چند مشہور افغان فاتحین کا تعارف

0
149


چند مشہور افغان فاتحین کا تعارف

داریوش پہلا عظیم افغان فاتح تھا۔
داریوش نے 550 قبل از مسیح افغانستان فتح کیا تھا اور وہ ایران سے آیا تھا۔

سکندر اعظم دوسرا عظیم افغان فاتح تھا۔
سکندر اعظم نے تقریباً 330 قبل از مسیح افغانستان فتح کیا اور یہاں سے داریوش حکومت کا خاتمہ کیا۔ سکندر اعظم یونان سے آیا تھا۔

سکندر اعظم کی وفات کے بعد اس کے جنرل سیلیکس نے افغانستان پر قبضہ جما لیا۔ وہ بھی اپنے وقت کا ایک عظیم افغان حکمران اور فاتح ثابت ہوا۔ سیلیکس بھی یونانی تھا۔

ڈیوڈوٹس ون بھی ایک عظیم افغان فاتح تھا جس نے 250 قبل از مسیح سیلیکس کو شکست دے کر افغانستان پر قبضہ کیا۔ ڈیوڈوٹس بھی یونان سے آیا تھا۔

ان کی حکومت کا خاتمہ یوژری قبائل نے کیا۔ جنہوں نے یونانیون کو شکست دے کر افغانستان پر قبضہ کیا۔ یوژری نامی یہ عظیم افغان فاتحین چین سے آئے تھے۔ یہ 130 قبل از مسیح کی بات ہے۔

اس کے بعد دوبارہ کچھ ایران سے کچھ افغان فاتحین آئے لیکن وہ سب نئے عظیم افغان فاتح چندر گپت موریا سے شکست کھا گئے جس نے سب کو شکست دے کر افغانستان کو فتح کر لیا تھا۔ چند گپت موریا پنجاب سے آیا تھا۔

گوتمی پترا سکرنی بھی عظیم افغان فاتح تھا۔ موجودہ انڈیا دکن سے آیا تھا اور افغانستان پر کچھ عرصہ کے لیے حکومت کی۔ یہ تقریباً 100 سال بعد از مسیح کا دور تھا۔

اس کے بعد عظیم افغان فاتح گند فر نے افٖغانستان فتح کیا۔ آپ کا تعلق ایران سے تھا۔ یہ بھی 100 سال بعد از مسیح کا دور تھا۔

ان کے بعد کوجولو کادی فیسس نامی عظیم الشان افغان فاتح آیا اور افغانستان فتح کر کے یہاں پر کوشان سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ عظیم افغان فتح بھی نسلاً چینی تھا۔

افغانستان پر قابض کوشان سلطنت کا خاتمہ عظیم افغان فاتح شاہ پور اول نے کیا۔ شاہ پور اول ایران سے آیا تھا جس نے یہاں افغانستان میں ساسانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ کئی مورخین کے نزدیک شاہ پور اؤل ہی وہ بادشاہ ہے جس کے دور میں پہلی بار اس خطے کے رہنے والوں کے لیے لفظ “ابگان” استعمال ہوا۔ یہ سن 270ء کا دور تھا۔
ساسانی سلطنت کا خاتمہ وسطی ایشیا سے آکر افغانستان فتح کرنے والے ہونا قبائل کے ہاتھوں ہوا۔

کئی سو سال تک افغانستان عظیم ایرانی افغان اور وسطی ایشیائی افغان فاتحین کے درمیان سینڈوچ بنا رہا۔ کہ سن 500 میں اسلام کا ظہور ہوا۔ عربوں نے ایران فتح کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے کئی علاقون کو فتح کر لیا۔
وہ صحابہ یا تابعین کا دور تھا جو علاقے فتح کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام بھی پھیلاتے رہے لیکن افغانستان میں انہیں اس حوالے سے ایک شدید مشکل پیش آئی۔
کئی مورخین کے مطابق افغانستان کے علاقوں ہرات اور سیستان میں عرب مجاہدین اسلام پھیلاتے۔ مقامیوں کو حکومت حوالے کرتے۔ لیکن جیسے ہی ان کا کنٹرول کمزور ہوتا مقامی (افغانی) دوبارہ اپنے پرانے عقائد کی جانب لوٹ جاتے۔
مسلمان عرب فاتحین نے افغانستان میں ہندو شاہی نامی حکومت کا خاتمہ کیا جو مشہور افغان ہندؤوں کی حکومت تھی اور موجودہ انڈیا سے آئے تھے۔

عربوں کا افغانستان پر کنٹرول ختم کرنے اور افغانستان میں عظیم خود مختار ریاست بنانے کا کارنامہ مشہور عظیم افغان فاتح سبکتگین کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ سبکتین ترک تھا۔ یہ 970ء کا دور تھا۔

محمود غزنوی نامی عظیم افغان فاتح کو کون نہیں جانتا۔ نہ ہی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اس نے ہندوستان پر سترہ کیا کیے تھے۔ 🙂 محمود غزنوی سبکتگین کا بیٹا تھا اور نسلاً ترک تھا۔

محمود غزنوی نامی افغان ترک کی عظیم سلطنت کا خاتمہ ایک دوسرے عظیم افغان فاتح شہاب الدین غوری کے ہاتھوں ہوا جو پشتو زبان بولتا تھا اور نسلاً تاجک تھا۔ یہ 1200ء کا دور تھا۔

اس کے بعد افغانستان عظیم افغان فاتح چینگیز خان کے ہاتھوں فتح ہوا۔ جس نے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کی۔ چینگیز خان منگول تھا۔ یہ 1220ء کا دور تھا۔

عظیم افغان حکمران جلال الدین خلجی اور علاؤالدین خلجی نے بھی افغانستان کے کچھ حصوں کو کچھ عرصہ کے لیے فتح کیا۔ خلجی نسلاً ترک تھے اور ان کا پایہ تخت دہلی تھا۔

منگولوں کی حکومت کا خاتمہ مشہور افغان فاتح تیمور کے ہاتھوں ہوا۔ تیمور وسطی ایشیاء سے آیا تھا اور نسلاً ترک منگول تھا۔

افغانستان 1540ء میں عظیم افغان فاتح بابر کے ہاتھوں دوبارہ فتح ہوا۔ بابر بھی تیمور کی ہی نسل سے تھا۔ تیمور اور بابر دونوں ازبکستان سے آئے تھے۔

مشہور افغان فاتح ابراہیم لودھی نے بھی کچھ عرصہ افغانستان پر حکومت کی تھی۔ آپ پشتون تھے اور افغانستان فتح کرنے ملتان سے تشریف لے گئے تھے۔

اس کے بعد 1730ء میں مشہور افغان فاتح نادر شاہ درانی نے افغانستان پر دھاوا بولا اور ایران کے خلاف بغاوت کرنے والی ہوتکیوں کا قلع قمع کیا۔ نادر شاہ ایران سے تشریف لائے تھے۔

افغانستان پر 1750ء کے بعد مشہور افغان فاتح احمد شاہ ابدالی یا احمد شاہ درانی نے حکومت کی۔ آپ نسلاً پشتون تھے اور ملتان میں پیدا ہوئے تھے۔

سیمول براؤن بھی مشہور افغان فاتح ہیں۔ انہوں نے 1890ء میں افغان حکمرانوں کو شکست دے کر ان کو اپنا وظیفہ خوار بنایا۔ آپ کا تعلق انگلینڈ سے تھا۔

میخائیل گورباچوف بھی عظیم افغان فاتح تھا۔ آپ کا تعلق روس سے تھا۔ میخائیل گورباچوف نے پانچ لاکھ فوج کی مدد سے افغانستان پر قبضہ کیا تھا۔ یہ 1980ء کا دور تھا۔

اس کے بعد آخری حملہ عظیم افغان فاتح جارج ڈبلیو بش نے کیا اور سن 2001ء میں افغانستان پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ یہ اس فہرست کا آخری افغان فاتح حکمران ہے۔

نوٹ ۔۔ اس کا امکان ہے کہ کوئی افغانی آخری تین افغان فاتحین پر یہ اعتراض کر دے کہ وہ نسلاً افغان نہیں تھے یا کہیں اور سے آکر افغانستان پر حملہ آور ہوئے تھے۔ اگر یہ اعتراضات مان لیے جائیں تو اس فہرست میں کوئی بھی نہیں بچے گا۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here