوں؟

0
425

کالاباغ ڈیم ہی کیوں؟

۔ 1۔ زمینوں کی سیرابی

داسو اور بھاشا ڈیم سے کالاباغ ڈیم کی طرح چاروں صوبوں کی اضافی بنجر زمینیں سیراب نہیں ہو سکتیں۔ کالاباغ ڈیم سندھ کی 10 لاکھ ایکڑ، کے پی کے کی 8 لاکھ ایکڑ، بلوچستان کی 7 لاکھ ایکڑ اور پنجاب کی 6 لاکھ ایکڑ بنجر زمین سیراب کرے گا۔

۔ 2۔ اخراجات، وقت اور تعمیر میں مشکلات

دیا میر بھاشا اور داسو ڈیم ایک دوسرے کے قریب قریب سنگلاخ پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں۔ جہاں تعمیری لاگت، نقل و حمل کے اخراجات اور ٹرانشمین لائن بچھانا بہت مشکل اور وقت طلب کام ہے۔

صرف بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے کم از کم 15 ارب ڈالر چاہئیں جو کالا باغ ڈیم کے لیے درکار رقم سے تین گنا زیادہ ہیں۔

بھاشا ڈیم کے لیے 150 کلومیٹر طویل شاہراہ قراقرم تباہ کر کے نئے سرے سے دوبارہ بنوانی پڑے گی۔ جس کا اپنا خرچہ دیا میر بھاشا ڈیم جتنا ہی ہے اور جب تک اس کی تعمیر مکمل نہیں ہوگی سی پیک منصوبہ بھی معطل رہے گا۔

کچھ ایسی ہی مشکلات داسو ڈیم کے ساتھ بھی ہیں۔

بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے کم از کم 12 سال چاہئیں وہ بھی تب اگر فنڈز پورے ہوجائیں۔ جبکہ کالاباغ ڈیم تین سال کی مدت میں تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

۔ 3۔ پاکستان میں سب سے بڑے اور تباہ کن سیلاب مون سون کی بارشوں سے آتے ہیں۔ مون سون کی بارشوں سے آنے والے سیلابوں کا پانی صرف کالاباغ ڈیم ہی سنبھال سکتا ہے۔

بھاشا اور داسو ڈیم مون سون کی بارشوں سے آنے والے سیلاب سے بہت اونچائی پر ہیں اور اس معاملے میں قطعاً غیر موثر ہیں۔

۔ 4 ۔ بھاشا اور داسو ڈیم کو بھرتے بھرتے بھی دو تین سال چاہئیں کیونکہ ان کو صرف ایک ہی دریا کا پانی ملے گا۔

جبکہ کالاباغ ڈیم کو کئی دریاؤوں کا پانی ملے گا اس لیے فوری طور پر اس میں پانی ذخیرہ ہوجایا کرے گا۔

اب کالاباغ سے متعلق چند دلچسپ حقائق اور غلط فہمیاں

۔ 1 ۔ جس نوشہرہ کے ڈوبنے کا ڈھنڈورہ پیٹا جاتا ہے وہ کالاباغ ڈیم سے 190 کلومیٹر دور ہے۔ یاد رہے کہ اسلام اباد سے پشاور کا ڈائرکٹ فاصلہ 150 کلومیٹر ہے۔ 🙂
کالاباغ ڈیم جب پورا بھرا ہوا ہوگا۔ تو اس کی سطح سمندر سے 860 فٹ اونچی ہوگی۔ جبکہ نوشہرہ سطح سمندر سے بلندی 889 فٹ بلند ہے۔

کالاباغ ڈیم ٹوٹنے سے ڈیم کی پیک سے 30 فٹ بلند اور 190 کلومیٹر دور نوشہرہ کیسے ڈوبے گا؟ یہ کلیہ کوئی سیاستدان یا مولوی ہی سلجھا سکتا ہے۔

نوشہرہ کو ڈبونے جو سیلاب آیا تھا اس کی سطح 961 فٹ تھی۔ اس وقت ہمارے نادر روزگار اور ڈھیٹ قسم کے سیاست دانوں اپنی شرمندگی مٹانے کے لیےایک اور گمراہ کن بیان جاری فرمایا تھا کہ اگر کالاباغ ڈیم ہوتا تو نوشہرہ میں مزید تباہی آتی!

بھلا کیسے؟

کیسے پانی ڈیم کی بلند ترین 860 فٹ سے 190 کلومیٹر دور نوشہرہ میں 961 فٹ کی بلندی تک پہچتا؟ آخر کیسے؟؟

سچائی یہی ہے کہ نوشہرہ کی وہ تباہی ڈیم نہ بننےکی وجہ سے تھی جس پر وہ پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔

کچھ لوگ کالاباغ ڈیم کی وجہ سے صوابی کے بھی ڈوبنے کی بات کرتے ہیں۔

ان احمقوں سے عرض ہے کہ تربیلا ڈیم کی سطح صوابی سے 400 فٹ بلند ہے اور تربیلا کچا ڈیم ہے۔ لیکن ان 50 سالوں میں تربیلا سے تو صوابی کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ تو کالاباغ جیسے نچلی سطح کے پکے ڈیم سے کیسے نقصان ہوگا؟؟

۔ 2 ۔ کالاباغ ڈیم کا سب سے کم فائدہ اور سب سے زیادہ نقصان پنجاب کو ہے۔

کالاباغ ڈیم کے لیے پنجاب کی 24000 ایکڑ اور پختونخواہ کی صرف 3000 ایکڑ زمین استعمال ہوگی۔
اسی حساب سے زیادہ لوگ بھی پنجاب کے نقل مکانی کرینگے۔

لیکن فائدہ کی بات کی جائے تو صوبہ پنجاب اعلان کر چکا ہے کہ وہ وفاق سے ڈیم کی ایک روپیہ رائیلٹی بھی نہیں لے گا۔ یہ بہت بڑی قربانی ہے۔

اضافی بنجر زمین سب سے کم پنجاب کی سیراب ہوگی یعنی صرف 6 لاکھ ایکڑ۔ جبکہ سندھ 10 لاکھ ایکڑ، خیبر پختونخواہ کی 8 لاکھ ایکڑ اور بلوچستان کی 7 لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوگی۔

جو 3600 میگا واٹ بجلی بنے گی وہ مرکزی گرڈ میں شامل کی جائیگی۔

اس ڈیم سے سب سے زیادہ اور براہ راست فائدہ پختونخواہ اور دوسرے نمبر پر سندھ کا ہے۔

۔ 3 ۔ اگر ڈیم نہ بنے تو پاکستان کا جو صوبہ سب سے زیادہ اور پہلے تباہ ہوگا وہ سندھ ہے کیونکہ سندھ میں پاکستان بھر میں بارشوں کی شرح سب سے کم ہے۔

اگر ہمارے ڈیم نہ بنانے کی وجہ سے انڈیا دریائے سندھ کا رخ موڑ لیتا ہے تو پاکستان کا انحصار صرف بارشوں پر رہ جائیگا۔ پنجاب اور کے پی کے میں تھوڑی بہت بارش ہوجاتی ہے۔ جنزل ضیاء کے بنائے گئے کچھ چھوٹے بارانی ڈیمز بھی موجود ہیں۔
لیکن سندھ میں خدانخواستہ ایسا قحط آئیگا کہ لوگ بوند بوند کو ترس جائینگے۔
بارشیں ناپید ہیں، دریا خشک ہوجائیں گے تو سندھ میں صرف زیر زمین کھارا پانی رہ جائیگا جو آج بھی پینے کے لائق نہیں۔ سندھ مکمل طور پر صحرا میں تبدیل ہوجائیگا۔

دریائے سندھ پر جہاں بھی ڈیم بنے گا وہ سندھ کے لیے زندگی کی ضمانت ہوگا۔

۔ 4 ۔ سندھ میں سادہ لوح عوام کے زریعے آج بھی تربیلا ڈیم کا گالیاں دلوائی جاتی ہیں۔ لیکن چند سال پہلے سندھ خاص طور پر سکھر میں سیلاب نے جو تباہی مچائی تھی اس کی شدت کو تربیلا ڈیم نے ہی کم کیا تھا جب ڈھائی لاکھ کیوسک پانی تربیلا ڈیم نے اپنے اندر جذب کر لیا تھا ورنہ سندھ پہنچنے والا سیلاب کا ریلا 11 لاکھ کیوسک کی وجہ ساڑے 13 لاکھ کیوسک ہوتا جو غالب گمان ہے کہ سکھر بیراج کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا یوں آج سندھ کی ذراعت مکمل طور پر برباد ہوچکی ہوتی۔

۔ 5 ۔ کالا باغ ڈیم کا سب سے بڑا وکیل بھی ایک پشتون ہی ہے۔ شمس الملک صاحب 🙂 جو اتفاق سے سابق چیرمین واپڈا ہیں۔ یعنی ان کا کام ہی ڈیم بنوانا رہا ہے۔ کالاباغ ڈیم کو اس سے زیادہ کون سمجھتا ہوگا؟ وہ کہتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم مجھے کے پی کے کے لیے چاہئے۔

اور نہیں لکھتا بس ایک آخری نصیحت ۔۔۔۔

حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ جیحون، سیہون، دجلہ اور نیل جنت کے دریا ہیں۔ ان میں سیہون کے بارے میں گمان ہے کہ اس سے مراد دریائے سندھ ہے۔ ان چاروں دریاؤوں پر مسلمانوں کی بہت بڑی بڑی آبادیاں انحصار کرتی ہیں۔

دریائے سندھ پاکستان کے بیچوں بیچ گزرتا ہے اور سارا سال پانی سے بھرا رہتا ہے۔ اگر صحیح منصوبہ بندی کی جائے تو ایک دریا پورے پاکستان کے لیے کافی ہے۔

اس پر اللہ نے جس طرح جگہ جگہ ڈیم بنانے کی سہولت دی ہے۔ خاص طور پر کالاباغ جیسا بڑا، بنا بنایا اور پاکستان کے مرکز میں واقع ڈیم کسی نعمت سے کم نہیں۔

اس نعمت سے فائدہ نہ اٹھانا بدترین کفران نعمت ہے اور کفران نعمت کی سزا اللہ ضرور دیتا ہے۔

پہلے سیلاب کی شکل میں دی۔ ہم باز نہیں آئے۔
اب شائد قحط اور خشک سالی کی شکل میں دے گا جو ہمیں ہلاک کر دے گی۔

جن چھوٹے بڑے ڈیموں کی لمبی چوڑی فہرستیں پیش کی جاتی ہیں وہ ضرور بنائیں۔ لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی کالاباغ ڈیم کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here