ڈرون حملوں سے صرف وہ لوگ متاثر ہوتے ہیں جو دہشت گردوں کو اپنے گھروں پر لاتے ہیں ان کو معصوم نہیں کہا جا سکتا

0
258

پی ٹی ایم کے سرکردہ لیڈر محسن داوڑ نے 13 جولائی 2013ء کو ٹویٹ کیا کہ ۔۔

“PTMP”

اسی طرح 14 جولائی کو ٹویٹ کیا کہ ۔۔۔

” ہم شمالی وزیرستان میں آپریشن چاہتے ہیں، کیونکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رٹ قائم کرے اور اپنے لوگوں کی حفاظت کرے ” ۔۔۔

اس قسم کے بیانات اس وقت کے تمام لبرلز، سرخے اور سوشل میڈیا پر موجود گستاخان رسول جاری کیا کرتے تھے کیونکہ اس وقت یہ سارے اس بڑے مشن کا حصہ تھے کہ فاٹا میں دہشت گردوں کو اتنا مضبوط کیا جائے کہ پاک فوج کے پاس جنگ کے سوا کوئی چارہ نہ رہے اور فوج وہاں پھنس کر رہ جائے۔

لیکن ہوا یہ کہ پاک فوج وہاں غالب آگئی اور دہشت گردوں کو اکھاڑے میں کامیاب رہی۔
زیادہ بڑا نقصان یہ ہوا کہ دہشت گرد اور ان کے نظریات بری طرح سے ایکپسوز ہوگئے اور عام لوگوں کے علاوہ علماء بھی ان سے بدظن ہوگئے۔

بلوچستان کی بی ایل اے اور کراچی کی ایم کیو ایم کی کمر بھی ٹوٹ گئی۔

تب پشتونوں کو لبرل ازم کے جھنڈے تلے استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا تاکہ عالمی سطح پر بھی انکی حمایت کی جا سکے نیز بوقت ضرورت ان کی ” فوجی مدد ” کا آپشن بھی کھلا رہے۔
اس کے لیے پشتونوں کو انہی ڈرون حملوں اور آپریشنز کے خلاف ابھارنے کا فیصلہ کیا گیا جن کی فرمائش یہ لبرلز اور ” مدد ” کرنے والی عالمی طاقتیں خود کرتی رہیں اور اچانک اس کو پشتونوں پر ظلم قرار دینا شروع کر دیا۔

بہت سے پشتون ان کی ان قلابازیوں کو سمجھ کر ان سے اپنی نفرت اور بے زاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ خاص طور پر یہ دیکھ کر کہ تمام شیطانی قوتیں پی ٹی ایم کی پشت پر ہیں۔

پشتونوں کی اسی بے زاری کو دیکھتے ہوئے پسکین تحریک کے پسکین لیڈر نے بیان جاری فرمایا ہے کہ ” اگر کوئی پی ٹی ایم کی حمایت کرتا ہے تو ضروری نہیں کہ پی ٹی ایم بھی اسکی حمایت کرے”

پتہ نہیں یہ کسے بے وقوف بنا رہے ہیں 🙂

بھئی جن لوگوں سے پشتون اظہار نفرت کر رہے ہیں وہ پی ٹی ایم کی ” حمایت ” نہیں کر رہے بلکہ پی ٹی ایم کو چلا رہے ہیں۔ جن کے سامنے آپ کی حیثیت محض ایک کٹھ پتلی کے سوا کچھ نہیں۔

ورنہ گلالئی اسمعیل، محسن داؤڑ اور رحمت اللہ محسود جیسوں کو اپنی تحریک سے الگ کر کے دکھا دو۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here