چوری کرنا، جھوٹ بولنا اور پھر اس پر ڈٹ جانا، آپ کی نظر میں لائق تحسین ہے؟

0
655

دانش گرد ۔۔۔۔۔۔۔ !

سچ ہے، لکھنا نہیں جانتا
نہ ذومعنی اور کاٹ دار طنز کرنے کی اہلیت ہے
نہ ہی آپ جیسی عقل و دانش
اور یقیناً آپ جتنا علم بھی نہیں

ٹوٹا پھوٹا لکھتا ہوں، سادہ سا مقصد ہوتا ہے اسلام اور پاکستان کا نظریاتی دفاع،

لیکن عقل و دانش کے ان پیکروں کے بارے میں کیا خیال ہے؟

خورشید ندیم سرکاری تجزیہ نگار ہیں، خود کو اسلامی سکالر کے طور پر پیش کرتے ہیں اور گفتگو اسلامی حوالوں سے خالی نہیں ہوتی۔

کچھ عرصہ قبل مضمون لکھا کہ “سائنسدان جینیٹک سائنس کے ذریعے بغیر سینگ کے گائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوچکے اب مذہب کا کیا ہوگا ” ۔۔۔۔۔
مضمون میں مذہب کے اہم ترین دعوے ” خدا کی تخلیق” کو خطرے میں قرار دیا کہ انسان بھی تخلیق کرنے کے قابل ہوچکا۔

جینیٹک سائنس کیا ہے؟

جینز کی پیوند کاری،
اس میں تخلیق کہاں سے آگئی؟
قلمی آم لگانے کے بعد کیا انسان نے تخلیق کی صلاحیت حاصل کر لی اور مذہب خطرے میں پڑ گیا؟
جینٹک سائنس میں ذرا مائیکرو لیول پر پیوند کاری کی جاتی ہے بس۔

دو دن پہلے موصوف نے ایک اور مضمون لکھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ ” پانامہ اور تمام تر کیسز کے باؤجود نواز شریف ڈٹے ہوئے ہیں اور مخالفین میں مایوسی ہے، اور کسی بڑے لیڈر کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ مشکل وقت میں اپنے حواس بھی قابو میں رکھتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو بھی ” ۔۔۔۔

کیا واقعی؟

غلط اور صحیح بھی کوئی شے ہوتی ہے کہ نہیں؟؟

چوری کرنا، جھوٹ بولنا اور پھر اس پر ڈٹ جانا، آپ کی نظر میں لائق تحسین ہے؟

کیا غلط بات پر ڈٹ جانے کو ڈھٹائی نہیں کہا جاتا؟؟

لیڈر کے لیے سچائی، ایمانداری اعلی اخلاق و کردار کی کوئی وقعت ہے کہ نہیں؟

ایک اور ہیں ساجد علی صاحب۔
موصوف نے ” اسلامی تاریخ کے کچھ دلچسپ گوشے” کے عنوان سے لکھا۔
خلاصہ یہ کہ ” حضرت امیر معاویہ(ر) نے رومی بادشاہ کو جو خط لکھا کہ حملہ کیا تو علی(ر) کے جھنڈے تلے لڑونگا، مشکوک ہے کیونکہ رومی تاریخ دان اس حوالے سے کہتے ہیں کہ عیسائیوں کو حضرت امیر معاویہ نے خراج دینا شروع کر دیا تھا “
یہ بھی لکھا کہ “فلاں اموی خلیفہ کے بھی خراج دینے کا تذکرہ ہے جو غالباً وہی تھا جس کا آغاز حضرت امیر معاویہ کے دور میں ہوا “

آخر میں لکھا کہ ” یہ وہ کام ہے جس کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمارا تاریخی فہم درست بنیادوں پر استوار ہو سکے اور ہم واقعات کا درست تناظر میں جائزہ لے سکیں”

یہ کیسا فہم ہے اور یہ کس کام آتا ہے؟

میرا فہم تو یہ کہتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ والا یہ واقعہ ان کے خلاف ایک مسلک کے دلوں میں نفرت کم کرسکتا ہے، جس سے خود بخود دو مسالک میں موجود لڑائی کی شدت کم ہوگی۔
اور آپ اسی واقعے کو باطل ثابت کرنے پر تلے ہیں کیوں؟؟

اگر آپ لوگوں کی تمام تر عقل، دانش، فہم و فراست اور علم و تحقیق کا نچوڑ یہی ہے کہ ۔۔۔
محض بغیر سینگ کے گائے پیدا ہونے پر آپ کا ایمان ڈگمگا جائے،
چوری اور جرم پر ڈٹ جانے والا لیڈری کے لائق ٹہرے،
ایسے واقعات کو غلط ثابت کرنا جس سے مسلمانوں میں جھگڑا کم ہو یا ان کی عظمت واضح ہوتی ہو،

تو میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی فہم و دانش پہ ۔۔۔۔۔۔ !

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔۔۔۔۔ اعلی معلوماتی مضامین کے لیے ابھی پلے سٹور سے

Related Pakistan

نامی ایپ انسٹال کیجیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here