کارگل پر پرویز مشرف کی سچائی انڈین مصنفین کی زبانی

0
961

وقت ہمیشہ بہترین منصف ہوتا ہے اج جنرل پرویز مشرف کی سچائی انڈین بیان کر رہے ہیں اور یہ ان لوگوں کے منہ پر تماچہ ہے جو کہتے ہیں کہ کارگل جنگ ہم ہار گئے تھے اور نواز شریف نے فوج کو بےعزتی سے بچایا

کتاب دی موسٹ ڈینجرس پلیس میں بھارتی مصنف شری ناتھ راگھون لکھتے ہیں

پاک فوج نے کارگل جنگ دراصل مقبوضہ کشمیر حاصل کرنے کیلئے لڑی تھی کتاب میں لکھا گیا ہے کہ 99-1998 کی شدید سردی میں پاکستانی فوجی جوانوں نے ایل او سی کے شمالی اور بھارت کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ پاکستان نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کمانڈنگ پوزیشن پر قبضہ کر کے بھارت کو للکارا۔ اگر یہ قبضہ برقرار رہتا تو پاکستانی فوجی اور کمانڈوز بھارت کے کئی علاقوں میں داخل ہو کر بھارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیتے ۔

پاکستان نے ایک خطرناک منصوبہ کے تحت اسلئے کیا کیونکہ اس نے مقبوضہ کشمیر میں بغاوت کرا کر اپنی افواج کو وہاں پر بھی اتارنا تھا۔ ایک پلاننگ کے تحت پاکستان نے وہ کام کر دکھایا جس کی کوئی توقع بھی نہیں کر سکتا تھا۔

امریکی خفیہ اداروں نے صدر بل کلنٹن کو کہا کہ وہ نواز شریف کو بلوا کر کہیں کہ وہ کارگل کا علاقہ چھوڑ دیں۔ کلنٹن انتظامیہ کو یہ بھی تشویش لاحق تھی کہ کہیں دونوں ممالک براہ راست ایک دوسرے پر حملے نہ شروع کر دیں ۔

پرویز مشرف نے کارگل پر چڑھائی سے پہلے چین اور کئی عرب ممالک کو اعتماد میں لے لیا تھا۔ امریکہ جان چکا تھا کہ جنگ کی صورت میں چین اور عرب ممالک پاکستان کیساتھ ہونگے جبکہ بھارت کی مدد روس اور اسرائیل کرینگے اور جنگ کے دوران ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بھی ہو سکتا تھا جس سے دونوں ممالک کے ہمسائے بھی متاثر ہوتے ۔

کتاب کے مطابق 3 جولائی 1999ء کو نواز شریف واشنگٹن گئے تو انکی عدم موجودگی میں مشرف نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا حکم بھی دیا تاکہ جنگ کی صورت میں بھارت پر بموں سے یلغار کی جائے ۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر سینڈی برگر نے صدر کلنٹن کو مشرف کے عزائم سے باخبر کر دیا ۔

چنانچہ نوازشریف اور کلنٹن ملاقات کے دوران امریکہ نے کہا کہ پاکستان کو فوراً کارگل سے فوج ہٹا لینی چاہئے ۔ امریکی دبائو میں آکر نواز شریف نے ایسا کرنے کے احکامات دیئے

حجاب رندھاوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here