ڈاکٹر شکیل آفریدی اور کرنل سعید اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔  حصہ اؤل 

0
564

ڈاکٹر شکیل آفریدی اور کرنل سعید اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔  حصہ اؤل 

ڈاکٹر شکیل آفریدی نے سی آئی اے کے حکم پر اسامہ بن لادن کی موجودگی کی حتمی تصدیق کیلئے انسداد پولیو ویکسی نیشن کی جعلی مہم چلائی جس کی آڑمیں اسامہ بن لادن کے کمسن بچوں کے خون کے نمونوں کو حاصل کر کے (ڈی این اے) ٹیسٹ کے لیے سی آئی اے کے حوالے کیا۔

اس کو تورخم بارڈر پر افغانستان فرار ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

شکیل آفریدی کو قبائلی علاقے خیبر ایجسنی میں منگل باغ کے شدت پسند گروپ کو مالی مدد دینے کے علاوہ اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کا علاج کرنے اور اس تنظیم سے تعاون کی بنیاد پر چار مختلف الزامات میں 33 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں بعد میں دس سال کی تخفیف کر دی گئی۔

شکیل آفریدی پر منگل باغ کے ذریعے ایک شخص کو قتل کرانے کا الزام بھی ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی اور کرنل سعید اقبال حصہ دوم

امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ شکیل آفریدی کو اپنا ہیرو قرار دیتے ہیں اور اسامہ بن لادن کے سر پر رکھے انعام کا حقدار۔ انہوں نے شکیل آفریدی کی رہائی کے لیے پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالا اور پاکستان کے 33 ملین ڈالر بھی روک لیے۔ جواباً اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی ظہرلااسلام عباسی نے اعلان کیا کہ امریکہ شکیل آفریدی کو بھول جائے۔

سی آئی اے کے لیے جاسوسی کرنے پر شکیل آفریدی کو پاکستان بھر میں غدار قرار دیا جاتا ہے اور اکثر اس کو پھانسی دینے کے مطالبے کیے جاتے ہیں۔

ریٹائرڈ کرنل سعید اقبال ان دنوں کمپری ہینسو سیکیورٹی کمپنی کے نام سے ایک بہت بڑی نجی سیکیورٹی کمپنی چلا رہا تھا۔ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد وہ بھی شک کی زد میں آیا تاہم تحقیقاتی کمیشن نے ان کے حوالے سے مکمل تفتیش کرنے کے بعد ان کو کلئر قرار دے دیا تھا۔ البتہ تحقیقات مکمل ہوتے ہی کرنل سعید اقبال اپنا سارا بزنس فروخت کر کے ملک چھوڑ گیا۔

امریکہ نے کبھی اعتراف نہیں کیا کہ کرنل سعید اقبال نے ان کے لیے کام کیا ہے نہ ہی کبھی اسامہ کے سر پر مقرر انعام ان کو دینے کا اعلان کیا۔ حالانکہ امریکہ ایسے لوگوں کو بھاری انعامات اور اعزازات دے کر پوری دنیا میں اپنے وفاداروں کے لیے مثال بناتا ہے۔

کرنل سعید اقبال کے حوالے سے اسامہ کی مخبری اور امریکہ سے انعام لینے کا دعوی سب سے پہلے پاک فوج کی مخالفت کے لیے مشہور جنگ گروپ کے اعزاز سید نامی صحافی نے 2015ء میں اپنی کتاب میں کیا اور نجم سیٹھی کو ایک انٹرویو میں بھی یہی بات دہرائی۔

چند اور مشکوک قسم کے دعوؤں کے ساتھ اسی قسم کا دعوی سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی نے انڈیا میں چھپنے والی ایک کتاب میں بھی کیا۔ تاہم اس نے کرنل سعید اقبال کا نام نہیں لیا۔

پھر یہی دعوی دو دن پہلے اسد کھرل نامی صحافی نے بھی کیا۔ تاہم اس نے وہی بات دہرائی جو اعزاز سید 2015ء میں کر چکا تھا۔ اسد کھرل نے یہ نہیں بتایا کہ اعزاز سید کے علاوہ ان کے پاس اس خبر کا کوئی اور سورس آف انفارمیشن ہے یا نہیں۔
خیال رہے کہ یہ وہی اسد کھرل ہیں جس نے زینب کے قاتل کے سو سے زائد اکاونٹس ہونے کی خبر چلائی تھی جو جھوٹ ثابت ہوئی تھی۔

کرنل سعید اقبال کے حوالے سے سوائے سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں، اسد کھرل کی ٹویٹ اور جنگ گروپ کے اعزاز سید کے دعوے کے سوا کوئی ٹھوس حوالہ موجود نہیں۔

تاہم میرے خیال میں اس پر دوبارہ تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی اور کرنل سعید اقبال حصہ دوم

امریکہ شکیل آفریدی کو کسی بھی قیمت پر واپس مانگ رہا ہے۔
شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کرنے کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں یہ دوسرے حصے میں ان شاءاللہ

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here