ڈرامے باز خاندان ۔۔۔۔۔۔۔

0
1136

ڈرامے باز خاندان ۔۔۔۔۔۔۔ !

لندن جی پی کینسر کی تشخیص میں کم از کم 14 دن لگاتا ہے۔
پرائیویٹ ڈاکٹرز بھی سارے ٹسٹس کرنے اور کسی نتیجے پر پہنچنے میں ہفتہ لگا دیتے ہیں۔ 
اور خدانخواستہ کینسر تشخیص ہوجائے تو فوراً کیمو تھراپی اور بقیہ علاج شروع کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس بیماری میں وقت ضائع کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

لیکن محترمہ کلثوم نواز ایک دن لندن پہنچیں اور اگلے دن اسکے کینسر کی تشخیص ہوگئی۔

اور اس سے اگلے دن بجائے کیموتھراپی کے موصوفہ سیر سپاٹوں میں مشغول ہوگئیں اور لندن کے مختلف علاقوں میں فوٹو گرافی کرتی پائی گئیں۔

یہ کیسا کینسر ہے بھئی ؟؟

کلثوم نواز کا کینسر دیکھ کر نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری یاد آگئی۔ وہ بھی میڈیکل کی تاریخ کا ایک معجرہ تھا۔

میرے خیال میں یہ بوقت ضرورت نواز شریف کو باہر بلوانے کا ایک بہانہ تراشا گیا ہے۔ دو دن پہلے خواجہ سعد رفیق نے دبے لفظوں میں کہا کہ نواز شریف کو کلثوم نواز کی عیادت کرنے جانا چاہئے۔

آپ دیکھ لیجیے گا جوں ہی یہاں نواز شریف پر دباؤ بڑھے گا یا ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا وہاں کلثوم نواز فوراً بستر پر لیٹ جائینگی جس کے بعد ن لیگیوں کی طرف سے انسانی ہمدردی کا رونا پیٹنا شروع ہوجائیگا۔

ڈرامے کرنے کی صلاحیت محترمہ میں قدرتی ہے آخر وہ مریم نواز کی ماں ہیں اور نواز شریف کی پارٹنر۔ موصوفہ نے حسن اور حسین نواز کی جو تربیت کی ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہیں اس لیے ۔۔۔۔۔

اب دیکھتے ہیں یہ ” کینسر ” نواز شریف کی جان بچاتا ہے یا نہیں ۔۔۔ !

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here